Wed, September 16, 2026

خدمت کا استعارہ

خدمت کا استعارہ

پاکستانی سیاست کے افق پر کچھ نام ایسے ہیں جنہوں نے محض عہدوں یا وقتی کامیابیوں کے سبب نہیں بلکہ اپنے کردار، مزاج اور خدمتِ خلق کے جذبے کے باعث اپنی پہچان بنائی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سیاست کو اقتدار کی سیڑھی نہیں بلکہ عوامی خدمت کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ضلع نارووال کی تحصیل ظفروال کی سیاسی و سماجی فضا میں چوہدری ریاض احمد سلہریا آف گھمرولہ کا نام اسی قبیل سے تعلق رکھتا ہے جو مسلسل جدوجہد، عوامی خدمت اور نظریاتی وابستگی کی روشن مثال ہیں۔ غریب، نادار اور ضرورت مند افراد کی مدد کرنا، عوامی مسائل کو ترجیح دینا اورسیاسی دھڑے بندیوں سے بالاتر ہو کر ہر خاص و عام کے ساتھ خلوص اوراپنائیت کا برتا¶ کرنا۔ یہ سب ان کی شخصیت کے وہ اوصاف ہیں جنہوں نے انہیں اپنے علاقے کی عوام کے دلوں میں ایک مضبوط مقام عطا کیا ہے۔ چوہدری ریاض احمد سلہریا نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز 2000ءمیں یونین کونسل درمان سے بطور جنرل کونسلر کیا۔ یہ وہ دور تھا جب مقامی حکومتوں کا نظام اپنی نئی شکل میں متعارف ہو رہا تھا اور سیاست کے میدان میں وہ لوگ آگے بڑھ رہے تھے جو عوام کے مسائل کو سمجھنے اور ان کے حل کےلئے سنجیدہ تھے۔ انہوں نے اس ابتدائی مرحلے ہی میں اپنے عمل سے یہ ثابت کر دیا کہ ان کی سیاست کا محور ذاتی مفاد نہیں بلکہ اجتماعی فلاح ہے۔ بطور ایک عوامی نمائندے اور سماجی کارکن کے چوہدری ریاض احمد سلہریا نے نہ صرف اپنے حلقے کے مسائل کو قریب سے دیکھا بلکہ ان کے حل کےلئے عملی اقدامات بھی کیے۔ بطور عوامی نمائندہ ان کی کارکردگی کا سب سے نمایاں پہلو ان کی مسلسل سماجی و فلاحی سرگرمیاں ہیں جس پر چوہدری ریاض احمد سلہریا نے اپنی عوامی حیثیت کو استوار کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے نہ صرف اپنی یونین کونسل بلکہ پورے علاقے میں عزت، اعتماد اور مقبولیت حاصل کی ہے۔ ان کی پہچان ایک ایسے رہنما کے طور پر سامنے آئی ہے جو مشکل وقت میں اپنے لوگوں اور پارٹی کے ساتھ کھڑا رہتا ہے۔ چوہدری ریاض احمد سلہریا کا ایک اہم وصف ان کی نظریاتی وابستگی ہے۔ وہ شروع دن سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ساتھ جڑے ہیں اور اس جماعت کے اصولوں، وژن اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔ ضلع نارووال میں مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اور وفاقی وزیر احسن اقبال اور اُن کے صاحبزادے ایم پی اے احمد اقبال کی سیاست بنیادی طور پر علاقے کی ترقی، استحکام اور عوامی خدمت کے گرد گھومتی ہے اور یہی وہ اقدار ہیں جو چوہدری ریاض احمد سلہریا کے سیاسی مزاج میں نمایاں طور پر نظر آتی ہیں جس کی وجہ سے اُن کا شمار احسن اقبال کے قابل اعتماد اور اہم ترین سیاسی ساتھیوں میں ہوتا ہے۔ 2008ءاور 2013ءکے عام انتخابات میں انہوں نے پارٹی کے لیے بھرپور کردار ادا کیا اور نہ صرف اپنی یونین کونسل بلکہ ارد گرد کے علاقوں میں بھی پارٹی کو مضبوط کرنے کے لیے انتھک محنت کی۔ انہوں نے اپنے علاقے کے مختلف دیہات اور قصبوں کی بااثر شخصیات کو مسلم لیگ (ن) کے ساتھ جوڑ کر جس طرح تنظیمی ڈھانچے کو مستحکم کیا وہ کسی بھی سیاسی جماعت کی کامیابی کےلئے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ 2015ءکے بلدیاتی انتخابات میں مقامی قیادت سے چند اصولی اختلافات کی بنیاد پر انہوں نے بطور احتجاج آزاد حیثیت سے چیئرمین کا الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔ یہ اُن کا ایک جرا¿ت مندانہ قدم تھا جس میں کامیابی کےلئے نہ صرف عوامی حمایت بلکہ ذاتی ساکھ کا مضبوط ہونا بھی ضروری ہوتا ہے مگر انہوں نے الیکشن جیت کر یہ ثابت کر دیا کہ انہوں نے عوام کے ساتھ جو تعلق قائم کیا تھا وہ وقتی نہیں بلکہ دیرپا اور مضبوط بنیادوں پر استوار ہے۔ گذشتہ دنوں چوہدری ریاض احمد سلہریا کی جانب سے اُن کے علاقے گھمرولہ میں اپنے ڈیرے پر ایک شاندار افطار ڈنر کا انعقاد کیا گیا جو محض ایک سماجی تقریب نہیں بلکہ ایک اہم سیاسی پیش رفت کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ اس تقریب میں مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما و وفاقی وزیر احسن اقبال اور چیئرمین پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی احمد اقبال کے ساتھ ضلع نارووال کی دیگر سینئر قیادت نے بھی شرکت کی جس نے اس تقریب کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا۔ اس موقع پر انہوں نے باضابطہ طور پر پاکستان مسلم لیگ (ن) میں دوبارہ شمولیت اختیار کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپنی قیادت کے ساتھ مل کر علاقے میں ترقی اور خوشحالی کے سفر کو نئے جوش و جذبے کے ساتھ جاری رکھیں گے۔ اُن کایہ عزم اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ سیاست کو ایک مسلسل جدو جہد یا ایک ایسا سفر سمجھتے ہیں جس میں رکنا یا پیچھے ہٹنا ممکن نہیں۔ گا¶ں، یونین کونسل اور ضلع کی سطح پر پارٹی کو مزید مضبوط کرنا ان کے ہدف میں شامل ہے جو ان کی تنظیمی صلاحیتوں اور سیاسی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو چوہدری ریاض احمد سلہریا کی شخصیت ایک ایسے سیاسی رہنما کی عکاس ہے جس نے خدمت، خلوص اور نظریاتی وابستگی کو اپنی سیاست کا محور بنایا ہے۔ انہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ حقیقی قیادت وہی ہوتی ہے جو عوام کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھے، مشکل وقت میں لوگوں کے ساتھ کھڑی ہو اور جو ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر اجتماعی بھلائی کے لیے کام کرے۔ اُن کی ”گھر واپسی“ صرف ایک سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی وابستگی کا اعادہ بھی ہے جس نے ضلع نارووال کی مقامی سیاست میں مسلم لیگ (ن) کی سیاسی پوزیشن کومزید مضبوط کر دیا ہے۔ ہر قسم کی مصلحت سے بالاتر ہوکرعوام کی خدمت اور ملک کی ترقی کےلئے پوری محنت اور دیانت داری سے کام کرنا ہی اصل سیاست ہے۔ چوہدری ریاض احمد سلہریا نے اس اصول کو نہ صرف سمجھا ہے بلکہ اپنے عمل سے اسے ثابت بھی کیا ہے۔ اس حوالے سے سب سے اچھی اور خوبصورت بات یہ ہے عوامی خدمت کے اس سماجی اور سیاسی محاذ پر انہیں اپنے خاندان کی بھی بھرپور حمایت اور معاونت حاصل ہے۔

ٹیگز: