تقطیب (Polarization) و باہم دست وگریبان معاشرہ۔ جس میں ایک خاص ایجنڈا کے تحت مایوسی و ناامیدی پھیلائی جارہی تھی۔ 10 مئی 2025ء کو اللہ کی توفیق سے ایسا معجزہ رونما ہوا کہ پاکستانی قوم کے چہرے کِھل کھلا اْٹھے۔گلیوں بازاروں میں تکبیر کی صدائیں بلند ہوتی سنی گئیں اور پاکستانی قوم جشن مناتی نظر آئی۔ ایسے وقت میں جب سیاست اور دیگر اداروں میں مداخلت نے پاکستان کی فوج کو متنازعہ بنا کررکھ دیا تھا۔فوج بارے دشمن کا ایجنڈا اور نفرت پھیلانے کے لیے اربوں کی سرمایہ کاری ڈوب گئی۔ وہ سیاسی گروہ جو فوجی اسٹیبلشمنٹ کی گود میں بیٹھ کر پروان ہی نہ چڑھا بلکہ ایوان اقتدار میں داخل ہوا۔ جس کے قائد ادارے کی بے جا مداخلت اور غیرآئینی اقدامات کے حق میں بلند آہنگ میں بولتے تھے۔ عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے اقتدار سے رْخصت کیا ہوا کہ کل تک اْن کو جو خوب لگتا تھا وہ نا خوب بنتا گیا۔اقتدار سے رْخصتی کو امریکی سازش قرار دینے والوں کے حق میں امریکی کانگریس میں قراردادیں کیا پاس ہوئیں کہ اْن کا ملجا و ماوا امریکہ بن گیا۔ فلسطینی کٹتے رہے، کشمیر میں آگ و خون کی ہولی کھیلی جاتی رہی مگر کروڑوں ووٹ لینے والی جماعت کے جیل میں بند راہنما یا اْن کے پارلیمان میں موجود راہنماؤں نے امریکہ، اسرائیل اور ہندوستان کیخلاف مذمت کا ایک لفظ تک نہ بولا۔
خرابیوں کی بنیاد تو پاکستان کے قیام کے فورا بعد ہی رکھ دی گئی تھی۔ سیاسی جماعتوں کے باہمی اختلافات اور متصادم پالیسی کا فائدہ فوجی آمر اٹھاتے رہے۔ تقسیم اور چیلنجز کے شکار معاشرے کو خرابیوں کی بلند سطح پر لے جانے میں اْن فوجی جرنیلوں کا کردار تھا جن کی سطحی سوچ نے اس شخص اور گروہ کو اقتدار بخشا جو مکمل نرگسیت کا شکار تھا اور ہے۔ جن کے نزدیک صرف وہ نیک و پاکباز اور محب وطن ہیں باقی سب گناہ گار اور ملک دشمن۔ فوجی جرنیلوں کی پہاڑ ایسی غلطیاں اپنی جگہ مگر یہ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہے کہ سرحدوں پر موجود سپاہی قربانیاں نہ دیں تو ملکی سلامتی یقینی کیسے بنے؟ فوجی جرنیلوں اور باریاں لگا کر اقتدار میں آنے والے سیاسی گرو نے غریب کی زندگی بدلی نہ ملک ترقی کر سکا۔
غریب کے دن بدلنے یا اس کے بچوں کے لیے تعلیمی سہولت عام کرنے کے لئے سیاستدانوں نے کسی منصوبہ بندی کیساتھ پیش رفت نہ کی۔ ایسے ماحول میں غیر ملکی فنڈز کے ذریعے جعلی سرویز جاری کرائے گئے کہ لوگوں کی اکثریت پاکستان چھوڑنا چاہتی ہے۔ ایسے ماحول میں 10مئی، قیام پاکستان کے بعد ایک بار پھر رب کے بڑے احسان اور معجزے کے طور پر رونما ہوا۔ دس مئی کے بعد قوم کو جہاں نئی اْمنگ ملی وہیں سیاستدانوں میں مقابلہ خوشامد شروع ہوگیا کہ کون اس میں میدان مار کر اپنا سیاسی مستقبل روشن کرتا ہے۔
متحرک ترین سیاسی راہنما جناب حافظ نعیم الرحمن جو اپنی شبانہ روز کی جدوجہد کے نتیجے میں کراچی کی آواز بن گئے۔ جنھوں نے ایک عرصہ بعد مخالفین کے اس طعنے کہ ’’لوگ جماعت اسلامی کو ووٹ نہیں دیتے‘‘ کو رد کر دیا۔ حافظ صاحب کی کوششوں سے جماعت اسلامی بلدیاتی انتخابات جیت گئی مگر پسِ چلمن قوتوں نے عوامی مینڈیٹ کے خلاف اقتدار انھیں بخشا جو میدان ہار گئے تھے۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان بننے کے بعد حافظ نعیم الرحمن لوگوں پر بجلی بن کر گرنے والے بھاری بل بموں کیخلاف آواز بن گئے۔ جلسے جلوس اور دھرنوں کے ذریعے بل کم کرانے میں وہ کسی نہ کسی حد تک کامیاب ہوئے۔ ایک طرف وہ یہ تحریک چلا رہے تھے تو دوسری طرف نوجوانوں کو بہتر مستقبل کی راہ پر ڈالنے کے لئے بنو قابل کی ہر دلعزیز مہم میں مصروف تھے۔ انجینئر نعیم الرحمن کی یہ جدوجہد اور غیر آئینی اقدامات کیخلاف آواز جرنیلوں کو پسند تھی نہ سیاستدانوں کو۔
ہندوتوا کے پْجاری اور پاکستان کے دشمن مودی نے اپنے فلسفے و نظریے کو پروان چڑھانے کے لئے پاکستان پر وار کیا تو حافظ نعیم الرحمن مزاحمت کی توانا آواز بن گے۔ سارے سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے وہ اپنی حکومت اور سپاہ کے پْشت پناہ بن گئے۔غزہ کے مسلمانوں کی آواز بننے والے غزہ مارچ، دفاع پاکستان و غزہ مارچ کا روپ دھار گئے۔
جماعت اسلامی سے خدا واسطے کا بیر رکھنے والے جعلی دانشوروں (pseudo-intellectual) کو جماعت اسلامی اور اس کے جواں ہمت قائد نعیم الرحمن کی حْبِ وطنی بھی پسند نہ آئی اور گِھسا پِٹا الزام ایک بار پھر دہرا دیا کہ جماعت اسلامی اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم ہے۔بھئی تم جماعت اسلامی کی تاریخ سے واقف ہی کتنے ہو۔؟
50کی دھائی میں جماعت اسلامی کے بانی امیر سید ابو الاعلی مودودی کو پھانسی کی سزا سْنائی گئی۔ جماعت اسلامی پر فوجی آمر نے پابندی لگا دی۔ جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت کو گرفتار کرکے جیلوں میں بند کردیا گیا۔ ظْلم و جبر کا کونسا ہتھکنڈا تھا جو آزمایا نہ گیا ہو۔ ایسے ماحول میں پاکستان کے ازلی دشمن ہندوستان حملہ آور ہوا تو سید مودودی نے فوجی آمر کے سب مظالم بھلا کر صف اوّل میں آکر قوم کو اتحاد و اتفاق کی تلقین کی۔ بانی جماعت نے 1965ء کی جنگ کے موقع پر باقاعدگی سے ریڈیو پاکستان پر آکر جہاد کے متعلق خطبے دئیے۔ان خطبات کے ذریعے جماعت کے امیر سید مودودی نے کہا‘‘ دشمن نے یہ جنگ ہم پر محض اس لئے مسلط کی ہے کہ ہم مجاہدین کشمیر کی پشتیبانی اور حمایت سے دستبردار ہوجائیں۔ سید مودودی نے پاکستانی قوم کو اللہ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عائد فرض یاد دلاتے ہوئے کہا: ’’قران نے واضح کہا کہ ہر وہ شخص اپنے ایمان کے دعوے میں جھوٹا ہے جو داراِلاسلام کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں اپنی جان اور مال کی خیر منانے میں لگا رہے۔ جو شخص اس آڑے وقت میں جہاد سے جی چرائے اور جان و مال کی قربانی سے دریغ کرے اس کی نمازیں اور اس کے روزے سب بیکار ہیں،ان نمازوں اور روزوں کے باوجود قرآن اس کو منافق قرار دیتا ہے۔‘‘
پاکستانی قوم کو یاد رکھنا چائیے کہ بانی امیر ہی نہیں جماعت کے دوسرے امیر میاں طفیل محمد رحمتہ اللہ علیہ نے ذوالفقار علی بھٹو کے مظالم برداشت کئے مگر جب بھٹو شملہ معاہدے کے لئے جانے لگے تو کہا کہ قومی امنگوں کے مطابق فیصلہ کرینگے تو ہم قوم کو آپ کی پْشت پر کھڑا لا کریں گے۔
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے اپنے اکابرین کی درخشندہ روایت کو زندہ کیا اور ساری سیاسی قیادت کو کہا کہ کڑے وقت میں سب اختلافات ایک جانب رکھو اور دشمن کو دندان شکن جواب دو۔ حافظ نعیم واحد سیاسی راہنما ہیں کہ جنھوں نے بیان بازی سے کام نہیں لیا بلکہ کشمیر کی سیز فائر لائن کے متعدد مقامات پر جا کر نہ صرف فوجی جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا، ہمت بندھائی، شہدا اور زخمیوں کے گھروں میں جاکر اْن کی خبر گیری کی۔ الخدمت فاؤنڈیشن نے متاثرہ علاقوں میں اپنی خدمات پیش کیں اور فوری ریلیف کے اقدامات کئے۔ اہم بات یہ کہ جناب نعیم الرحمن کے تمام اقدامات محض پاکستان کی سالمیت اور دفاع کے لئے ہیں نہ کہ کسی فوجی جرنیل کی آشیرباد حاصل کرکے مستقبل میں اپنا نمبر لگوانے کے لئے۔
مت سہل ہمیں جانو، پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے، انسان نکلتے ہیں!