چوپال سجی ہوئی تھی۔ سب براجمان تھے اور چپ سائیں کے منتظر تھے۔ چپ سائیں کی آمد کھنگورا مارتے ہوئے ہوئی۔ چپ سائیں اپنی جگہ پر بیٹھ گئے اور اخبار کے مطالعے میںمصروف ہوگئے۔ ان کی نظریں کھیل کی خبر پر ٹھہر گئی، جو بظاہر کھیل کی خبر تھی لیکن اس کو کرکٹ ڈپلومیسی کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیاجارہا تھا۔۔ سب منتظر تھے کہ چپ سائیں کچھ بولیں۔۔۔چپ سائیں توقف کے بعد بولے۔۔ بچوں۔۔۔ ہمارے ہمسائے ملک کی نفرت اب کھیل کے میدان میں بھی عیاں ہونے لگی ہے۔۔ سب نے بیک زبان ہوکر پوچھا۔۔۔ سائیں جی آخر معاملہ کیا ہے اور آپ کیا کہنا چاہتے ہیں۔؟ چپ سائیں توقف کے بعد بولے۔۔۔ بھائیو!پاکستان نے کرکٹ ورلڈ کپ میں بھارتی ٹیم کے حوالے سے دو ٹوک موقف اپناتے ہوئے ورلڈ کپ کھیلنے کا فیصلہ تو کیا ہے لیکن بھارتی ٹیم کا بائیکاٹ کیا ہے۔۔ یہ فیصلہ کرکٹ ڈپلومیسی میں تاریخی حیثیت کا حامل ہے کیونکہ ہم سب سے کھیلیں گے لیکن بھارتی حریف سے نہیں ،اس کی گونج بھارتی ایوانوں میں ہوئی ہے، حالانکہ ساری دنیا پاکستان اور بھارت کے مقابلے کی منتظر ہوتی تھی لیکن اب صورتحال مختلف ہے۔
صاحبو!جنوبی ایشیا میں کرکٹ کبھی محض ایک کھیل نہیں رہی۔ یہ خطے کی سیاست، سماج اور اجتماعی نفسیات کا عکس رہی ہے۔ یہاں کرکٹ جیتی جائے تو قومیں جشن مناتی ہیں اور ہاری جائے تو ماتم کا سماں ہوتا ہے۔ شاید اسی لیے اس کھیل پر سیاست کا سایہ بھی سب سے گہرا رہا ہے۔ مگر جو کچھ آج ہم دیکھ رہے ہیں، وہ ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ اور افسوسناک ہے۔
ایک وقت تھا جب کرکٹ سرحدوں سے بڑی نظر آتی تھی۔ ایشیا کی مشترکہ ٹیمیں بنتی تھیں، جہاں سچن ٹنڈولکر اور وسیم اکرم ایک ہی جرسی میں ایک ہی مقصد کے لیے میدان میں اترتے تھے۔ یہ مناظر اس بات کی علامت تھے کہ کم از کم کھیل کے میدان میں نفرت، دشمنی اور سیاسی کشیدگی کو ایک طرف رکھا جا سکتا ہے۔ آج جب ان لمحات کو یاد کیا جاتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے کرکٹ واقعی کسی اور دنیا میں کھیلی جاتی
تھی،ایک ایسی دنیا جو اب شاید ہمیشہ کے لیے کھو چکی ہے۔ کرکٹ کے فیصلے اب میرٹ، کارکردگی یا شفاف اصولوں پر نہیں ہوتے، بلکہ پس پردہ طاقت، دباؤ اور اشاروں کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔
یہ مسئلہ صرف بڑی ٹیموں تک محدود نہیں رہا۔ بنگلہ دیش اور افغانستان جیسے ممالک، جو محدود وسائل کے باوجود اپنی محنت سے آگے بڑھے، اب اسی سیاست کا شکار ہو رہے ہیں۔ ابھرتی ہوئی ٹیموں کے لیے مواقع سکڑتے جا رہے ہیں، کیونکہ علاقائی اور عالمی ادارے غیر واضح پالیسیوں کے تحت فیصلے کر رہے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ٹیلنٹ سے بھرپور یہ خطہ خود اپنی ہی کرکٹ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔دوستو!اس کا حل یہ ہے کہ ایسی قیادت جو کرکٹ کو سیاست سے الگ رکھ سکے۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ اس وقت ایسی قیادت کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ ایشیائی کرکٹ کونسل ہو یا عالمی ادارے، سب طاقتور فریقوں کے سامنے کمزور نظر آتے ہیں۔ فیصلے کھیل کے مفاد میں کم اور سیاسی مصلحتوں کے تحت زیادہ ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔
بھارت کا بنگلہ دیش پر دباؤ، پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدہ تعلقات، اور مجموعی طور پر عدم اعتماد کی فضا،یہ سب مل کر کرکٹ کو ایک ایسی دلدل میں دھکیل رہے ہیں جہاں سے نکلنے کا کوئی واضح راستہ نظر نہیں آتا۔ ان کے مطابق کوئی بھی فریق پیچھے ہٹنے یا لچک دکھانے کو تیار نہیں، اور یہی ضد معاملات کو مزید بگاڑ رہی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جب تک جنوبی ایشیا کے سیاسی حالات بہتر نہیں ہوتے، کرکٹ بھی سکون کا سانس نہیں لے سکتی۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا کرکٹ کو ہمیشہ سیاسی تنازعات کی قیمت ادا کرنا پڑے گی؟ کیا اس کھیل کو، جو کروڑوں لوگوں کی خوشی اور امید سے جڑا ہے، محض طاقت کے کھیل کا ایندھن بنائے رکھنا ناگزیر ہے؟۔
اس کے باوجود امید مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ کرکٹ اب بھی عوام کے دلوں میں زندہ ہے۔ گلیوں میں کھیلتے بچے، خالی میدانوں میں لگنے والی وکٹیں اور ہر بڑے میچ پر رک جانے والی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ کھیل ابھی مرا نہیں۔چوپال کے بچو قابل ذکر بات یہ ہے کہ فی الحال جنوبی ایشیا اور کرکٹ کا رشتہ ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر حالات یہی رہے تو وہ دن دور نہیں جب ہم کرکٹ کے سنہرے دور کو صرف افسانوں اور ماضی کی یاد سمجھیں گے اور پھر یہی کہا جائے گا کہ ایک زمانہ ایسا بھی تھا، جب کرکٹ لوگوں کو جوڑتی تھی، توڑتی نہیں تھی۔
صاحبو!آخر میں سوال یہ نہیں کہ جنوبی ایشیا میں کرکٹ کتنی مقبول ہے، سوال یہ ہے کہ ہم اس مقبولیت کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔ ایک ایسا کھیل جو نفرت کی دیواریں گرانے کی طاقت رکھتا تھا، آج خود انہی دیواروں کے نیچے دبتا جا رہا ہے۔ کرکٹ اب فیصلوں کی میز پر کمزور اور تماشائیوں کے ہاتھ میں صرف ایک جذباتی کھلونا بنتی دکھائی دیتی ہے۔
بھائیو!یہ ماننا پڑے گا کہ مسئلہ کسی ایک ملک یا ایک بورڈ کا نہیں ہے ، یہ پورے خطے کی سوچ اور سیاسی ترجیحات کا نتیجہ ہے۔ جب کھیل کو طاقت کے اظہار اور سفارتی دباؤ کے لیے استعمال کیا جائے تو پھر کھیل نہیں، نقصان ہوتاہے اور یہ نقصان خاموش ہوتا ہے۔ قابل امر بات یہ ہے کہ شاید کرکٹ بچ بھی جائے، بڑے ایونٹس ہوتے رہیں، سٹیڈیم بھرے رہیں، شور بھی مچا رہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا وہ روح واپس آئے گی جو کبھی اس کھیل کی پہچان تھی؟ وہ بے فکری، وہ وسعت نظر، وہ احساس کہ کھیل سرحدوں سے بڑا ہو سکتا ہے؟۔
فی الحال تو منظرنامہ یہی کہتا ہے کہ جنوبی ایشیا کی کرکٹ وقت سے نہیں، اپنی ہی سیاست سے ہار رہی ہے۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ جب کھیل ہارنے لگے تو قومیں صرف اسکور نہیں گنواتیں، اپنا مشترکہ مستقبل بھی گنوا بیٹھتی ہیں۔
صاحبو!شاید وقت ابھی مکمل طور پر ہاتھ سے نہیں نکلا، مگر گھڑی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اگر جنوبی ایشیا نے کرکٹ کو طاقت کے اظہار کے بجائے تعلق کا ذریعہ نہ بنایا تو آنے والی نسلیںکھلاڑیوں کو ایک ہی جرسی میں نہیں، صرف ایک تصویر میں شائد دیکھیں ، بالکل اسی طرح جس طرح ماضی میں نو ہینڈ شیک تنازع اٹھا تھا اور کرکٹ کے ساتھ ساتھ ہر میدان میں اس کی گونج تھی، اس سے دونوں ممالک کی جگ ہنسائی ہوئی ہمیںاس سب کو روکنا ہوگا۔اگلی نسل کے لیے یہ ایک پیغام ہے کہ یہ سوال ہوگا کہ کرکٹ کہاں ہار گئی، بلکہ یہ بھی سوچیںگے کہ ہم نے اسے کہاں ہارنے دیا۔۔۔۔رہے نام اللہ کا!۔