Wed, September 16, 2026

امریکہ کو سبق سکھانے کا موقع

امریکہ کو سبق سکھانے کا موقع

صبح تقریر سے قبل رات جس شخص نے امریکی صدر سے آخری ملاقات کی، وہ جنرل ڈین کین تھے۔ نصف گھنٹے کی اس ملاقات کے بعد وہ اس اعتبار سے مطمئن دکھائی دیتے تھے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو جنگ بند کرنے کیلئے سو فیصد تیار کر چکے ہیں، حقیقت بھی یہی تھی۔ امریکی صدر ڈوب چکے تھے لیکن انہیں ایک تنکے کی تلاش تھی جس کے سہارے وہ باہر نکل سکیں۔ انہیں یہ تنکا جنرل ڈین کین کے مشورے کی شکل میں مل چکا تھا۔ جنرل ڈین رخصت ہوئے تو ٹرمپ شب خوابی کے لیے چلے گئے۔ صبح وہ اپنے دفتر کے لیے رخصت ہو رہے تھے کہ ان کے داماد اعلیٰ جیرڈ کشنر آ گئے، انہوں نے سسر صاحب سے پوچھا آج آپ کے کیا ارادے ہیں، جواب ملا آج جنگ بندی کا اعلان کرنے جا رہا ہوں۔ جیرڈ کشنر نے کہا ہمیں معلوم ہے لیکن ذرا یہ ضروری پیغام دیکھ لیں۔ یہ پیغام اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی طرف سے تھا جس میں کہا گیا تھا کہ جنگ بندی کا اعلان کرنے کی غلطی نہ کرنا ورنہ ایران کے خلاف جنگ روک کر میں تمہارے خلاف جنگ شروع کر دوں گا۔ نیتن یاہو کا پیغام پڑھ کر امریکی صدر کا سرخ رنگ پیلا پڑ گیا، انہیں لگا جیسے چھپکلی ان کے منہ میں آ گئی ہے جسے وہ نگل سکتے ہیں، نہ اُگل سکتے ہیں۔ عین اس وقت داماد اعلیٰ نے جناب ٹرمپ کے ہاتھ میں اسرائیل سے آیا مسودہ تقریر پکڑ ا دیا جو جلدی میں تیار کیا گیا تھا۔ وہ آئیں بائیں شائیں آپ تک پہنچ چکی ہیں جبکہ دنیا جان چکی ہے۔ یہ وہ تقریر نہیں جسے حسب حال کہہ سکیں۔ ہم سمجھتے تھے صرف ترقی پذیر ملکوں میں صدر وزیراعظم یا دیگر عہدوں پر متمکن شخصیات کے فیصلوں میں ان کے بھائیوں، بیٹوں، بیٹیوں، دامادوں، بیویوں و کھیلوں اور فرنٹ مینوں کا دخل ہوتا ہے۔ اب معلوم ہوا ترقی یافتہ ممالک میں بھی یہی کچھ ہوتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ ایک ہفتے میں جنگ بند کرنے، اسے مزید بڑھانے، آبنائے ہرمز کی طرف پیش قدمی کرنے، اس کی طرف لاتعلقی ظاہر کرنے کے لیے جو بیان بازی کرتے رہے، وہ سب کچھ ہوا میں نہ تھا بلکہ ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت تھا، ان کے بیانات سے سٹاک مارکیٹ ہچکولے کھاتی کبھی اوپر جاتی کبھی نیچے آتی۔ ٹرمپ خاندان اور انتہائی قریبی کاروباری خاندان اس اونچ نیچ میں ایک ہزار ارب ڈالر کما گئے۔ اس بات میں اب کوئی ابہام نہیں کہ امریکہ میں بھی میرا جرنیل اور کسی اور کا جرنیل والی سوچ سرایت کر چکی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ جاری جنگ کے دوران اپنے آرمی چیف اور دیگر اہم فوجی جرنیلوں کو گھر بھیجنے کا فیصلہ کرنے والے پہلے امریکی صدر ہیں، ان کے ان فیصلوں سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ کس ہیجانی حالت میں ہیں، ان کے گرد کاسہ لیسوں کا جم غفیر ہے جو ان کی ہر بات کو ہر فیصلے کو مثبت ترین کہتا ہے اور واہ واہ کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ ٹرمپ کابینہ میں ان کے نائب صدر جے ڈی وانس ڈمنگ کی بات کرنے والے واحد شخص ہیں لیکن اب انہوں نے ٹرمپ سے قدرے فاصلہ اختیار کر لیا ہے کیونکہ امریکی صدر بے ڈھنگوں اور بے ڈھنگی باتوں کے حصار میں ہیں جبکہ جے ڈی وانس امریکہ کے نئے صدر کی دوڑ میں ہیں۔
امریکہ کو ویت نام اور افغانستان کی جنگ کے بعد ایک مرتبہ پھر شرمناک شکست کا سامنا ہے۔ وہ ایران میں اپنا کوئی ہدف حاصل نہیں کر سکا البتہ اسے ذلت و رسوائی ضرور حاصل ہوئی ہے، اس کے قریب ترین اتحادی اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔ کوئی کبھی سوچ نہ سکتا تھا کہ دنیا بھر کے ممالک کی سیاسی تقدیر لکھنے والے امریکہ کی تقدیر ایران لکھے گا۔ دنیا کی شہ رگ پر دانت گاڑے رکھنے والے امریکہ کی شہ رگ ایرانی سپاہ کے مضبوط ہاتھوں میں جکڑی جائے گی۔ روز جمعہ امریکہ اور امریکی فوج پر بہت بھاری گزرا ایرانی میزائلوں نے اس کا بھرکس نکال دیا، یکے بعد دیگرے اس کے سٹیٹ آف دی کرافٹ جہاز گرتے رہے۔ امریکی حکومت اور پینٹاگون انہیں بے بسی سے گزرتا دیکھتے رہے، مار گرائے جانے والے جہازوں کے بارے میں دنیا کو بتایا جاتا تھا کہ یہ ناقابل تسخیر ہیں لہٰذا بیش قیمت بھی ہیں۔ ایران نے یہ جہاز غلطیوں سے گرا دیئے، کچھ جہازوں میں ایک بعض میں دو دو پائلٹ تھے، بیشتر جہازوں کے پائلٹ اپنے جہاز کے ساتھ ہی سکریپ بن گئے صرف ایک جہاز سے دو پائلٹ باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ امریکہ جھوٹ بول کر اپنے عوام کو تسلی دے رہا ہے کہ ایک پائلٹ کو ریسکیو کر لیا گیا ہے جبکہ دوسرے کی تلاش جاری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں پائلٹ ایرانی سپاہ نے پکڑ لیے ہیں حتیٰ کہ انہیں اٹھانے کے لیے جو ہیلی کاپٹر بھیجے گئے تھے، وہ بھی مار گرائے گئے ہیں جبکہ ان میں سوار بچ جانے والے کچھ فوجی قیدی بن چکے ہیں، ایران جب مناسب سمجھے گا ان کے نام، تصاویر، رینک اور ان کے ویڈیو بیان جاری کر دے گا۔ امریکی جھوٹ مکر و فریب پھیلانے والوں کا اندازہ کیجئے، سوا ماہ سے زیادہ جنگ کے روز ان ایران نے گیارہ امریکی فوجی اڈے تباہ کیے۔ مختلف اقسام کے تیس سے زائد لڑاکا ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر مار گرائے۔ دو بڑے بحری جہازوں کو تباہ کر کے ناقابل استعمال بنا دیا۔ سیکڑوں امریکی فوجی مختلف معرکوں میں قیدی بنا لیے۔ ایران نے کئی ہزار میزائل اور ڈرون فائر کیے جنہوں نے کامیابی سے اپنے اہداف کو نشانہ بنایا۔ اسرائیل کے اٹھائیس اہم دفاتر فوجی ہیڈکوارٹر ملیامیٹ کر دیئے۔ آٹھ بڑے شہر اور بندرگاہیں ملیامیٹ کر دیں لیکن مرنے والوں کی تعداد صرف بائیس ہی بتائی جا رہی ہے۔ محتاط ترین روسی و دیگر غیر ملکی ذرائع کے مطابق ایرانی حملوں میں مرنے والوں کی تعداد بارہ ہزار سے زائد ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد اٹھارہ ہزار کے قریب ہے۔ ان میں عمارتوں کے اندر مرنے والے اور ملبے تلے دب کر مرنے والے بھی شامل ہیں۔
ایرانی آئی ٹی ماہرین نے امریکی طیاروں کے ”فلائٹ پیٹرن“ تک رسائی حاصل کر لی ہے، انہیں طیارے کی اڑان کے ساتھ ہی علم ہو جاتا ہے۔ طیارہ کس اڈے سے اڑا ہے، اس کی فضائی راہداری کیا ہے، اس کی منزل کونسی ہے۔ نیول ٹینکر کب پرواز کرتا ہے، کہاں آ کر وہ دوسرے جہاز کی ری فیولنگ کرتا ہے، یہاں ریڈار ٹریکنگ اور سگنل انٹیلی جنس سے کام لے کر اندازہ کر لیا جاتا ہے کہ جہاز کو کب اور کہاں گرانا آسان ہو گا۔ لڑاکا یا بمبار جہاز جونہی رینج میں آتا ہے، ایرانی میزائل اس کے پرخچے اڑا دیتا ہے۔
دوران جنگ ایرانی خارجہ کی مختلف ٹی وی چینلز سے گفتگو ایران کے عزم کی ایک جھلک دکھاتی ہے۔ ایران کا ایک بڑا پل تباہ ہونے کے بعد ان سے پوچھا گیا کہ آپ اس تباہی کے بعد کیا سوچ رہے ہیں تو ان کا جواب تھا عمارتیں اور پل گر رہے ہیں۔ یہ دوبارہ بن جائیں گے لیکن امریکہ کو سبق سکھانے کا موقع پھر نہیں ملے گا۔ ہم اسے ایسا سبق سکھائیں گے جو وہ ہمیشہ یاد رکھے گا۔ اسلامی ممالک خصوصاً عربوں کے لئے بھی اس جنگ میں یہی سبق موجود ہے۔

ٹیگز: