Wed, September 16, 2026

’’سد بلھے نوں میری دھمال ویکھے‘‘

’’سد بلھے نوں میری دھمال ویکھے‘‘

اکھ کھولی تے دُکھاں دے جال ویکھے
اُتوں ہنڈدے جندڑی نال ویکھے
اک دن سی ہجر دا سال ورگا
اسیں دن نئیں سالاں دے سال ویکھے
تُونہہ کیڑے دے رزق دی سوچ ربا
اسیں بُھکھ توں وکدے بال ویکھے
اسیں ویکھیا لہو دا رنگ چٹا
اسیں پُھل کپاہواں دے لال ویکھے
میں نچیاں جگ دے سُکھ پاروں
سد بُلھے نوں میری دھمال ویکھے
ایس جھلے کلیم نوں روک دلا
ایہنوں آکھ سُو ویلے دی چال ویکھے
5 نومبر 2022 ء کی بات ہے چھانگا مانگا کے شادی ہال میں تجمل کلیم کی صدارت میں مشاعرہ اپنے عروج پہ تھا شدید علالت کے باوجود تجمل کلیم کلام شاعر بزبان شاعر پیش کر کے سامعین سے خوب داد وصول کر رہے تھے اور مجمع عش عش کر رہا تھا
جیون رُکھ نوں ہتھیں ٹکے نہ مارو
ساہ دے دانے چبو، پھکے نہ مارو
بال کھڈونے ویہندا اے تے کیہ ہویا
آپے ٹر جاوے گا، دھکے نہ مارو
حرصاں اگے موت دہائیاں دیندی رہی
ریفل اگے ویر جے سکے نہ مارو
جت لینا تے کھوہنا اک برابر نئیں
دُکیاں نال تے ساڈے یکے نہ مارو
سارے یار کلیم جی لوبھی نئیں ہندے
دل نوں جندرے پکے پکے نہ مارو
تجمل کلیم محکمہ ایجوکیشن سے بھی وابستہ رہے، محکمہ ایجوکیشن سے فراغت کے بعد میری پہلی ملاقات تھی۔ چھانگا مانگا سے تجمل کلیم کے شہر چونیاں ہر روز آنا جانا ہوتا ہے مگر سچی بات یہی ہے کہ اندازہ نہیں تھا کہ تجمل کلیم دنیائے پنجابی ادب کا اتنا بڑا شاہسوار بن کر ابھرے گا بلکہ عہد حاضر کی پنجابی کے سب سے بڑے شاعر بن جائے گا۔
1992ء میں تجمل کلیم نے پنجابی شاعری کا آغاز بطور چیلنج قبول کیا بقول انکے اسکی وجہ مرحوم منیر نیازی نے پنجابی زبان کے بارے میں کہا تھا کہ پنجابی زبان میں جدید غزل نہیں کہی جا سکتی۔ وہ ماں بولی کی توہین برداشت نہ کر پائے، انہوں نے اسی دن اردو غزل چھوڑ کر پنجابی غزلیں کہنا شروع کردیں،انہوں نے پنجابی شاعری میں جدت اور فکری وسعت کی جد و جہد مزید تیز کر دی، تجمل کلیم نے اپنی شاعری کے ذریعے پنجابی زبان اور ثقافت کا ترجمان بن کر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر شہرت پائی، تجمل کلیم کی شاعری میں پنجابی عوام کی روزمرہ کی زندگی، دکھ، سکھ اور معاشرتی مسائل کی عکاسی ملتی ہے۔ انہوں نے پنجابی غزل کو نئی جہتیں عطا کیں اور اسے عوامی سطح پر مقبول ترین بنایا۔ ان کی شاعری میں سادگی اور گہرائی، دکھ اور جمالیات کا ایک حسین امتزاج پایا جاتا تھا جو قاری کو متاثر کرتا تھا۔ انکی شاعری کا نقطہ کمال یہ تھا کہ وہ عام فہم، سادہ اور دلنشین ہوتی انہوں نے پنجابی شاعری کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے عوام میں روشناس کرایا، زبان کی سادگی لہجے کی نفاست اور محبت سے لبریز قلم نے پھر جو بھی لکھا لوگوں کو اسیر کرتا چلا گیا۔
