جنگ ٹرمپ کو لے ڈوبی، امریکی فوج میں بغاوت، ٹاپ رینکنگ جرنیلوں نے ایران کے دو جزائر پر قبضہ کے لیے زمینی فوج اتارنے اور ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی مخالفت کی جس پر آرمی چیف سمیت تین جرنیلوں کو برطرف کر دیا گیا۔ برطرف کیے جانے والوں میں نیوی کے ایڈمرل بھی شامل ہیں، امریکی کابینہ سے لے کر آرمی اور وفاتی ایجنسیوں تک بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کی بھی خبریں آ رہی ہیں، ٹرمپ نے سینیٹ سے 4200 کھرب روپے کا فوجی بجٹ مانگ لیا ہے جس کی ابھی تک منظوری نہیں دی گئی، امریکی فوجی ذرائع کے مطابق جنگ پر روزانہ دو سے تین ارب ڈالر خرچ ہو رہے ہیں۔ فوج اور عوام کی اکثریت جنگ آئندہ دو تین ہفتے جاری رہنے کی مخالف ہے۔ 30 شہروں میں 80 لاکھ افراد کے مظاہرے اس کا ثبوت ہیں۔ مگر صدر ٹرمپ جنگ بند کرنے پر آمادہ نہیں۔ جنگ بندی ختم ہونے سے دو دن قبل انہوں نے ایران کو مزید 48 گھنٹوں کی سیز فائر کی پیشکش کی جسے ایران نے مسترد کر دیا۔ جنگ دوسرے مہینے میں داخل ہو گئی، امریکہ نے ایران کی ایٹمی تنصیبات تباہ کرنے کے لیے ایک ہزار پاو¿نڈ وزنی بنکر بسٹر بم پھینکا، پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گیا مگر کچھ حاصل نہ ہوا جبکہ ایران نے امریکہ کے دو طیارے مار گرائے ایک کے پائلٹ کو پکڑنے کا دعویٰ بھی کر دیا۔ اس سے قبل ایران کے شاہد میزائل نے 70 کروڑ ڈالر مالیت کا ایواکس طیارہ مار گرایا تھا، صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتہ اپنے خطاب میں امریکی قوم سمیت پوری دنیا کو ”اپریل فول“ بنایا، متلون مزاج صدر کی کس بات کا اعتبار کیا جائے۔ سیانے کہتے تھے زیادہ سوچو کم بولو ٹرمپ کم سوچتے بلکہ بالکل ہی نہیں سوچتے لیکن فرانسیسی صدر میکرون کے بقول زیادہ بولتے ہیں اور بولنے کے دوران ایسی بونگیاں مارتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے معدودے چند حامیوں کا اعتماد بھی متزلزل ہوتا جا رہا ہے۔ حالیہ سروے کے مطابق 63 فیصد امریکی عوام نے انہیں ناکام صدر قرار دے دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مڈ ٹرم الیکشن میں ان کی ناکامی کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔ جنگ مخالف سیاستدان حالیہ جنگ کا ذمہ دار ٹرمپ اور نیتن یاہو کو قرار دیتے ہیں۔ ڈیمو کریٹس کے رہنما سرایڈورڈ جوناٹن نے انہیں بین الاقوامی گینگسٹر (عالمی غنڈہ) کہا جو ہر ایک کو کاٹتا ہے۔ کانگریس کے رکن اسٹیفن فائلن نے خطاب کرتے ہوئے کہا ٹرمپ تم فلسطین اور ایرانی بچوں کے قاتل ہو ایران بے قصور ہے۔ امریکی پروفیسر جیفری سیکس نے ٹرمپ کو بیوقوف، ذہنی طور پر غیر مستحکم، سنگدل، ہیجانی، وہمی اور ذہنی مریض قرار دیا۔ یہ خصوصیات نیتن یاہو اور ٹرمپ میں مشترکہ ہیں۔ نیتن یاہو نے واشنگٹن کے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں آ کر ٹرمپ کو ایران پر حملہ کرنے کے لیے کہا اجلاس کے تمام شرکاءنے حملہ کی مخالفت کی لیکن یہودی لابی کے زیر اثر ٹرمپ نے ایران پر حملہ کر دیا۔ اپنے حالیہ خطاب میں وہ ایران پر فتح کا اعلان نہ کر سکے، آئیں بائیں شائیں، ناقابل قبول تاویلات، کہا کام مکمل نہیں ہوا جنگ آئندہ دو تین ہفتے جاری رہے گی۔ ایران نے جلد معاہدہ نہ کیا تو ہم اسے پتھر کے دور میں پہنچا دیں گے۔ معاہدہ کیا ہے امریکا ایران کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنے، میزائل سازی اور ایٹمی سرگرمیاں بند کر دے اور اپنا انرچڈ یورینیم امریکا کے حوالے کر دے، کیوں؟ کیا دنیا میں امریکا اور اسرائیل ہی ایٹمی طاقتیں ہیں؟ لیبیا، شام، اردن، عراق کمزور تھے جھک گئے امریکا وینز ویلا اور ان اسلامی ممالک کے تیل پر قبضہ کر کے دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک بن گیا اس کی یومیہ پیداوار 22 ملین بیرل کے قریب ہے۔ ”ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات“ ایران نے جھکنے سے انکار کر دیا۔ مشرق وسطیٰ کے باقی ممالک خصوصاً عرب ملکوں نے کبھی خود انحصاری پر غور ہی نہیں کیا کھربوں ڈالر امریکا میں سرمایہ کاری میں جھونک دئیے جواب میں امریکا نے فوجی اڈوں کی شکل میں ان ملکوں میں ڈیرے ڈال دئیے حالیہ جنگ میں ان ہی اڈوں پر حملے کیے گئے پاکستان نے ان ملکوں اور ایران دونوں پر حملوں کی نہ صرف مذمت کی بلکہ ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے اشتراک سے جنگ بند کرانے کے لیے پر خلوص ثالثی کا کرداد ادا کیا اور پانچ نکاتی فارمولے کے ذریعہ جنگ کی تباہی روکنے کی بھرپور کوشش کی جسے پوری دنیا نے سراہا مگر وائے
بدنصیبی ایک عرب ملک کے سربراہ نے اسرائیل اور امریکہ پر زور دیا کہ وہ ایران کو تباہ کرنے کے لیے ایٹم بم گرانے سے بھی گریز نہ کرے، ٹرمپ کا حوصلہ بڑھا اور اس نے عرب ملکوں سے حالیہ جنگ کے اخراجات مانگ لیے۔ مودی کے قبیل کا بنیا صفت صدر اسرائیل کی بجائے عربوں سے تاوان طلب کر رہا ہے۔ کچھ بعید نہیں کہ وہ اپنی ایک دو ماہ کی تنخواہ اور خلیج فارس میں بھیجے گئے ہزاروں فوجیوں کا اوور ٹائم ادا کرنے اور طیاروں کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالہ کا مطالبہ بھی کر دے، بات دور نکل گئی جنگ بند نہیں ہوئی خطہ پر سے تباہی نہیں ٹلی، آبنائے ہرمز نہیں کھلی صدر ٹرمپ 15 شرائط سے دستبردار زمینی جنگ کی دھمکیوں پر اتر آیا۔ ایران کے مطابق چھ سات لاکھ مجاہدین امریکی کمانڈوز کا گھونٹ بھرنے کے منتظر الرٹ ہیں۔ کوہ قاف کے چیچن جنات ایرانی کال کے منتظر ہیں، پاکستان، ترکیہ مصر اور سعودیہ کی ثالثی کی کوششیں فی الحال بارآور ثابت نہیں ہوئیں تاہم ترک نہیں کی گئیں لیکن اس دوران ایک اجلاس کے اعلامیہ میں اسرائیل کی مذمت کے معاملہ پر پاکستان پر دباو¿ بڑھ گیا، صورتحال کو سنبھالنا ہو گا اپنے ہی لڑ پڑے تو نیتن یاہو اور ٹرمپ کو گریٹر اسرائیل کے نقشے میں رنگ بھرنے میں آسانی ہو جائے گی۔ پاکستان تیل کے معاملہ میں بھی مشکلات کا شکار ہے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہی ہیں تیل کے جہاز مہنگا تیل لے کر پہنچ رہے ہیں ان حالات میں وفاقی حکومت نے 2 اپریل کو تیل کی قیمتیں بڑھا دیں پیٹرول 458 روپے 41 پیسے، ڈیزل 520 روپے 35 پیسے لیٹر تک پہنچ گیا۔ اپوزیشن نے اسے پیٹرول بم سے تعبیر کیا عوام تڑپ گئے، ٹرانسپورٹرز نے فوری طور پر کرایوں میں ایک ہزار کا اضافہ کر دیا۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے تحریک چلانے کا اعلان کر دیا، پی ٹی آئی نے اے پی سی بلالی، وزراءنے کہا اضافہ کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا، لیکن وزیراعظم شہباز شریف نے رات بھر جاگ کر آپشن ڈھونڈ نکالا اور دوسرے ہی دن لیوی میں کمی کر کے پٹرول 80 روپے سستا کرنے کا اعلان کر کے بھڑکتی آگ پر ڈبوں سے پانی ڈالنے کی کوشش کی، پیٹرول 378 روپے لیٹر، اسلام آباد اور پنجاب میں بسوں اورنج ٹرین اور میٹرو میں مفت سفر کی سہولت موٹر سائیکل والوں اور دیگر پسے ہوئے طبقات کے لیے سبسڈی کا اعلان، اشرافیہ سے مراعات واپس لینے کا اعلان بھی ہوا، اللہ کرے جنگ بند ہو جائے ورنہ غریب مہنگائی سے مر جائیں گے۔