یہ استاد لوگ ہیں جناب! میں نے سیٹھ رضوان سے کہا۔ سیٹھ نے پانی پی کر سٹیل کا گلاس میز پر رکھتے ہوئے مجھے گھورا۔ میں نے کہا یار! آپ کی دنیا کے فیشن جیفری اپسٹین جیسے لوگ بناتے رہے ہیں۔انھی کے میجک نے زندگی کو ضرورت سے اٹھا کر عیاشی کے سپرد کر دیا ہے۔ کئی دہائیوں تک آپ کو مہذب بنانے کا کارنامہ برطانوی شاہی خاندان کے پرنس اینڈریو جیسے لوگوں نے ادا کیا ہے۔ انھوں نے ہمیں سمجھایا کہ ہاتھ سے کھانا بد تہذیبی شمار ہوتا ہے ساتھ یہ بھی بتایا کہ علاقائی لباس اور زبان نیم خواندہ ہونے کی علامت ہیں۔ آپ کو قانون رچرڈ انڈی جیسے لوگ سکھاتے رہے ہیں۔ گیسلائن میکسویل نے گھر بار سے مہنگے پرس اور بیگ خریدنے کا چلن دنیا کی عورتوں کو عطا کیا ہے۔ آپ کے سارے شاپنگ مال ان کی سوچ کے سہارے چل رہے ہیں۔ ریڈ ہافمین آپ کے انٹر پنیورز کے نظریہ سازہیں یہ آئی ٹی اخلاقیات بناتے رہے ہیں۔ بل گیٹس نئی دنیا کی ذہانت کا نظام بناتے رہے ہیں اور مارک زکر برگ جیسے لوگ اسے کنزیوم کر کے کمیونٹی سٹینڈرڈ سیٹ کرتے رہے ہیں۔ سیٹھ نے لقمہ دیا " آنے والے دور کی تیاری یووال حرارے جیسے مفکرین کرواتے رہے ہیں اور بس پھر دیکھتے ہی دیکھتے امریکی تحقیقاتی ادارے اپنی تحقیق کے ذریعے دنیا کو گھما کر رکھ دیتے ہیں۔" میں نے کہا بھائی! ایک خاص قسم کے کلچر کو فروغ دینے اور چند ذہنی معذوروں کی عالمی بالادستی کو نسل در نسل قائم رکھنے کے لیے نظام بنائے جاتے ہیں پھر اسی نظام کے مطابق فیشن اور ٹرینڈز عام کیے جاتے ہیں۔ آئے روز نئی تحقیق سامنے آتی ہے جو آپ کو دیسی گھی، دہی اور مکھن سے پراسیسنگ آئل پر شفٹ کرتی ہے، سگریٹ کو پھیپھڑوں کی دوا بتاتی ہے مہذب لوگوں کی یہ تحقیق ایک گلاس پانی کو لوہے یا تانبے کے گلاس کی بجائے پلاسٹک کی بوتل میں کئی کئی دن رکھنے کے بعد پینا صحت کے لیے فایدہ مند بتاتی ہے۔ دیکھیے کیسے کارپوریٹ سیکٹر نے ٹرینڈ اور لائف سٹائل کے نام پر آپ کو مکمل طور پر ایسا لائف سٹائل سونپ دیا ہے جس میں کچھ بھی کبھی آپ کا اپنا نہیں۔ نہ زیر استعمال چیزوں سے کوئی نسلی تعلق نہ اپنے لائف سٹائل کا کوئی پشتنی تجربہ۔ نئی تعلیم نے ہمارے لاوارث ہو جانے کو جنریشن گیپ کی خوبصورت اصطلاح سونپ دی ہے۔ اسی طرح کی کئی اصطلاحات نے ہمارے احساس کمتری اور کو جائے پناہ عطا کی ہے۔ سیٹھ نے ایک لمبی سے ہوووووں۔۔ کی تو میں نے کہا: بات یہاں بھی نہیں رکتی آپ کا تصورِ کائنات سٹیفن ہاکنگ بناتے رہے ہیں اور سیاسی نظام کی بہترین مثالیں ٹونی بلیئر اور ٹرمپ ہیں۔ فیشن مائیکل جیکسن جیسے لوگوں کے مضحکہ خیز حلیوں اور ذہنی بیماریوں کے شکار لوگوں کو دیکھ کر وجود پاتا رہا ہے۔ہمارے زمیند داروں کے فارم ہاؤس اب بھی زورو رنچ کی خواہش پر بنائے جاتے ہیں۔ ان کے مقاصد بھلے ویسے نہ ہوں لیکن فیشن وہی رائج کر دیا گیا ہے۔ ان کرداروں سے اندازہ کیجے کہ تعلیمی نظام سے لے کر دنیا اور زندگی کے بہت سے اہم تصورات کی حقیقت کیا ہو گی جو ان مسخروں سے مستعار لیے گئے ہیں۔
ذہن پریشر ککر بن گئے ہیں، آپ کے پاس جینے کے لیے لمحہ نہیں ہے! حسد، غیر ضروری مقابلے، رقابت اور لالچ کی ایسی دوڑ لگی ہے کہ کسی بھی طریقے سے کسی بھی ذریعے سے دن، رات بس پیسہ کمانے کی دھن سوار ہے۔ گاڑی کا پنکچر لگانے والے سے لے کر، مکینک تک، ڈاکٹر پروفیسر سے لے کر منیجر، ایک سائنسدان سے لے کر معمولی مزدور تک سب کا مقصد صرف اور صرف پیسہ کمانا ہے۔ اس لائف سٹائل نے عزت، شرافت جیسے الفاظ کو غیر ضروری قرار دے دیا بلکہ کردار کو غیر متعلقہ بنا کر پیش کیا ہے۔ ضمیر ماضی کا قصہ ہو گیا ہے اور صرف اور صرف مادی عیاشی کامیاب زندگی کی واحد کسوٹی ہے۔ جو عیاش ہے وہ کامیاب ہے اور وہ تمام افراد جن کی صرف ضروریات پوری ہو رہی ہیں صبح شام اس درد کا شکار ہیں کہ یہ تعیش میں پیچھے کیوں رہ گئے ہیں۔ جس طرح جیفری اپسٹین دنیا کے بااثر لوگوں کو عجیب و غریب اور ماورائے عقل عیاشی سے متعارف کرواتا تھا اور انھیں اس کا عادی بنایا تھا، ہمارا لائف سٹائل اسی سوچ پر ڈھالا گیا ہے۔ اس کے عجائبات سب سے پہلے اخلاقیات، انسانیت اور ضمیر کو دنیا کے فضول ترین توہمات سمجھ کر پھینک دیتے تھے۔ آپ ذرا غور کیجیے! آپ کے موجودہ کسی فیشن یا ٹرینڈ میں ان غیر ضروری چیزوں کی کوئی گنجائش نکلتی ہے؟؟۔
میں نے گزشتہ ماہ ذکر کیا تھا کہ یہ لائف سٹائل ہے کہ آپ نے پیدل نہیں چلنا، سائیکل نہیں چلانی، گھر کے کام کاج یا روز مرہ امور میں محنت نہیں کرنی کیوں کہ اس سے آپ کی توہین ہوتی ہے لیکن گاڑی میں بیٹھ کر کئی کلو میٹر کا سفر کر کے جم جانا ہے اور وہاں یہی محنت مشقت بطور فیشن کرنی ہے۔ گاڑی میں وہاں پہنچ کر کی کئی گھنٹے سائیکل چلانی ہے اور وزن اٹھانا ہے۔ لیجے آپ مصروف ہو گئے اور آپ کا سوشل سٹیٹس بڑھ گیا۔ آپ نے سادہ خوراک نہیں کھانی لیکن ہزاروں اقسام کی دوائیں استعمال کرنی ہیں اوٹ پٹانگ حرکتیں اور ورزشیں الگ سے کرنی ہیں لیکن انھیں کبھی کام کا حصہ نہیں بنانا۔ کام صرف پیسے کے لیے کرنا ہے اس کا مہارت یا شوق سے کوئی تعلق نہیں، اس لیے تفریح کے لیے الگ سے وقت اور مشاغل ڈھونڈنے ہیں۔لیجیے آپ ماڈرن بھی ہو گئے ہیں۔ بھائی صاحب! انھی کے عطا کردہ ڈسپوزیبل برتنوں اور بوفے کلچر کی بے ہودگی نے رشتوں کو اسی طرز اور ترتیب سے دیکھا ہے۔ زیر استعمال چیزوں سے نئے انسان کا مخصوص مزاج تیار کیا گیا ہے جو فی البدیہہ پرانی چیزوں کو چھوڑ کر نئی تھامنے کا عادی ہو اور تعلقات میں اعتبار سے زیادہ چوائس پر انحصار کرتا ہو۔ اس نئے مائنڈ سیٹ اور مزاج کے بغیر کھربوں ڈالر کی مارکیٹ پیدا نہیں کی جا سکتی تھی۔ سیٹھ نے کہا اب کچھ کچھ سمجھ آتا ہے کہ انتطار حسین اکثر جدید تعلیم یافتہ افراد کو جاہل کیوں گردانتے تھے۔ میں نے کہا کہ کہانی مختصر یوں ہے کہ ہمارے چھوٹے چھوٹے لارڈز اور نئے نئے امیروں نے جلدی جلدی امپورٹڈ عقل و شعور کو اپنایا اور ہمارے معاشرے پر مسلط کر دیا۔ یہ شاید وہی لوگ تھے جنھیں اسی کام کے لیے نوآبادیاتی نظام نے لارڈ اور امیر بنا دیا تھا۔ انھی کی نسلوں نے باقی معاشرے کو مہذب بنانے کا فریضہ سر انجام دیا ہے۔ نوآبادیات کی بدبودار باقیات نے کمپنی کی زبان، لہجے، تعلیم، رہن سہن، حتی کہ سوچ اور رویے تک کو اس ملک میں قائم دائم رکھا ہوا ہے۔ سیٹھ چارپائی پر دراز ہوتے ہوئے کہنے لگے " آپ ان سے جان چھڑوا لیں پھر آپ کے لوگ افغانیوں، تورانیوں کو پکڑ کر بیٹھ جائیں گے"۔