Wed, September 16, 2026

اسلام آباد میں امام بارگاہ کے قریب دھماکہ، 12 افراد شہید ، متعدد زخمی

اسلام آباد میں امام بارگاہ کے قریب دھماکہ، 12 افراد شہید ، متعدد زخمی

راولپنڈی : اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ میں جمعہ کی نماز کے دوران ایک خودکش دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں 24 افراد شہید اور 150 سے زائد زخمی ہوگئے۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اس کی آواز دور تک سنائی دی اور قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

پولیس کے مطابق، خودکش حملہ آور امام بارگاہ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن سکیورٹی اہلکاروں نے اسے روکا تو حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اُڑا لیا۔ دھماکے کے فوراً بعد پولیس اور ریسکیو اہلکار موقع پر پہنچے، جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے دھماکے میں 31 افراد کے شہید ہونے اور 160 سے زائد زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ زخمیوں کی تعداد میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور زخمیوں کو فوری طور پر مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ پمز اسپتال میں 60 زخمی لائے گئے، پولی کلینک میں 13، فیڈرل جنرل اسپتال میں 27، اور بے نظیر اسپتال میں بھی زخمیوں کا علاج جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق، دھماکہ جمعے کی نماز کے دوران دوسری رکعت کے سجدے کے دوران ہوا، جب نمازی سجدے میں تھے۔ حملہ آور نے پہلے فائرنگ کی اور سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے کے بعد خود کو دھماکے سے اُڑا لیا۔

اسلام آباد کے آئی جی نے  بتایا کہ دھماکے میں ان کے کزن کا بیٹا بھی شہید ہو گیا جو نماز پڑھنے کے لیے امام بارگاہ میں موجود تھا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اس حملے کی شدید مذمت کی اور شہادتوں پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی اور اس واقعے کی تحقیقات کے لیے وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس حملے کے ذمہ داروں کو جلد گرفتار کرکے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے گی۔

ٹیگز: