ہماری ادبی تاریخ میں خطوط کا بڑا چرچا ہے۔ اسد اللہ غالب کے خطوط، علامہ اقبال کے خطوط، فیض احمد فیض کے خطوط، حفیظ جالندھر کے خطوط، ضمیر جعفری کے خطوط، نامور شعراء کے خطوط یعنی وہ زمانہ خطوط کا تھا اگر سوشل میڈیا کا اس زمانے میں وجود ہوتا تو شاید یہ خطوط کبھی نہ لکھے جاتے۔ گزشتہ دنوں میں ممتاز مفتی کے منیر نیازی، آپا بانو، اشفاق احمد اور پروین عاطف کے نام ذکر خطوط پڑھ رہا تھا تو مجھے اندازہ ہوا کہ وہ عام لوگوں کی طرح کوئی عام خطوط نہیں ہوتے تھے۔ آغاز میں ملنے نہ ملنے کی شکایات خط دیر سے ملنے کی شکایات اگر کوئی بیمار ہے تو فلاں حکیم سے فوری رابطے کے مشورے، ورزش کے مشورے، فلاں کی شادی ہے پیسے بھجوا رہا ہوں یعنی بہت ہی محبت بھرے انداز، محبت بھرے لفظوں میں طعنہ بھی، دکھ بھی، خوشی بھی محسوس ہوتی ہے۔ آپ نے ایک مثال سنی ہوگی بلکہ بابے آج بھی جب کسی مسئلے پر بات کرتے ہیں تو ایک بات ضرور کرتے ہیں ’’اوئے تینوں تار آئی اے‘‘ ایک وہ بھی دور تھا جب کسی کے گھر جانے، شادی یا مرگ پر ڈاک خانے والوں کی طرف سے ایک کاغذ پر ٹیلی پرنٹر کے ذریعے ایک یا دو سطروں پر پیغام آتا تھا اس وقت اس کو تار کا نام دیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ خطوط کا زمانہ شروع ہوا اور زمانے کے اوپر زمانے بیت گئے۔ شہروں کی نسبت دیہاتوں میں آج بھی خطوط کا سلسلہ جاری ہے۔
جدید دور میں واٹس ایپ، ٹوئٹر اور ای میل نے خط کی جگہ لے لی ہے۔ وہ خط جو تین دن کے بعد ڈاکیہ لے کر آتا تھا اب ایک لمحے میں پیغام آپ کے موبائل میں آ جاتا ہے… آپ کو یاد ہوگا جب پرانے وقتوں میں لڑائیاں خطوط میں ہوتی… پتہ نہیں کیسے انتظار کرتے تھے… اب تو اسی وقت رپلائی پوسٹ ہوتی… تو پرانے دور کی ایک ادبی لڑائی یا غلط فہمی… قدرے طویل ہے لیکن دلچسپی رکھنے والوں کو پسند آنی… قرۃ العین حیدر اور پروین شاکر کا جھگڑا… فکشن میں قرۃ العین حیدر جتنی مقبول و ممتاز ہیں شعر و ادب میں پروین شاکر بھی اتنی ہی مقبول ہیں۔ زندگی نے وفا نہ کی ورنہ بہت ممکن تھا کہ وہ کئی اور شاہ کار اردو ادب کو دے جاتیں۔ 1978ء کے اواخر میں وہ ہندوستان گئی تھیں۔ واپس آ کر انہوں نے اپنے سفر کی یاد گار کے طور کئی نظمیں لکھیں جن میں تین نظمیں بطور خاص اہمیت کی حامل ہیں۔ تاج محل ، فراق گورکھپوری اور قرۃ العین حیدر پر لکھی ہوئی وہ نظمیں ’’سیپ‘‘۔ سیپ کا یہ شمارہ جب قرۃ العین حیدر صاحبہ تک پہنچا تو انہوں نے اپنے اوپر لکھی گئی نظم کے رد عمل کے طور پر مدیر ’’سیپ‘‘ نسیم درانی اور پروین شاکر کے نام الگ الگ دو خطوط ارسال کئے۔ پروین شاکر کے نام خط یوں تھا:
ممبئی۔3 جنوری 1979
محترمہ پروین شاکر صاحبہ
سیپ میں آپ کی نظم دیکھی جس میں آپ نے اپنی شاعری اور تخیل کے جوہر دکھائے ہیں۔ میں آپ سے بہت خلوص اور اپنائیت سے ملی۔ میری سمجھ میں نہیں آتا آپ نے میرے متعلق اس قدر لچر الفاظ کس طرح اور کیوں استعمال کیے اور آپ کو میں کس طور پر ایسی FIGURE OF THE TRAGEDY & FRUSTRATION نظر آئی یا اس قسم کی SICK نظمیں لکھ کر آپ اپنی شہرت میں اضافہ کرنا چاہتی ہیں۔آپ شاید بھولتی ہیں اگر میں بد نفسی اور شرارت پر اتروں تو میرے ہاتھہ میں بھی قلم ہے اور میں آپ سمیت جس کے لیے جو چاہوں لکھ سکتی ہوں۔میں 6 تاریخ کو تین ماہ کے لیے دلی جا رہی ہوں اور امید کرتی ہوں کہ آپ مندرجہ ذیل پتے پر مجھے لکھیں گی کہ آپ نے یہ نظم کیا سوچ کر لکھی یا آپ کی واقعی اتنیSICK ذہنیت ہے کہ آپ میری شخصیت کو اس طرح مسخ کر کے پیش کریں۔نہ میری آپ سے پرانی دوستی ہے نہ آپ میری ہم عمر ہیں۔ آپ نے دو تین بار کی سرسری ملاقات کے بعد میرے طرز زندگی پر جو قطعی میرا اپنا انتخاب اور میرا معاملہ ہے فیصلے صادر کر کے یہ ظاہر کیا ہے کہ یا آپ بمبئی آ کر بوکھلا گئی تھیں -
قرۃ العین حیدر
دوسرا خط مدیر ’’سیپ‘‘ نسیم درانی کے نام یوں تھا۔ جناب مدیرسیپ نسیم درانی صاحب تسلیم! آپ کے رسالے میں پروین شاکر صاحبہ کی نظم دیکھ کر افسوس ہوا اور تعجب بھی۔ادیبوں کی شخصیت کو بلاوجہ اور بلا جواز Unprovokedمسخ کر کے پیش کرنا یا ان پر کیچڑ اچھالنا ہمارے اردو رسالوں کا وتیرہ بن گیا ہے اور یہ وبا عام ہو چکی ہے۔اس قسم کی Viciousnessکی وجہ کیا ہے۔یہ میری سمجھ میں نہیں آتا۔ امید ہے آپ مجھے بتائیں گے۔ والسلام
قرۃالعین حیدر کا خط پا کر پروین شاکر حیران ہوئیں کہ خراج تحسین پیش کرنے کے لیے لکھی ہوئی نظم کا یہ الٹا اثر ہوا۔انہوں نے تمام تر احترام ملحوظ رکھتے ہوئے قرۃ العین حیدر کو جواب دیا اور اس کی ایک نقل مدیر سیپ نسیم درانی کو بھی بھیج دی۔نسیم درانی نے مدیرانہ ذمہ داری اور مدیرانہ تہذیب کے پیش نظر وہ خطوط اس وقت شائع نہیں کیے مگر سیپ کی ایک خاص اشاعت شمارہ 75 میں دونوں قلم کار خواتین کے خطوط شائع کرتے ہوئے یہ نوٹ لگایا۔ ’’ادارے نے اپنی مدیرانہ ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے ان خطوط کو اس وقت اس لیے شائع نہیں کیا کہ اردو کی سب سے عظیم نثرنگار اور ایک حساس شاعرہ کے درمیان پیدا ہونے والی رنجش ایک مستقل نزاع کی صورت نہ اختیار کر لے۔‘‘ اب جب کہ نہ پروین شاکر ہی سلامت ہیں نہ قرۃالعین حیدر، یہ خطوط ان کے مزاج کو سمجھنے کی دستاویز ہو کر رہ گئے ہیں۔ (جاری ہے)