ویسے یہ ریت تو ہماری بہت پرانی ہے کہ ہم نے زندہ لوگوں کی انکی زندگی میں کبھی قدر نہیں کی، جہان فانی چھوڑنے کے بعد ہم نے ان کے لیے اعزازات اور ایوارڈز اور تقریبات تو رکھیں مگر اس وقت چڑیاں چگ گئیں کھیت کے مصداق وقت گزر چکا ہوتا ہے اور کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔
تجمل کلیم صحت کی صعوبتوں کا طویل عرصہ جرأتمندی سے مقابلہ کرتے رہے کبھی حالات کی ستم ظریفی اور کبھی صاحبان اقتدار کا ظلم برداشت کیا۔ اس مرد درویش اور نئی ریت کے ممتاز صاحبِ اسلوب، پنجابی کے نمائندہ شاعر کے ساتھ ہمارے سماج نے کوئی قابل فخر سلوک نہیں کیا۔ تجمل کلیم نے ساری زندگی ایک چھوٹے سے کمرے میں گزار دی اور کبھی حکومتوں، سیاستدانوں، وزیروں مشیروں کیلئے اپنے قلم کو جنبش نہ دی ورنہ شاید یہ بھی حکومتوں کے منظور نظر ہوتے۔
تجمل کلیم نے صرف اور صرف پنجابی سے عشق کیا وہ ایک باکردار،خود دار اور زندہ ضمیر انسان تھے تجمل کلیم بڑی جرأت اور بے باکی کے ساتھ موت کو پکارتے ہوئے 22 مئی 2025 ء کو داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔
مرن توں ڈردے او بادشاہو
کمال کردے او بادشاہو
کسے نوں مارن دا سوچدے او
کسے تے مردے او بادشاہو
تُسی نا پاؤ دِلاں تے لوٹی
تُسی تے سَردے ہو بادشاہو
اے میں کھڈاری کمال دا ہاں
کہ آپ ہَردے او بادشاہو
کلیم ککھاں توں ہَولے او نا!
تدے ای تردے او بادشاہو
ضرورت اس امر کی ہے کہ تجمل کلیم کی شاعری پنجابی ادب کا قیمتی سرمایہ ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہے اسے کتابی شکل میں نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ انکے نام پہ کسی جامعہ یا شاہراہ کو منسوب کیا جائے، کسی قومی سرکاری املاک کا نام تبدیل کر کے انکے نام پہ رکھا جائے تاکہ اہل قلم اور اہل علم کو اندازہ ہو کہ وطن عزیز کی غیور قوم ہماری قدر جانتی ہے۔
ہمارے پرانے مہربان دوست مظہر سلیم حجازی آج مطالبہ کر رہے تھے کہ اکیڈمی ادبیات پاکستان تجمل کلیم کے ورثا کی کفالت کا بندوست کرے تو میں نے انہیں عرض کی کہ حضور جنہوں نے تجمل کلیم کی زندگی میں کبھی انکی خبر نہیں لی اب وہ انکے ورثا کی کفالت کا اہتمام کریں گے؟ کفالت اللہ کریم کے سپرد ہی رہنے دیں وہ بہترین مسبب الاسباب ہے۔
دنیا بھر میں پھیلے ہوئے حلقہ تجمل کلیم کے احباب سے اظہار تعزیت۔۔۔
دن تے گن میں مر جانا ای
تیرے بن میں مر جانا ای
میں گُڈی دے کاغذ ورگا
توں کن من میں مر جانا ای
جیہڑے دن تُونہہ کنڈ کرنی اے
اوسے دن میں مر جانا ای
میرے قد نوں تول ریہا ایں
تول نہ، من میں مر جانا ای
جان دی بولی لا دتی اُو
اک دو تن میں مر جانا ای

ٹیگز: