Wed, September 16, 2026

افغانستان دہشت گردی کا گڑھ بن چکا، معرکۂ حق میں بھارت کو مؤثر جواب دیا گیا:ڈی جی آئی ایس پی آر

 افغانستان دہشت گردی کا گڑھ بن چکا، معرکۂ حق میں بھارت کو مؤثر جواب دیا گیا:ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ افغانستان پورے خطے میں دہشت گردی کا مرکز بن چکا ہے، جبکہ معرکۂ حق میں بھارت کو مؤثر جواب دے کر اسے سبق سکھایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سال 2025 دہشت گردی کے خلاف کامیابیوں سے بھرپور رہا اور یہ جنگ پوری قوم کی مشترکہ جدوجہد ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ خوارج کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی پاکستان سے، اور ریاست پوری قوت کے ساتھ دہشت گردی کو کچلنے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں اس وقت کوئی مستحکم حکومت موجود نہیں اور وہاں سے دہشت گردی پورے خطے میں پھیلائی جا رہی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کے مطابق سال 2025 کے دوران دہشت گردی کے خلاف 75 ہزار سے زائد آپریشنز کیے گئے، جن سے امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پانچ سال قبل ایک دہشت گرد کے مقابلے میں تین شہادتیں ہوتی تھیں، تاہم اب یہ تناسب بدل چکا ہے اور ایک شہادت کے مقابلے میں دو دہشت گرد مارے جا رہے ہیں، جو سیکیورٹی فورسز کی مؤثر حکمت عملی کا ثبوت ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات کے پس منظر میں سرحد پار عوامل شامل ہیں۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے بڑے واقعات میں افغانی بمبار ملوث پائے گئے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردی کی جڑیں سرحد پار موجود ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت کی مالی معاونت اور سرپرستی سے افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں وار اکانومی چل رہی ہے، جسے برقرار رکھنے کے لیے دہشت گردی کو فروغ دیا جا رہا ہے اور اس مقصد کے لیے نئے سپانسرز تلاش کیے جاتے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اگر کسی ملک میں پانچ فیصد کے برابر بھی دہشت گردی ہو تو وہ ریاست برقرار نہیں رہ سکتی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے انکشاف کیا کہ دہشت گرد جدید ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں اور اب تک دہشت گردی میں 410 کواڈ کاپٹر ڈرونز استعمال ہو چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ خوارج مساجد، آبادی اور بچوں و خواتین کو ڈھال بنا کر کارروائیاں کرتے ہیں، جبکہ پاک فوج صرف دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو نشانہ بناتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ تین سطحوں پر لڑی جا رہی ہے، جن میں سرحدی محاذ، داخلی سیکیورٹی اور جدید ٹیکنیکل جنگ شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ پاک فوج خیبرپختونخوا سے نکل جائے، کیونکہ فوج وفاقی حکومت کی ہدایات کے مطابق اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سوات میں امن بڑی قربانیوں کے بعد بحال ہوا اور کسی کو دوبارہ دہشت گردوں کو وہاں قدم جمانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیکیورٹی فورسز کا مقصد صرف دہشت گردی کا خاتمہ اور عوام کے لیے پائیدار امن کا قیام ہے، اور اس حوالے سے کسی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے موجود ہے، تاہم صوبائی حکومتوں، سول انتظامیہ اور سیاسی قیادت کو بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی تاکہ ملک میں دیرپا امن قائم ہو سکے۔

ٹیگز: