Wed, September 16, 2026

 ٹرمپ نے جرنیلوں کو مستعفی ہونے پر کیوں مجبور کیا

 ٹرمپ نے جرنیلوں کو مستعفی ہونے پر کیوں مجبور کیا

جنگیں صرف میدانِ جنگ میں ہی نہیں لڑی جاتیں بلکہ اقتدار کے ایوانوں میں بھی ان کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ ہر فوجی مہم کے پیچھے ایک خاموش مگر نہایت اہم کشمکش جاری رہتی ہےسیاسی اختیار اور عسکری بصیرت کے درمیان ٹکرا۔ امریکہ جیسے نظام میں، جہاں آئین کے تحت سویلین بالادستی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، یہ کشمکش اس وقت نمایاں ہو جاتی ہے جب اعلی فوجی قیادت کو عہدوں سے ہٹایا جاتا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے دوران جنگ جرنیلوں کی برطرفی یا استعفے صرف عسکری ناکامی کا نتیجہ نہیں تھے بلکہ اس کے پیچھے گہرے سٹرٹیجک اختلافات بھی کارفرما تھے۔
تاریخ ہمیں اس حوالے سے واضح مثال فراہم کرتی ہے۔ کورین جنگ کے دوران صدر ہیری ایس ٹرومین نے جنرل ڈگلس میک آرتھر کو برطرف کیا۔ یہ فیصلہ اس لیے نہیں کیا گیا کہ وہ جنگ ہار رہے تھے، بلکہ اس لیے کہ انہوں نے کھلے عام حکومتی پالیسی سے اختلاف کیا اور چین کے خلاف جنگ کو مزید وسعت دینے کی وکالت کی۔ اس واقعے نے یہ اصول واضح کر دیا کہ امریکی نظام میں عسکری قیادت کا سویلین پالیسی کے سامنے جھکنا لازم ہے۔ یہی سبق آج بھی امریکی پالیسی سازی میں نمایاں ہے۔
یہ سوال اہم ہے کہ کسی بحران یا جنگ کے دوران صدر کیوں اپنے جرنیلوں کو ہٹانے کا فیصلہ کرتا ہے؟ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ سب سے پہلی وجہ سٹرٹیجک اختلاف ہے۔ فوجی کمانڈر عموما جنگ جیتنے کے لیے فیصلہ کن اور بھرپور طاقت کے استعمال کے حق میں ہوتے ہیں، جبکہ سیاسی قیادت کو وسیع تر عوامل کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے، جن میں سفارت کاری، عالمی رائے عامہ، اتحادیوں کے مفادات اور معاشی اثرات شامل ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھتی ہے تو امریکی فوج محتاط حکمت عملی اختیار کرنے کا مشورہ دے سکتی ہے تاکہ پورے خطے میں جنگ نہ پھیل جائے، جبکہ سیاسی قیادت فوری اور نمایاں نتائج چاہ سکتی ہے۔ ایسے حالات میں اختلاف شدت اختیار کرے تو جرنیلوں کو ہٹانا ایک عملی حل سمجھا جاتا ہے۔ دوسری اہم وجہ سیاسی اہداف کا حاصل نہ ہونا ہے۔ جنگیں صرف عسکری کامیابی کے لیے نہیں لڑی جاتیں بلکہ ان کا مقصد سیاسی نتائج حاصل کرنا بھی ہوتا ہے۔ اگر کوئی فوجی مہم ایران کے اثر و رسوخ کو کم کرنے، اس کی پالیسیوں کو روکنے یا اتحادی ممالک جیسے اسرائیل کو مطمئن کرنے میں ناکام رہتی ہے تو اس کا ذمہ دار اکثر فوجی قیادت کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر میدان جنگ میں کامیابیاں حاصل بھی ہو رہی ہوں، تب بھی اگر سیاسی مقاصد پورے نہ ہوں تو قیادت میں تبدیلی کی جاتی ہے۔تیسری وجہ اعتماد کا فقدان ہے۔ جنگ کے دوران سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور اعتماد ناگزیر ہوتا ہے۔ اگر صدر کو یہ محسوس ہو کہ جرنیل احکامات پر مکمل عمل نہیں کر رہے، فیصلوں میں تاخیر کر رہے ہیں یا اپنی ترجیحات کو ترجیح دے رہے ہیں تو یہ اعتماد ٹوٹ جاتا ہے۔ ایک بار اعتماد ختم ہو جائے تو اسے بحال کرنا تقریبا ناممکن ہوتا ہے، اور نتیجتا قیادت میں تبدیلی ناگزیر ہو جاتی ہے۔چوتھی اور نہایت حساس وجہ جنگ کے پھیلا پر کنٹرول ہے۔ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ جنگ میں خطے بھر میں کشیدگی پھیلنے کا خطرہ موجود ہوتا ہے، جس میں خلیج فارس، اسرائیل اور مختلف پراکسی گروہ شامل ہو سکتے ہیں۔ فوجی قیادت بعض اوقات ایسے اقدامات کی مخالفت کرتی ہے جو انہیں غیر متناسب یا خطرناک لگتے ہیں۔ دوسری طرف سیاسی قیادت اس احتیاط کو رکاوٹ سمجھ سکتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پیشہ ورانہ احتیاط اور حکم عدولی کے درمیان فرق دھندلا جاتا ہے۔
 جرنیل بعض احکاماتخصوصا جوہری نوعیت کے احکامات ماننے سے انکار کر سکتے ہیں۔ یہاں یہ معلوم ہوتا ہے کہ امریکی جرنیلوں نے ٹرمپ کے جوہری طاقت استعمال کرنے کے آپشن کو رد کر دیا ہوگا۔ امریکی فوج سخت قانونی اور اخلاقی اصولوں کے تحت کام کرتی ہے۔ افسران غیر قانونی احکامات ماننے تو ہیں لیکن ماننے کے پابند نہیں ہوتے۔ یہ امکان اس کشیدگی کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے جو انتہائی حالات میں پیدا ہو سکتی ہے۔جرنیلوں کو ہٹانے کے فیصلے کے پیچھے سیاسی مقاصد بھی کارفرما ہیں۔ یہ اقدام اندرونِ ملک ایک مضبوط اور فیصلہ کن قیادت کا تاثر دینے کی کوشش ہے، جبکہ بین الاقوامی سطح پر یہ پیغام دیتا ہے کہ پالیسی میں تبدیلی آ رہی ہے یا مزید سخت مقف اختیار کیا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ تنقید کا رخ موڑنے کے لیے بھی کیا گیا ہے تاکہ ناکامی کا بوجھ فوجی قیادت پر ڈالا جا سکے۔ اس طرح کے اقدامات فوج کو سیاسی رنگ دے دیتے ہیں، جس سے اس کی پیشہ ورانہ حیثیت متاثر ہوتی ہے۔ اگر جرنیل خود کو محض سیاسی فیصلوں کا آلہ سمجھنے لگیں تو وہ کھل کر مشورہ دینے سے گریز کریں گے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پالیسی سازی میں دیانت دارانہ رائے شامل نہیں ہو پاتی، جو کہ کسی بھی جنگی حکمت عملی کے لیے نقصان دہ ہے۔
جغرافیائی سیاسی نقط نظر سے دیکھا جائے تو امریکی سول اور عسکری قیادت میں عدم استحکام کے دور رس اثرات نظر آ رہے ہیں۔ اتحادی ممالک امریکہ کی پالیسیوں پر اعتماد کھو چکے ہیں، ایران جیسی مخالف قوتیں اس صورتحال کو اپنے حق میں استعمال کریں گی ۔ ایران کی حکمت عملی صبر، غیر روایتی جنگ اور نفسیاتی دبا پر مبنی ہے، اس لیے ایران امریکہ کی کسی بھی اندرونی کمزوری سے فائدہ اٹھائے گا۔جنگ میں گرفت کے حوالے سے دیکھا جائے تو ایران نے امریکہ اور اسرائیل کو شکست دے دی ہے۔ ایران نے یقینی طور پر اپنی مزاحمتی صلاحیت اور علاقائی اثر و رسوخ کا شاندار مظاہرہ کیا ہے، خاص طور پر غیر روایتی ذرائع کے ذریعے۔ جدید جنگوں میں فتح کا تصور واضح ہوتا ہے یہ زیادہ تر سیاسی نوعیت کی ہوتی ہے۔پیچیدہ علاقائی تنازعات میں واضح کامیابی کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ اکثر جنگیں کسی نہ کسی سمجھوتے، محدود کامیابی یا طویل تعطل پر ختم ہوتی ہیں۔ ایسے حالات میں قیادت کا استحکام اور ہم آہنگی سب سے زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے طاقتور جرنیلوں کو ہٹا کر کمزور جرنیلوں کو لانے کا مقصد فوج پر زیادہ کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ہے حکمت عملی پر کنٹرول، بیانیے پر کنٹرول، اور جنگ کے نتائج پر کنٹرول۔ یہ اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ میں جنگ امریکی اور اسرائیلی ہاتھوں سے نکل چکی ہے۔اصل خطرہ اختلاف میں نہیں بلکہ اس کے غلط انتظام میں ہے۔ اگر ایک نظام فوجی ماہرین کی رائے کو دبانے لگے تو اس سے غلط فیصلوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ دوسری جانب اگر فوج سیاسی قیادت کے احکامات کو چیلنج کرے تو جمہوری نظام کمزور پڑ سکتا ہے۔ یہ توازن نہایت نازک ہے اور جنگ کے دوران مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

ٹیگز: