Wed, September 16, 2026

پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تجارتی تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے اہم اقدامات

پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تجارتی تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے اہم اقدامات

اسلام آباد: ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے پاکستان کے دو روزہ دورے کے دوران اہم اقتصادی فیصلے کیے ہیں، جن میں پاکستانی تاجروں کو 10 سال تک ٹیکس استثنیٰ دینے کا اعلان شامل ہے۔ یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کیا گیا۔ اس موقع پر پاکستان-ازبکستان بزنس فورم کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور ازبک صدر شوکت مرزائیوف نے خطاب کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں بہتری آ رہی ہے اور گزشتہ سال 450 ملین ڈالر کی تجارتی سرگرمیاں ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ اب دونوں ممالک کا ہدف ہے کہ تجارتی حجم کو 2 ارب ڈالر تک بڑھایا جائے۔ وزیرِاعظم نے ازبکستان کے ساتھ تعاون کے نئے مواقع پر بات کی اور خاص طور پر سائنس، ٹیکنالوجی، توانائی، زراعت اور ٹیکسٹائل کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان کے ٹیکسٹائل برآمد کنندگان ازبکستان میں پلانٹس لگانے کی خواہش رکھتے ہیں، جس سے دونوں ممالک کو معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔ اس کے علاوہ، پاکستان میں ٹیکسٹائل کے شعبے میں ہونے والی ترقی کی وجہ سے ازبک تاجروں کو بھی سرمایہ کاری کے مواقع ملیں گے۔

ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے بھی فورم سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی تاجروں کے لیے اہم سہولتوں کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تاجروں کو 10 سال تک ٹیکس سے استثنیٰ دیا جائے گا، جس سے انہیں ازبکستان میں کاروبار کرنے میں آسانی ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ازبکستان میں کاروباری ماحول سازگار ہے اور پاکستانی تاجروں کو وہاں سرمایہ کاری کے لیے مکمل سہولت فراہم کی جائے گی۔

ازبک صدر نے یہ بھی کہا کہ ازبکستان پاکستان کو جراحی کے آلات اور ادویات کی تیاری میں تعاون فراہم کرے گا، اور دونوں ممالک کے درمیان صحت کے شعبے میں بھرپور تعاون کی بنیاد رکھی جائے گی۔ اس کے علاوہ، پاکستان اور ازبکستان نے زراعت، لائیو اسٹاک، ڈیری فارمنگ اور معدنیات کے شعبے میں بھی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

فورم کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ 2026 تک دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید گہرا کیا جائے گا۔ شوکت مرزائیوف نے کہا کہ چین، کرغزستان اور ازبکستان کے درمیان تجارتی سرگرمیاں قابل ستائش ہیں اور وہ پاکستان کے تاجروں کو اپنے ملک میں سرمایہ کاری کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کریں گے۔

ٹیگز: