Wed, September 16, 2026

تابناک مستقبل منتظر ہے

تابناک مستقبل منتظر ہے

وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کی معاشی اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاضم منیر کی قیادت میں دفاعی تاریخ میں نئے باب رقم ہو چکے ہیں۔ ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ پاکستانی معیشت نے ایک ایسی بلندی کو چھوا ہے جس کا خواب برسوں سے دیکھا جا رہا تھا۔ مئی 2025 میں پاکستان کی رسمی معیشت نے 411 ارب ڈالر کا ہدف عبور کر کے عالمی سطح پر اپنی شناخت کو نئی جہت دی ہے۔ اب پاکستان کو دنیا کی چالیسویں بڑی معیشت کے طور پر تسلیم کیا جا چکا ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف معاشی میدان میں ایک بڑی کامیابی ہے بلکہ بلا شبہ ایک نئے، تابناک مستقبل کی نوید بھی ہے۔
پاکستان کی معیشت طویل عرصے سے مشکلات کا شکار رہی ہے، صرف دو اڑھائی سال پہلے تک وطن عزیز ڈیفالٹ کی سٹیج پہ پہنچ چکا تھا لیکن پھر حالیہ برسوں میں تیزی سے کی جانے والی مثبت اصلاحات، پالیسی سازی میں شفافیت اور صنعتی و زرعی و دیگر شعبوں میں بہتری نے ملکی معیشت کو مضبوط بنیادیں فراہم کی ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ، برآمدات میں تنوع، اور ٹیکس نیٹ میں وسعت جیسے اقدامات نے ملک کو اس مقام تک پہنچایا ہے جہاں اب دنیا کی بڑی معیشتیں اور معاشی ادارے پاکستان کو سنجیدگی سے لینے لگے ہیں۔ اس کی تازہ مثال ورلڈ بینک کی طرف سے پاکستان میں شراکت داری کے تحت اگلے دس سال میں 40 ارب ڈالر کی انویسٹمنٹ کا اعلان ہے۔ اب جہاں رسمی معیشت کی ترقی خوش آئند ہے، وہیں پاکستان کی غیر رسمی معیشت کا حجم بھی قابلِ توجہ ہے۔ محتاط اندازوں کے مطابق پاکستان کی غیر رسمی معیشت کا حجم 550 سے 600 ارب ڈالر سے زائد ہے۔ یہ وہ شعبہ ہے جو اب تک حکومتی نگرانی، ٹیکس نیٹ، اور پالیسی اثرات سے باہر رہا ہے۔ اگر یہ شعبہ رسمی معیشت میں شامل ہو جائے تو پاکستان کی مجموعی معیشت کا حجم با آسانی ایک ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر سکتا ہے، جو کہ وطن عزیز کو دنیا کی ٹاپ 20 معیشتوں میں شامل کر سکتا ہے۔ لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ اس غیر رسمی معیشت کو جلد از جلد رسمی نظام کا حصہ بنایا جائے۔ اس کے لیے آسان ٹیکس نظام، کاروباری سہولتوں میں اضافہ، ڈیجیٹلائزیشن، اور مائیکرو فنانس کی رسائی کو بہتر بنانا ہوگا۔ جب چھوٹے کاروبار، دکاندار، اور فری لانس ورکرز بھی رسمی نظام کا حصہ بنیں گے تو یقینا" ملکی معیشت میں وسعت، شفافیت اور ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔
مئی 2025 میں بھارت کے بزدلانہ حملوں کے بعد بھارت اور پاکستان کے مابین ہونے والی محدود جنگ میں پاکستان نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں لازوال کامیابی حاصل کر کے دشمن اور دنیا پہ اپنی عسکری طاقت کی دھاک بٹھا دی ہے اور دنیا کو یہ باور کرایا ہے کہ وہ نہ صرف ایک بھرپور عسکری قوت بلکہ ایک ذمہ دار اور طاقتور ایٹمی ریاست بھی ہے۔ بھارت کی انتہا پسند اور دہشت گرد حکومت کی جانب سے کیے گئے حملوں کے جواب میں پاکستان نے جرأت مندانہ، جارحانہ اور موثر دفاعی حکمت عملی اپنائی۔ عالمی طاقتوں نے اس بار بھارت کا ساتھ دینے سے نا صرف انکار کر دیا بلکہ پاکستان کے حق دفاع کے موقف کو درست تسلیم کیا۔ پہلی دفعہ بھارت اکیلا نظر آیا اور پاکستان کے ساتھ کئی دوست ممالک کھل کر کھڑے ہو گئے۔ یہ جنگ صرف عسکری میدان میں ہی فتح نہیں تھی، بلکہ سفارتی اور اخلاقی سطح پر بھی پاکستان نے دنیا کو اپنی پوزیشن واضح کی اور عالمی طاقتوں سمیت زیادہ ممالک نے پاکستان کے موقف کو درست تسلیم کیا۔ جنگ کے فوراً بعد ہی دنیا نے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل کی سب سے اہم کاؤنٹر ٹیررازم کمیٹی کا نائب سربراہ منتخب کیا۔ یہ ایک اعزاز ہے جو نہ صرف پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف قربانیوں کا اعتراف ہے بلکہ اس کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کا ثبوت بھی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پہلی بار دنیا نے پاکستان کو ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ اسلامی دنیا میں پاکستان واحد ملک ہے جس کے پاس ایٹمی صلاحیت ہے، اور اب یہ صلاحیت صرف دفاع تک محدود نہیں بلکہ سفارتی اثر و رسوخ کا ایک اہم ذریعہ بھی بن چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتوں نے بھارت کی شدت پسند پالیسیوں کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کی اعتدال پسند، متوازن اور جمہوری روش کی تائید کی ہے۔
تاہم، ان سب بیرونی کامیابیوں کا فائدہ صرف اسی صورت میں حاصل ہو سکتا ہے جب پاکستان اندرونی طور پر بھی مستحکم ہو۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے سیاسی انتشار، معاشرتی تقسیم، انتظامی کمزوریوں اور دہشتگردی کی لعنت نے ملک کی ترقی کی راہ میں ہمیشہ رکاوٹ ڈالی ہے۔ لیکن اب وہ وقت آ گیا ہے جب ہمیں اپنے داخلی مسائل سے پوری قوت سے نمٹنا ہوگا۔ داخلی استحکام کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری کا ماحول بھی بہتر بنایا جانا ضروری ہے۔ یاد رہے کہ غیر ملکی سرمایہ کار صرف اْس ملک میں سرمایہ لگاتے ہیں جہاں انہیں تحفظ، منافع اور اعتماد ملے۔ اگر پاکستان اپنی سکیورٹی اور انتظامی اصلاحات کو مؤثر بنا لے تو بڑی تیزی سے عالمی سرمایہ کاروں کا رْخ ہماری جانب ہو سکتا ہے۔ یقینا قانون کی بالادستی، شفاف احتساب، اور مضبوط ادارے ہی ملکی استحکام کی ضمانت فراہم کر سکتے ہیں۔ 
اسی طرح بھارت کے ساتھ حالیہ جنگ کے بعد اب ضروری ہو گیا ہے کہ ملک کی دفاعی صلاحیتوں میں متواتر اضافہ ہو اور پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنا دیا جائے۔ لیکن یہاں اہم پہلو یہ ہے کہ یہ اضافہ صرف اسلحہ خریدنے کی حد تک نہیں بلکہ مقامی سطح پر دفاعی سازوسامان کی تیاری اور خود کفالت سے ہی ممکن ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنی دفاعی صنعت کو مزید تیزی سے ترقی دے تاکہ دفاعی شعبے میں درآمدات پر انحصار کم ہو اور ملکی ضروریات سے بڑھ کر ہماری دفاعی برآمدات میں اضافہ ہو۔ یہ پہلو نہ صرف ملکی معیشت کو فائدہ دے گا بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی ایک مضبوط دفاعی طاقت والی ساکھ میں مزید اضافہ کرے گا۔
اسی طرح پاکستان کو اپنی سیاحتی صنعت پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ ہمارا ملک قدرتی خوبصورتی، تاریخی ورثے اور ثقافتی تنوع سے مالا مال ہے۔ اگر امن و امان کی صورتحال مثالی بنا دی جائے، تو سیاحت ترکی کی طرح پاکستان کا سب سے بڑا زرِ مبادلہ کمانے والا شعبہ بن سکتا ہے۔ دنیا بھر سے سیاح پاکستان کی طرف راغب ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ ہم انہیں محفوظ، پرکشش اور آرام دہ ماحول فراہم کریں۔ حکومت کو اس طرف فوری توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔ 
بیشک اب پاکستان کا مستقبل ایک تابناک حقیقت میں ڈھلتا جا رہا ہے۔ اقتصادی ترقی، عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی ساکھ، عسکری طاقت اور برتری، اور سفارتی کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان دنیا کی ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اندرونی استحکام، نظام کی بہتری، اور قومی یکجہتی کو فروغ دیا جائے تاکہ یہ ترقی دیرپا اور پائیدار بن سکے۔ اگر ہم نے یہ موقع ضائع نہ کیا، تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان نہ صرف دنیا کی چند بڑی معیشتوں میں شامل ہو گا، بلکہ قیادت کے مقام پر بھی فائز ہو گا۔ ان شاء اللہ۔

ٹیگز: