Wed, September 16, 2026

پاکستان اور سعودی عرب کا مشرقِ وسطیٰ میں "فوری جنگ بندی" کا مطالبہ، اسحاق ڈار اور شہزادہ فیصل بن فرحان کا ہنگامی رابطہ

پاکستان اور سعودی عرب کا مشرقِ وسطیٰ میں

اسلام آباد : امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کے پیشِ نظر، پاکستان اور سعودی عرب نے خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار اور سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے درمیان ہونے والے اہم ٹیلیفونک رابطے میں "بڑھتی ہوئی جارحیت" پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
    امن کی بحالی اولویت: دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کا برقرار رہنا عالمی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔ اس موقع پر کشیدگی کو کم کرنے کے لیے تمام ممکنہ ذرائع استعمال کرنے پر زور دیا گیا۔ترجمان کے مطابق، اسحاق ڈار اور شہزادہ فیصل بن فرحان نے واضح کیا کہ خطہ مزید کسی جنگ یا عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ موجودہ حالات میں تحمل کا مظاہرہ کرنا ہی واحد راستہ ہے۔
 دونوں وزرائے خارجہ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ صورتحال کی مانیٹرنگ کے لیے مسلسل رابطے میں رہیں گے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مشترکہ موقف اپنایا جا سکے۔
یہ رابطہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ کی جانب سے ایران پر حملے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب، جو خطے کے دو اہم ترین ممالک ہیں، ان کا یہ رابطہ واشنگٹن اور تہران کے لیے ایک پیغام سمجھا جا رہا ہے کہ اسلامی ممالک جنگ کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں۔

ٹیگز: