انسانی تعلق کا آج تک کی تاریخ کا بدترین سکینڈل جیفری ایپسٹن کی فائلز کی صورت میں وزارت انصاف امریکہ سے تسلسل سے جاری ہوتا چلا جا رہا ہے اس کریہہ ترین سانحہ اور اس میں ملوث بیشتر ملکوں کے سربراہوں کی ذہنی حالت کے کھلتے پول کے سوا جس چیز نے زندگی کی ہر خوبصورتی سے نفرت کروا دی ہے وہ انسان کا انسان سے تعلق تو گیا بھاڑ میں انسانی لالچ پر بھی اب کوئی حیرت نہیں ہوتی کہ جہاں 10 روپے پر قتل اور چند اربوں کے لئے ملک بیچ دیا جاتا ہے کی رہنے والی ہوں۔
مجھے پہلی تکلیف اس امر کی ہوئی کہ ہم جو عورت مرد کے رشتے پر شاعری کرتے ہیں وہ اتنا بدصورت اتنا غلیظ اتنا کریہہ بھی ہوسکتا ہے دست قدرت نے تو عورت مرد کے درمیان ایک ایسا سحر ایسی خوبصورتی جبلت کر دی تھی کہ دل والوں نے محض ایک نظر پر زندگیاں قربان کر دیں ایک جھلک نے زندگی بھر کے لئے پابند کر دیا۔ آنکھوں کا آنکھوں سے وعدہ زندگی کی آخری سانس نے وفا کیا۔
جون ایلیا نے کہا
ان کی نگاہ ناز کا یہ مان تھا کہ آپ
عمر گزار دیجیے ، عمر گزار دی گئی
آج بھی ہم ایسے ایک نظر کی اسیری ایک تعلق کی بجا آوری اور ایک وعدے پر عمر بھر کھڑے رہتے ہیں ، مگر یہ کیا غریب ملکوں میں بچوں کو پولیو ویکسین فراہم کرنے والی بچوں کا ریپ کر کے ان کی انتڑیاں کھا جاتے رہے کیا ایسی جدید ترقی سائنسی تعلیم اور بے پناہ طاقت نے انسان نے درندوں کو مات کر دیا ثابت کر دیا کہ طاقت ملنے کی دیر ہے۔ مذہب ، معاشرت ، تعلیم ، تہذیب کی تمام زین ’’ کاٹھیاں‘‘ اور لبادے اتار پھینک پل میں جانور بنتا ہے تو کیا انسان اسی درندگی کے باعث باقی تمام جانوروں پر فتح یاب ہوتا جنگل کو کھا کے جنگل کا مالک بن گیا جانور کھا کھا کے ’’رج‘‘ نہیں لگا پرندے چریاں زبانیں پیر سر سب کھا لیا سب میئر ہوا تو اپنی ہی اولاد کو کھانے لگا چھوٹے بچوں کی ڈش بھی ضروری ہو گئی حد سے بڑھی ہوئی آزادی بارہ سال کی عمر سے شروع ہوئی جنسی زندگی نے جب بیس تیس چالیس سال بعد کر دیا تو پھر Taboos ٹیبوز توڑنے لگا مقدس رشتے توڑنے پھلانگنے سے بھی جی بھر گیا تو لذت کام و دہن و لذت بدن کے لئے ڈارک سائیٹس بنا ڈالی۔ جہاں سنتے تھے کہ چھوٹی بچیوں کی چیخوں سے ان جانوروں میں جنسی خواہش جاگتی مگر وہم تھا کہ ایسا ذہنی مریض پسماندہ اور لا علم لوگ کرتے ہوں گے مدرسوں کے واقعات پر رسوائی مار کٹائی سے معاملے سنتے رہے اپنا بچپن اور بچوں کا بچپن خوف میں گزارا پھر گزشتہ دنوں آصف فرضی جیسے دانشور کا ’’پیڈز‘‘ کی بیماری سے خوار وزبوں ہونا سنا مگر یہ اتنی بڑی صنعت بن چکی ہے اور اس کے لئے ایک پورا آئر لینڈ مختص ہو چکا اور ابھی تو کتنے خفیہ آئرلینڈ واشگاف ہونے ہیں۔ یہ بچے ریپ کرنے اور ان کے مردہ جسم کھانے والے کوئی گلی محلے کے آوارہ لڑکے نہیں جنہیں لڑکی میسر نہ ہو یہ ملکوں کے صدور، بادشاہ ، وزرائے اعظم ، روساء ، امراء ، ایکٹرز بااثر ترین مشرق وسطے اور فاراسیٹ کے شہزادے اس یہودی ایپسٹن جو موساد کے لئے کام کر رہا تھا کے مہمان اور گھنائونے کھیل کے پارٹنر تھے۔
ہزاروں تصاویر ، ای میلز اور فائلز پر مبنی معلومات اب خفیہ نہیں کہ انہیں محکمہ انصاف نے خود جاری کر دیا ہے طاقتور ترین لوگوں کا پردہ ایک مردہ شخص کے ہاتھوں فاش ہو رہا ہے برصغیر کے بااثر حکمرانوں کے نام آ رہے ہیں۔
جرم ہوتا ہے تو چھپتا نہیں خاموشی سے
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا
دوسرا غم یہ تھا کہ نہ پڑھوں رہی سہی خوبصورتی بھی دماغ سے دھواں ہو جائے گی۔ اگر اسے بیماری تسلیم کروں تو کیا اتنے بڑے مریض ملکوں کے فیصلہ کر رہے ہیں۔ سنتے تھے کہ غربت کی زیادتی یا دولت کی زیاتی خوشگوار زندگی کو چھین لیتی ہے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ساڑھے پانچ فٹ چھ کے انسان کی اتنی اوقات نہیں کہ خزانے پہلے چرائے اسے پرتگال میں رکھے یا پھر جزیرہ خرید کر دفن کر حکم ازل ہو چکا ہے کہ انسان خسارے میں ہے اب تیرا اور آخری رونا کہ عورت مرد کے ازلی خوبصورت تعلق کو اور کتنا برباد کرنا ہے ۔
ابھی تو گھروں میں ہونے والے تشدد اور چولہے پھٹنے دلہن مرنے اور طاقتور ہونے کے غم ہی بہت تھے مگر کہیں نہ کہیں عورت مرد کے تعلق صلح اور انس کا منظر نظر آ جاتا۔ اب تو گویا رومانس گیا چولہے میں افسانے گیت شاعری پھول تیلیاں ملنے کے زمانے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو چیرٹی کرتے ہیں انسانی بستیوں میں اچھا بننے کے لئے غریبوں کے لئے دستر خوان بچھاتے ہیں پولیو کی دوائیاں بھیجتے ہیں انہیں کے بھائیوں بندوں کا خون بیچ کر انسان گویا خود کو ہی کھا رہا ہے ۔
’’راز کھلتے ہیں مگر وقت گزر جاتا ہے ‘‘
مجھے لگتا ہے جیسے ہر راز کی محض مدت ہو پہلے کئی بار لکھا کہ جب وقوعہ ہوتا ہے تو وہاں کی چار دیواری اور آسمان کا ٹکرا گواہ ہوتے ہیں مگر سامنے جو کہانی آتی ہے وہ وہاں کے تھانیدار ، مولوی ، وڈیرے اور مقامی رپورٹر کے زیر اثر ظالم کو مظلوم اور مظلوم کو ظالم بنا دیتی ہے ۔
بچپن میں بہت ہی سخت اور جابر عورت کے لئے سنتے تھے فلاں ’’بچے کھانی‘‘ ہے اب دنیا کے طاقتور ترین لوگوں کو بچے تروڑتے مروڑتے نچوڑتے دیکھ رہے ہیں ان کی معصوم’’ ملوک‘‘ ہڈیوں کا سوپ اور سفوف بنتے دیکھ رہے ہیں۔
گزشتہ دنوں سنا کہ مشہور ایکٹریس (پاکستان کی بھی) ایکسوزوم تھراپی یا انجکشن چہرے کی جلد کو چمکدار اور بوڑھاپے سے بچانے کے لئے لگواتی رہیں جو بعد ازاں پتہ چلا کہ وہ ’’فیٹس‘‘ یعنی ماں کے پیٹ میں دو تین ماہ کے گرائے ہوئے حمل سے حاصل کیا جاتا ہے بھارتی ہیرا منڈی میں تو جب جسم فروش اور ایڈز نے کام ٹھپ کیا تو وہاں کی جسم فروش عورتوں نے فیٹس بیچنے شروع کئے کہ ان کے گردوں اور دیگر اعضاء کی پیوندکاری امیر بڈھوں میں کی جائے ۔
اب بتائیں بچے کھانیاں اور بچے کھانے والوں میں کیا فرق ہے ۔
البتہ ریاض خیر آبادی بہت پہلے کہہ گئے ۔
جو چپ رہے گی زبان خنجر تو لہو پکارے گا آستیں کا یہ دنیا بس اس قابل ہے کہ یہاں اپنا ٹائم پورا کر کے نکلتے بنو۔