Wed, September 16, 2026

نفرت اور آگ کا ہولناک کھیل۔۔!

نفرت اور آگ کا ہولناک کھیل۔۔!


آزاد جموں و کشمیر بھر میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی ہڑتال کی کال مسترد کر دی گئی۔ شہریوں نے کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی پانچ جولائی کی ہڑتال کی کال پر کوئی دھیان ہی نہ دیا۔ آزاد جموں و کشمیر بھر میں روزمرہ معمولات زندگی بہترین اور روٹین کے انداز میں چلتے رہے۔ شہریوں نے ہڑتال کو مکمل طور پر رد کے ثابت کر دیا کہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا ایجنڈا ہی بھارت نواز ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کے شہریوں کا کہنا تھا کہ یہ کال کالعدم ایکشن کمیٹی کی پُرتشدد کارروائیوں اور انتشار پھیلانے کی ایک اور مذموم کوشش ہے عوام جھوٹی افواہوں پر دھیان نہ دیں اور اپنے کاروباری معاملات معمول کے مطابق چلائیں۔ ریاست بھر میں تمام کاروباری مراکز، سرکاری و نجی دفاتر اور بازار معمول کے مطابق کھلے رہے۔ کالعدم ایکشن کمیٹی کی سرگرمیوں سے ریاست کو پہلے ہی کافی معاشی اور سماجی نقصان پہنچ چکا ہے، آزاد جموں و کشمیر کے عوام اب مزید کسی انتشار یا بدامنی کا حصہ بننے کے لیے تیار نہیں، عوام نے واضح کر دیا ہے کہ وہ انتشار اور گمراہ کن پروپیگنڈے کا حصہ بننے کے بجائے امن، استحکام اور ترقی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ علاوہ ازیں کالعدم ایکشن کمیٹی کی ملک دشمن سرگرمیوں کے خلاف سول سوسائٹی کی جانب سے ضلع میرپور اور لیپہ ویلی میں احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ضلع میرپور اور لیپہ ویلی میں ”کالعدم ایکشن کمیٹی مردہ باد“ کے نعرے سنائی دیئے۔ عوام کا شرپسند عناصر کے خلاف شدید غم و غصہ دیکھنے میں آیا۔ کالعدم ایکشن کمیٹی کے بہکاوے میں اب کوئی نہیں آئے گا، سول سوسائٹی کے نمائندوں کی شرپسندوں کو دو ٹوک تنبیہ بھی سامنے آ گئی۔ سول سوسائٹی کی عوام سے کالعدم کمیٹی سے بائیکاٹ کی اپیل کی گئی۔ اس سے قبل کالعدم ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں نے راولا کوٹ میں آزاد کشمیر پولیس کے 4 اہلکاروں کو اغوا کر لیا۔ اس جارحیت سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا ایجنڈا محض دہشت گردی اور عوام کو اکسانا ہے۔ اسی طرح کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے راولا کو ٹ میں دھرنا دیا۔ اس دھرنے میں بھی عوام کی عدم دلچسپی کے باعث کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی ہے۔ دھرنے کی واضح ناکامی کے بعد شرپسند عناصر اب قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے اور انتشار پھیلانے پر اُتر آئے ہیں۔ سرغنہ خواجہ مہران اور اسکے کارندے راولاکوٹ کا پُرامن ماحول خراب کرنے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں، سلیکشن گریڈ کانسٹیبل شاہد شفیق، سلیکشن گریڈ کانسٹیبل محمد صغیر، کانسٹیبل محمد اشتیاق اور کانسٹیبل ذیشان اسحاق کو اغوا کیا گیا۔ کالعدم کمیٹی کے شرپسندوں نے آزاد کشمیر پولیس کے 4 اہلکاروں کو اپنے گھر سے ڈیوٹی کے لیے راولا کوٹ جاتے ہوئے اٹھا لیا۔ یہ اقدامات دہشت گردی ہیں اور یہی وہ دہشت گردی ہے جسے کشمیریوں نے مسترد کر دیا ہے۔ واضح رہے اس سے قبل بھی ان شرپسند عناصر نے پولیس اے ایس آئی کو اغوا کر کے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا تھا جبکہ یہی ٹولہ سی ایم ایچ پر بھی حملہ آور ہوا تھا۔ آزاد کشمیر میں کالعدم تنظیم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارندوں نے اسی پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ان دہشت گردوں نے شر انگیزی کی ہر حد پار کر دی ہے۔ بیس سے 25 نقاب پوش افراد نے انجمن تاجران ارجہ کے سیکریٹری جنرل سردار ناصر ارباب اور ان کے کزن حسام پر بدترین تشدد کیا اور انہیں نیم مردہ حالت میں پھینک کر فرار ہوئے اور شدید فائرنگ بھی کی گئی۔ جنڈالہ کراس کے قریب کالعدم تنظیم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے درخت کاٹ کر مین سڑک بند کی گئی تھی جس کی وجہ سے ڈیڈ باڈی لے جانے والی ایک ایمبولینس بھی پھنس گئی تھی جہاں تاجر رہنما راستہ بنانے پہنچے تھے۔ اس ضمن میں بتایا گیا کہ انجمن تاجران ارجہ کے سیکریٹری جنرل سردار ناصر ارباب چند نوجوانوں کے ہمراہ ایمبولینس کے لیے راستہ بنانے مذکورہ مقام پر پہنچے ہی تھے کہ کالعدم تنظیم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 20 سے 25 افراد نے اندھادھند فائرنگ شروع کر دی اور سردار ناصر ارباب اور اس کے کزن حسام کو گن پوائنٹ پر روک لیا اور تشدد کرتے ہوئے راولاکوٹ کی طرف سڑک پر گھسیٹتے ہوئے ہلاں بازار تک لے گئے۔ مزید بتایا گیا کہ ہلاں بازار سے ہائی ایس گاڑی جو پہلے سے وہاں موجود تھی میں ڈال کر پانیولہ لے گئے جہاں پر صبح 6 بجے تک تشدد کرتے رہے جبکہ ناصر ارباب اور حسام ان افراد کی منت سماجت کرتے رہے لیکن کالعدم تنظیم کے یہ تشدد پسند افراد اس بات پر مُصر رہے کہ تم انتظامیہ کو دیگیں پکا کر دیتے ہو۔ سردار ناصر ارباب شدید تشدد کے باعث بے ہوش ہو گئے جنہیں بعدازاں نیم مردہ حالت میں ہلاں بازار کے پاس سڑک کنارے پھینک کر کالعدم کمیٹی کے افراد فرار ہو گئے۔ عوامی حلقے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ان دہشت گردوں کو فوری حراست میں لیا جائے۔ ریاست کے اندر خونریزی کی سازش کو ناکام بناتے ہوئے ان دہشت گردوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

ٹیگز: