Wed, September 16, 2026

غزہ میں اسرائیلی بمباری جاری، اقوام متحدہ کے سکول پر حملہ، متعدد فلسطینی شہید

غزہ میں اسرائیلی بمباری جاری، اقوام متحدہ کے سکول پر حملہ، متعدد فلسطینی شہید

غزہ : غزہ میں اسرائیلی فوج کی بمباری کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس میں اقوام متحدہ کے زیر انتظام ایک اسکول کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس حملے میں کم از کم 9 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جن میں کئی بے گھر افراد شامل تھے جو اسکول میں پناہ لیے ہوئے تھے۔

گذشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں 78 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں 9 افراد وہ ہیں جو امداد کے انتظار میں تھے، اور ان میں تین بچے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، دو امریکی امدادی کارکن بھی زخمی ہوئے ہیں، جن پر اسرائیلی فوج نے الزام لگایا ہے کہ وہ حماس کی کارروائی میں زخمی ہوئے۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی بمباری میں 743 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں 1580 سے زائد طبی کارکن بھی شامل ہیں، جن میں 90 ڈاکٹر اور 132 نرسیں شامل ہیں۔

اسی دوران، غزہ شہر میں ایک رہائشی عمارت کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں مزید جانوں کے ضیاع کا خدشہ ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق، حملہ اس وقت کیا گیا جب بے گھر افراد اقوام متحدہ کے الشافی اسکول میں سو رہے تھے۔ زخمی خاتون زہوا سلمی نے بتایا کہ دھماکہ بہت زور دار تھا اور لوگ مدد کے لیے پکار رہے تھے، مگر پھر مکمل خاموشی چھا گئی۔

الجزیرہ کے نمائندے ہانی محمود نے کہا کہ غزہ میں قحط اور بھوک کی شدت بہت بڑھ چکی ہے، بچے بھوکے ہیں اور مائیں اپنا کھانا چھوڑ کر بچوں کو کھلاتی ہیں۔ انہوں نے امدادی تنظیموں پر بھی تنقید کی کہ وہ لوگوں کو غیر محفوظ جگہوں پر اکٹھا کرتی ہیں جہاں نہ تحفظ ہے اور نہ شفافیت۔

عالمی ادارہ خوراک کے نائب سربراہ چارلس اسکو نے اس بحران کو اپنی زندگی کا سب سے بدترین انسانی المیہ قرار دیتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا تاکہ امدادی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہو سکیں اور انسانی جانیں بچائی جا سکیں۔

ٹیگز: