یہ الفاظ جب ایک سینئر پولیس افسر کی زبان سے نکلتے ہیں تو محض ایک جملہ نہیں رہتے، بلکہ ایک پیغام بن جاتے ہیں۔ ایک ایسا پیغام جو نہ صرف ماتحت عملے کے لیے بلکہ پورے نظام کے لیے ایک آئینہ ہوتا ہے۔ اسی سوچ کے تحت جب ایک بڑےافسر نے اپنے عملے کو سول کپڑوں میں بلایا اور کہا کہ آج ہم سب برابر لگیں گے ، تو دراصل وہ عہدوں کی نہیں بلکہ انسانوں کی بات کر رہا تھا۔
پہلا سوال سادہ تھا:صبح کون جلدی اٹھا؟
خاموشی چھا گئی۔
پھر اس نے خود کہا: میری آنکھ دیر سے کھلی، میں جھوٹ نہیں بولوں گا۔
یہ لمحہ قیادت کی اصل تعریف تھا جہاں حکم نہیں، مثال دی جاتی ہے۔
پھر سوالات کا دائرہ وسیع ہوتا گیا۔
ناشتہ کر کے کون نہیں آیا؟
کچھ نے سچ بولا، کچھ نے شاید چھپایا۔
ڈیوٹی کون پوری کرتا ہے؟
خاموشی اس بار اور گہری تھی گویا ہر شخص اپنے ضمیر کے کٹہرے میں کھڑا تھا۔
اور پھر وہ سوال آیا جو اکثر زبانوں پر نہیں آتا:
رشوت کون لیتا ہے؟
چند ہاتھ اٹھے، فوراً جھک بھی گئے۔
افسر نے کہا:مجھے کوئی دقت نہیں، کھا¶ رشوت لیکن اگر تمہاری رشوت سے کوئی غریب رویا تو جو وردی پہن کر آئے ہو، اسے گھر ٹانک کر آنا معافی نہیں دوں گا۔
یہ جملہ دراصل ایک سخت تنبیہ تھا کہ ظلم کی حد ہوتی ہے اور جب وہ حد پار ہو جائے تو وردی اپنی حرمت کھو دیتی ہے۔
مگر اصل جھٹکا ابھی باقی تھا۔سینئر افسر نے اپنے ماتحتوں سے کہا،مجھے وہ رپورٹ نہیں چاہیے جو بناتے ہیں، مجھے وہ رپورٹ چاہیے جو چھپاتے ہیں۔
یہ سوال نہیں، ایک کڑوی حقیقت تھی۔ ایک ایسا سچ جو ہر اس شخص کے دل میں موجود ہے جو کبھی انصاف کے دروازے تک گیا ہو۔ رپورٹیں بنتی ہیں، فائلیں تیار ہوتی ہیں، مگر سچ اکثر کہیں درمیان میں دب جاتا ہے کبھی دبا¶ کے نیچے، کبھی مفادات کے بوجھ تلے اور کبھی صرف اس لیے کہ سچ بولنا آسان نہیں ہوتا۔یہی وہ مقام ہے جہاں نظام اپنی اصل شکل دکھاتا ہے۔ ایک طرف وہ رپورٹ ہے جو کاغذ پر لکھی جاتی ہے، اور دوسری طرف وہ جو جان بوجھ کر چھپائی جاتی ہے اور بدقسمتی سے، اکثر فیصلے اسی چھپے ہوئے سچ کے بغیر کر لیے جاتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ آج کے دور میں ایسا افسر کیوں نایاب ہے؟
جو سچ سننا بھی چاہے اور سچ سامنے بھی لائے؟
اس کی وجہ صرف افراد نہیں، بلکہ ایک ایسا نظام ہے جہاں سچ بولنے والا اکیلا رہ جاتا ہے اور سچ چھپانے والے محفوظ۔ جہاں ایمانداری کو سراہا کم اور نظرانداز زیادہ کیا جاتا ہے۔ جہاں احتساب کا عمل کمزور اور مصلحت کا دائرہ مضبوط ہو چکا ہے۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ تبدیلی اسی ایک جملے سے شروع ہو سکتی ہے،میں جھوٹ نہیں بولوں گا۔
جب ایک افسر یہ کہتا ہے اور اس پر قائم رہتا ہے، تو وہ نہ صرف اپنے ماتحتوں کو بدلتا ہے بلکہ پورے نظام میں ایک نئی روح پھونک دیتا ہے۔ کیونکہ انصاف صرف قانون سے نہیں، نیت سے بھی ہوتا ہے۔ اور سچ صرف بولا نہیں جاتا، اسے سامنے بھی لایا جاتا ہے،چاہے وہ کتنا ہی تلخ کیوں نہ ہو۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ بننے اورچھپنے والی رپورٹ کے درمیان فرق ختم کیا جائے۔ کیونکہ جب تک سچ فائلوں میں دفن رہے گا، انصاف کبھی مکمل نہیں ہوگا۔
آخر میں سوال ہم سب کے لیے ہے،کیا ہم وہی سچ قبول کریں گے جو ہمیں دکھایا جاتا ہے؟
یا وہ تلاش کریں گے جو چھپایا جاتا ہے؟
کیونکہ انصاف کی اصل بنیاد وہی سچ ہے ۔
جو نہ بدلا جائے، نہ دبایا جائے اور نہ ہی چھپایا جائے۔
آج کے دور میں اصلاحات اور نظام کی بہتری کے بغیر یہ سبق مکمل نہیں ہو سکتا۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے محکمہ پولیس میں شفافیت اور احتساب کے لیے ایک واضح مشن دیا ہے، اور اس کام کو عملی شکل دینے کے لیے آئی جی پنجاب عبدالکریم کو ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
یہ اقدام نہ صرف امید کی کرن ہے بلکہ ایک مضبوط پیغام بھی کہتا ہے کہ اعلیٰ قیادت نظام میں خامیوں کو سمجھ رہی ہے اور تبدیلی کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ محکمہ میں اصلاحات اسی وقت ممکن ہیں جب فیلڈ میں موجود ایس ایچ اوز اور انچارج انویسٹی گیشن کو جوابدہ بنایا جائے، اور ساتھ ہی سینئر افسران بھی اپنے اعمال کا جائزہ لیں۔
ایسی صورت میں ہی مظلوم کے ساتھ انصاف ہو سکتا ہے، رشوت اور مصلحت کا دائرہ محدود ہو سکتا ہےاور وہ رپورٹس جو چھپائی جاتی ہیں، حقیقت کے قریب آ سکتی ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب کی قیادت میں یہ امید پیدا ہوتی ہے کہ محکمے میں سچائی اور شفافیت کو فروغ دیا جائے گا اور وہ اصول جو سینئر افسر نے اپنے ماتحتوں کو سکھائے، پورے نظام میں نافذ کیے جا سکتے ہیں۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ اصلاحات کا یہ سفر صرف ایک افسر کی ہمت یا ایک ٹیم کی محنت نہیں، بلکہ اعلیٰ قیادت کی پختہ عزم اور رہنمائی سے ممکن ہے۔ جب سچ بولنا اور سچ سننا دونوں معمول بن جائیں، تب ہی وردی کا اصل وقار بحال ہو سکتا ہےاور انصاف ہر شہری تک پہنچ سکتا ہے۔