Wed, September 16, 2026

قبلہ محمد صادق کسٹم آفیسر، ایک عہد

قبلہ محمد صادق کسٹم آفیسر، ایک عہد

اگلے روز سابقہ ایکسپورٹ چیف کلکٹر پاکستان جناب محمد صادق کے نام شام کی ایک پُر وقار تقریب تھی، جس میں کلکٹر کسٹم جناب منیب سرور، ریٹائرڈ اعلیٰ آفیسر جناب ودود احمد خان ایڈووکیٹ، جناب گلزر احمد بٹ کوآرڈی نیٹر وفاقی محتسب لاہور، حسن صادق، جناب سرفراز سہیل منج رہنما تاجر لبرٹی مارکیٹ لاہور کے علاوہ دیگر لوگ بھی شریک تھے۔ جناب محمد صادق صاحب کی روحانیت کی وجہ سے انوارات کی بارش تھی۔ دراصل وطن عزیز میں جھوٹ کا کاروبار گلشن کے کاروبار پر حاوی ہے اور پھر ایسے ماحول و معاشرت میں اگر کوئی شخصیت ہر مثبت پہلو کا شاہکار ہو تو وہ ضرب المثل اور ہمیشہ قابل تقلید ہوا کرتی ہے۔ کہتے ہیں جس شخص کے پاس بیٹھ کر آپ کو روحانی سکون ملے وہ شخص اللہ کا بندہ اور نیک روح ہوتی ہے۔ حساسیت کے پیکر جناب محمد صادق صاحب ہیں تو ترین پٹھان مگر اپنے نام کے ساتھ خان کا لقب نہیں لگاتے۔ کہتے ہیں کہ خان کہنے سے گردن میں تھوڑا سا تفاخر کا جھٹکا آتا ہے، جس سے کبر پیدا ہو سکتا ہے۔ جناب محمد صادق خان عجز و انکساری اور شفافیت کا شاہکار شخصیت ہیں۔ فہم قرآن، اردو و پنجابی ادب، عربی، انگریزی فارسی ادب حتیٰ کہ عبرانی پر بھی عبور حاصل ہے، جامع الازہر سے بھی تحصیلِ علم کر چکے ہیں۔ مجھ احقر کی ان سے نیاز مندی ہے، قبلہ کے حلقہ ارادت میں شمار ہونا میرے لیے سعادت ہے۔ پنجاب، سندھ بلکہ برصغیر، ایران و ترکی کے صوفی شعرا بلھے شاہ، بابا فرید، وارث شاہ کے علاوہ انہوں نے مجھے مولانا رومی، عبد القادر بیدل، عمر خیام نیشاپوری، علامہ اقبال، شاہ عبد اللطیف بھٹائی، بابا فرید، میاں محمد بخش، ڈاکٹر محمد حمید اللہ، حافظ شیرازی، شاہ شمس تبریزی وغیرہ معنویت کے ساتھ تحفہ کیے۔ حد یہ ہے کہ ایک دن شیکسپیئر کے ڈرامہ سیزر کا مشہور مکالمہ ”You too Brutus“ میں نے کسی یار مار کے حوالے سے کہا تو قبلہ نے کہا کہ اس سے اگلا فقرہ کم 
لوگ بولتے ہیں وہ پتہ ہے کیا ہے؟ میں نے نفی میں جواب دیا تو گویا ہوئے کہ ”Then fall Saesar“ تو پھر سیزر کو گر یا مر ہی جانا چاہیے۔
قبلہ محمد صادق صاحب نے مجھے فہم قرآن و حدیث و حیات طیبہ آقا کریمﷺ مجھے نئے اور حقیقی معنوں اور روحانی پہلوو¿ں سے دیکھنے کا سلیقہ اور منفرد انداز و نظر تو دیا ہی حتیٰ کہ سنگا پور کے لی کوان یو اور علیمہ یعقوب کا بتایا، با قاعدہ لیکچر دیا۔ لی کوان کی پالیسیوں کا نتیجہ حلیمہ یعقوب صدر سنگا پور کی صورت سامنے آیا۔ بہر حال مجھے قبلہ محمد صادق چیف کلکٹر کسٹم نے جس طرح ایجوکیٹ کیا۔ حلیمہ یعقوب کی کہانی سنگا پور کی کہانی پھر کبھی نہ بھولی۔ لی کوان یو نے تین ایم چُنے میرٹ، ملٹی کلچرل ازم اور موٹیویشن۔ اس کا خیال قبلہ محمد صادق صاحب اپنے ماتحتوں میں رکھتے ہیں مگر ان کے رویے میں بلا کی عاجزی اور انکساری ہے جبکہ دیانت داری کی ایک زمانہ گواہی دیتا ہے۔ دلسوزی اور دل سازی ان کی فطرت میں شامل ہے۔ انسانیت کا فہم اور انسان سازی کوئی ان سے سیکھے۔
قبلہ جب بھی کسٹم سے وابستہ لوگوں سے بات کرتے ہیں تو مجھے بالعموم آرمینیا کے ایک شاعر کی بات یاد آتی ہے۔ ”واعظ نصیحت کر رہا تھا مگر بھیڑیے کا دھیان بھیڑوں کی طرف تھا۔ گڈریے کو غم تھا ان بھیڑوں کا جو بھیڑیا کھا گیا اور بھیڑیے کو پچھتاوا تھا ان بھیڑوں کا جو بچ گئیں۔
کچھ ایسا ہی خیال مجھے ہر تقریب کے دوران آیا کہ سادگی، عاجزی، دیانت، ذہانت، شرافت، صداقت اور امانت کی چلتی پھرتی درسگاہ قبلہ محمد صادق خان تنولی صاحب جب تقریر (واعظ) کر رہے ہوتے تو ان کا دھیما لہجہ ایک ایک لفظ میری روح میں سرایت کرتا چلا جاتا۔ دراصل مجھے اگر صرف محکمہ کسٹم کی بات کروں تو روحانیت و انسانیت کے درس کی تشنگی نے جناب محمد صادق صاحب سے محترمہ طیبہ کیانی صاحبہ تک کا سفر کرا دیا۔ قبلہ محمد صادق صاحب کی طرح محترمہ طیبہ کیانی صاحبہ کو بھی اپنا ستائشی تذکرہ سخت ناپسند ہے لہٰذا چند لفظ لکھ کر آگے بڑھوں گا۔
اس کی دراصل قابل ذکر وجہ یہ تھی کہ جب وہ حج پر جا رہی تھیں تو میں نے ایک دعا کی درخواست کی تھی جو 2017 سے قبول نہیں ہو رہی تھی، جس کا تعلق بارگاہ رسالت سے تھا، وہ درخواست محترمہ کی دعا سے قبول ہوئی، تفصیل بیان نہیں کی جا سکتی۔محترمہ مکرمہ بھی اعلیٰ آفیسر ہیں محترمہ طیبہ کیانی آج کل شاید چیف فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ہیڈکوارٹر) اسلام آباد ہیں وہ بھی اپنے نام کی مکمل تشریح اور عملی کردار ہیں یعنی طیبہ، ان کے متعلق زیادہ بات نہیں کروں گا کہ ان کو گراں نہ گزرے بس اتنا کہوں گا کہ کسٹم کے تجربے کے سفر کا ذکر محترمہ طیبہ کیانی صاحبہ کے پاکیزہ و پارسا کردار کے حوالے کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ وقت کے ساتھ ساتھ تزک و احتشام، روحانیت و انسانی عظمت کی لازوال منازل طے کر چکیں۔ میری خوش نصیبی کہ وہ مجھ احقر کو ہمیشہ اپنا بھائی کہتی ہیں۔ ایک بار گلزار بھائی نے کسی معاملے میں کہا کہ تم میڈم کیانی صاحبہ کیلئے اپنی دونوں سگی بہنوں سے زیادہ عزت، شفقت اور احترام رکھتے ہو، فلاں بات ان سے کر سکتے ہو۔ ”کسی اپنی عزیزہ جو کسٹم میں ہے کی سفارش کی تھی“ (اس کا ذکر ہے)۔ میں نے کہا بھائی جان آپ درست فرماتے ہیں وہ مجھے بہنوں سے زیادہ عزیز ہیں بلکہ اب تو بزرگی کی آمد آمد ہیں وہ اتنی پارسا اور قابل تعظیم ہیں کہ اگر اللہ مجھے تیسری بیٹی دیتا تو میری خواہش ہوتی کہ محترمہ طیبہ کیانی جیسی دیتا مگر روحانی ابلاغ اور ان کی روحانیت و پارسائی اور تقویٰ میں بلندی دیکھ کر میں ان کا سامنا کرنے کی تاب نہیں رکھتا۔ بڑے لوگ آئے اور بڑے لوگ آئیں گے مگر قبلہ محمد صادق صاحب اور محترمہ طیبہ کیانی صاحبہ جیسی ہستیاں شاید نہ آئیں۔ کیا درس گاہ لوگ ہیں، کیا نگینے لوگ ہیں جو صرف کتابوں میں مل سکتے ہیں۔ حقیقت میں ایسی افسانوی شخصیات کا وطن عزیز کی معاشرت میں سرکاری شاہی میں ملنا نا ممکن ہے۔ ان کا ذکر اس لیے آ گیا، بات کسٹم کی غلامی کے تجربے اور کڑی دھوپ میں ملنے والی چھاو¿ں کی چل رہی تھی۔ اس لیے ان کا ذکر کیے بغیر بات مکمل نہ ہوتی۔ (جاری ہے)

ٹیگز: