Wed, September 16, 2026

جرائم اور پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث افغان مہاجرین، جرمنی اور ترکی میں ملک بدری کے اقدامات میں اضافہ

جرائم اور پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث افغان مہاجرین، جرمنی اور ترکی میں ملک بدری کے اقدامات میں اضافہ

برلن :متعدد ممالک میں افغان مہاجرین کی بڑھتی ہوئی ہنگامہ آرائی اور مجرمانہ سرگرمیوں کے باعث جرمنی اور ترکی میں ملک بدری اور گرفتاری کے اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔ عالمی حلقے تشویش ظاہر کر رہے ہیں کہ افغان طالبان رجیم دہشت گردی اور انتہا پسندی کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔

افغان ذرائع ابلاغ، بشمول جریدہ آریانہ نیوز، نے طالبان اور افغان مہاجرین کی مجرمانہ سرگرمیوں کو اجاگر کیا ہے۔ جرمنی میں گزشتہ سال منشیات اسمگلنگ اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث 83 افغان پناہ گزینوں کو ملک بدر کیا گیا جبکہ تقریباً 11 ہزار 888 رجسٹرڈ افغان مہاجرین کو ملک چھوڑنے کے احکامات جاری کیے گئے۔

ترکی میں بھی غیر قانونی نقل و حمل کے خلاف کارروائی میں 32 افغان مہاجرین کو گرفتار کیا گیا، جو یورپ جانے کے لیے ٹینکر میں چھپے ہوئے تھے۔ ترک حکام کے مطابق 2025 میں مجموعی طور پر 42 ہزار افغان مہاجرین غیر قانونی سفر کے الزام میں پکڑے جا چکے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی انتہا پسندی اور افغان مہاجرین کی پرتشدد سرگرمیاں پاکستان سمیت پورے خطے کے لیے سنگین سیکیورٹی خطرہ ہیں، اور اسی وجہ سے سابقہ امریکی انتظامیہ نے امیگریشن اور اسپیشل ویزا ہولڈرز پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

ٹیگز: