Wed, September 16, 2026

پراپیگنڈہ سے انکار، صحتمند معاشرے کا معیار

پراپیگنڈہ سے انکار، صحتمند معاشرے کا معیار

ہمارے ہاں، بالخصوص سوشل میڈیا کے آنے کے بعد، سچی، حقیقت پر مبنی یا تحقیقی خبروں کی تو جیسے موت ہی واقع ہو چکی ہے، اب تو صرف جھوٹی خبروں، سازشی تھیوریوں اور سنسنی خیز افواہوں کی قطار لگی رہتی ہے۔کسی خبر کی سچائی جاننا ہو تو انتہائی مشکل صورتحال کا سامنا ہو جاتا ہے۔ سوشل میڈیا ، خاص طور پر ایک سیاسی پارٹی (پاکستان تحریک انصاف) کا میڈیا سیل تو جھوٹ پھیلانے کی ایسی فیکٹریاں ہیں کہ خدا کی پناہ۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب عوام کو کوئی نیا چورن نہ بیچا جا رہا ہو۔ کبھی خبر آتی ہے کہ نواز شریف دوبارہ وزیر اعظم بننے والے ہیں اورکبھی عمران خان کی رہائی کی پیش گوئیاں ہوتی ہیں۔ اور اب تو حد ہی ہو گئی ہے۔ ایک طرف یہ قیاس آرائی زوروں پر ہے کہ نواز شریف جیل میں عمران خان سے ملاقات کرنے جا رہے ہیں، اور دوسری طرف یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر فوج سے ریٹائرمنٹ لے کر سیاست میں انٹری ڈالنے اور آصف زرداری کی جگہ صدارت کا عہدہ سنبھالنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
یہ باتیں سن کر ایک باشعور آدمی کو ہنسی بھی آتی ہے اور افسوس بھی ہوتا ہے۔ ہنسی اس لیے کہ یہ باتیں اتنی غیر سنجیدہ ہیں کہ ان پر یقین کرنا اپنے ہی فہم و فراست کی توہین لگتا ہے، اور افسوس اس لیے کہ ہمارے میڈیا، سوشل میڈیا، اور سیاسی پنڈت بالکل ہی دیوالیہ ہو چکے ہیں اور اب ان کے پاس کچھ اور بیچنے کو رہا ہی نہیں۔ اگر نواز شریف اور عمران خان کی ممکنہ ملاقات کی بات کی جائے تو ہمیں یاد رکھنا ہو گا کہ عمران خان وہ شخص ہے کہ جس کا خیال ہے کہ سیاست میں کامیابی کا حصول صرف اور صرف نواز شریف کی مخالفت سے ہی ممکن ہے ۔وہ مسلسل انہیں چور، ڈاکو، مافیا کہتا رہا ہے، دھرنے، احتجاج، تقریریں، کیسز سب کچھ صرف اسی بنیاد پر کیا کہ نواز شریف کرپٹ ہیں اور انہیں سیاست سے نکالنا ضروری ہے۔ دوسری طرف نواز شریف کا رویہ مدبرانہ رہا ہے وہ بطور وزیراعظم دو مرتبہ عمران خان سے ملاقات کرنے بھی گئے لیکن بے سود۔ تمام تر لچک دکھانے اور مفاہمت کی صورتحال قائم کرنے کی کوششوں میں ناکامی کے بعد لگتا ہے کہ اب نواز شریف نے بھی عمران خان کو ایک سنجیدہ سیاسی رہنما کے طور پرلینا چھوڑ دیا ہے۔ اب تو اکثر وہ تاثر دیتے ہیں کہ عمران خان دراصل کسی اور کے اشارے پر کھیلتا ہے اور جمہوریت کو کمزور کرنے کے لیے میدان میں اتارا گیا ہے۔ افواہیں اور جھوٹی خبریں پھیلانے والوں سے کسی کو تو یہ پوچھنا چاہیے کہ دو ایسے لوگ، جن کے درمیان نہ تو کوئی ذاتی تعلق ہے، نہ کوئی سیاسی مفاہمت اور نہ ہی کوئی درمیانی کردار، آخر کیو نکر وہ جیل میں مل کر بیٹھیں گے؟ کیا یہ کوئی ڈرامہ چل رہا ہے کہ جس کی آخری قسط میں اچانک اب اچھا اچھا ہو جاتا ہے اور سب کردار گلے مل کر رنجشیں بھلا دیں؟۔
جو لوگ نواز شریف کے مزاج سے واقف ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہوں گے کہ وہ کبھی بھی ایسے شخص سے ملاقات کے لیے نہیں جائیں گے کہ جس نے انہیں عدالتوں میں گھسیٹاہو، ان پر تہمتیں لگائی ہوں ، جیل بھیجا ہو اور ان کے خاندان کو بار بار میڈیا ٹرائل کا نشانہ بنایا ہو۔ دوسری طرف عمران خان بھی وہ شخصیت ہے جو نواز شریف کو سیاسی مردہ قرار د یتا رہا ہے ۔ تو کیا ان دونوں کے درمیان اچانک ملاقات ہو جانے والی باتیں ہضم کرنا مشکل نہیں؟۔
سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی دوسری نامعقول خبر یہ ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اب سیاست میں انٹری ڈالنا چاہتے ہیں اور وہ آصف زرداری کی جگہ مسند صدارت پر براجمان ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔ کم از کم میر ے لیے تو اس قسم کی خبر انتہائی حیران کن ہے۔ ایک طرف فوج یہ کہہ رہی ہے کہ وہ سیاست سے دور ہے اور وہ کسی بھی سیاسی عمل کا حصہ نہیں بنے گی اور دوسری طرف ایسی بے تکی باتیں پھیلا ئی جا رہی ہیں جن کا کوئی سر پیر ہی نہیں۔ برادر مزمل سہروردی بالکل صحیح کہتے ہیں کہ عاصم منیر نے اس وقت قومی اور بین الاقوامی سطح پر جو عزت، مقام اور حیثیت حاصل کی ہے وہ ایک صدر مملکت جیسے بے اختیار اور ربڑ سٹیمپ عہدہ کے لیے کیونکر قربان کر دیں گے۔ 
فیلڈ مارشل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا اعزاز ان کی عسکری خدمات اور فتوحات کے اعتراف میں دیا گیا ہے نہ کہ انہیں کوئی سیاسی مینڈیٹ دیا ہے۔ ان کا سارا کیریئر غیر سیاسی، پروفیشنل اور آئینی دائرے میں رہا ہے۔ وہ بارہا یہ واضح طور پر یہ کہہ چکے ہیں کہ فوج کا سیاست میں کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔ اب اگر ایسا شخص سیاست میں قدم رکھنے کی پلاننگ کرے تو یہ اس کے اپنے موقف کی نفی ہو گی، اور اس سے نہ صرف اس کی ذات بلکہ پورے ادارے کی ساکھ متاثر ہو گی۔ یقینا عاصم منیر اس قسم کے خیال کو اپنے نزدیک بھی پھٹکنے نہیں دیں گے۔ اس تمام صورتحال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسی بے بنیاد باتیں کون پھیلا رہااور ایسا کر کے وہ کیا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے؟۔
بات بالکل سادہ ہے۔ جب حکومت عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہو جائے، جب اپوزیشن بے اثر ہو جائے، جب میڈیا خبروں سے خالی ہو جائے، تب افواہوں کا سیزن اپنے عروج پر آ جاتا ہے۔ لوگ سچی اور پھیکی خبریں سن سن کر بور ہو چکے ہوتے ہیں شاید اس لیے انہیں کوئی بھی مصالہ دار افواہ یا جھوٹی کہانی دلچسپ اور اہم لگنے لگتی ہے۔ اور ہمارے بعض سیاسی حلقے، قلم کار اور اینکر حضرات ایسی باتیں صرف ریٹنگ بڑھانے کے لیے یا مخصوص ایجنڈے کے تحت مارکیٹ میں پھیلاتے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب عوام کی توجہ مہنگائی، بجلی کے بل، گیس کی کمی، تعلیم، صحت ، لاقانونیت اوربے روزگاری جیسے مسائل سے ہٹانی ہو تب سرکاری سطح پر بھی اس قسم کے شوشے چھوڑ دیئے جاتے ہیں تاکہ عوام کی توجہ حکومت کے اصل کارناموں سے ہٹ کر اس قسم کی خرافات کی طرف ہو جائے۔ لہٰذا یہ بات سمجھنے کی ہے کہ اگر آج بھی ہم نے ہوش کے ناخن نہ لیے، تو یقینا کل یہ افواہیں اور جھوٹی خبریں قومی نقصان کا موجب بھی بن سکتی ہیں۔ اگر ہم نے واقعی دنیا کے سامنے اپنا ایک سنجیدہ قوم کا تاثر بنانا ہے تو اسے اپنی سننے ،سمجھنے اور سوچنے کی صلاحیت میں بہتری لانی ہو گی۔ ہمیں سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا سیکھنا ہو گا اور ہر بات پر آنکھ بند کر کے یقین کرنے کی عادت ترک کرنا ہو گی۔
قصہ مختصر نہ تو نواز شریف عمران خان سے کوئی ملاقات کرنے جا رہے ہیں اور نہ عاصم منیر آصف زرداری کی جگہ لے رہے ہیں۔ یہ سب باتیں صرف وقت ضائع کرنے کے لیے ، اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے اور شاید کسی مخصوص ذہن کے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے ہیں۔

ٹیگز: