Wed, September 16, 2026

پاک، ترکیہ دوستی کا استعارہ … دوست !

پاک، ترکیہ دوستی کا استعارہ … دوست !

برادر اسلامی ملک جمہوریہ ترکیہ یا ترکی کے بارے میں لکھتے ہوئے بہت ساری شخصیات کے نام، بہت سارے تاریخی واقعات اور بہت ساری باتیں ذہن میں اُبھرتی ہیں۔ ان میں سے کچھ کا ذکر کرنے سے قبل ضروری ہے کہ پاک ترک دوستانہ تعلقات جو عشروں سے قائم چلے آ رہے ہیں کو مزید مضبوط بنانے اور ثقافتی اور تہذیبی رشتوں کو فروغ دینے کے لئے حال ہی میں قائم ’’دوستDost‘‘ نامی تنظیم کا ذکر کیا جائے ۔ اس کے ساتھ ترک ثقافتی اور تہذیبی تنظیم یا فورم یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ کا ذکر بھی ضروری ہے کہ یہ تنظیم پچھلے تقریباً چار عشروں سے پاک ترک تاریخی ، تہذیبی، ثقافتی رشتوں اور گہرے دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لئے سرگرمِ عمل ہے۔ ’’دوست Dost ‘‘جسے پاک ترکیہ فرینڈ شپ فورم بھی کہا جا سکتا ہے کا تعارف اور اس کے قیام کی تاریخ دلچسپ ہے ۔ اس کے لئے ہم اس تنظیم کے صدر معروف دانشور ، صحافی ، مصنف اور محقق جناب ڈاکٹر فاروق عادل جو مرحوم صدر ِ مملکت ممنون حسین کے مشیرِ اطلاعات بھی رہے کی تحریر سے استفادہ کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں ’’کچھ عرصہ قبل سردیوں کی ایک خوشگوار شب ڈاکٹر خلیل طوقار نے عشائیے کا اہتمام کیا ۔ ان کے مہمان دو تھے، برادرِ محترم پروفیسر ڈاکٹر یوسف خشک اور ان سطور کا لکھنے والا (ڈاکٹر فاروق عادل)۔ ڈاکٹر طوقار ترکیہ کے ثقافتی مرکز یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ کی پاکستان شاخ کے سربراہ ہیں۔ پاکستان ان کے لئے اجنبی ملک نہیں وہ اس کے داماد بھی ہیں اور فرزندِ اُردو بھی۔ انہوں نے گذشتہ پینتالیس ، چالیس برس میں اُردو زبان و ادب کو مالا مال کر دیا ہے۔ تیس ، چالیس کتابوں کے مصنف ہیں اور ہندکو زبان کی گرائمر بھی انہوں نے مرتب کی ہے۔ 
یوں وہ پاکستان میں ہوں یا ترکیہ میں ہمارے لئے اجنبی نہیں لیکن وہ چونکہ ایک سرکاری اسائنمنٹ پر ہیں ، اس لیے انہیں بھی یہ احساس تھا اور ہمیں بھی کہ جیسے ہی وہ واپس جائیں گے ، اُن کے دم قدم سے قائم یہاں تہذیبی رونقیں ماند پڑ جائیں گی۔ یہی احساس تھا ، جس نے اُس رات کے کھانے کو یادگار بنا دیا کیونکہ اسی نشست میں تجویز ہوا کہ پاک ترکیہ دوستی اور ثقافتی رشتوں میں مزید گہرائی پید اکرنے کے لئے ایک تنظیم قائم کی جائے ۔ یہ تنظیم آج بنے یا کل انہی باتوں میں کافی وقت گزر گیا یہاں تک کہ ڈاکٹر یوسف خشک ، شاہ عبدالطیف بھٹائی یونیورسٹی کے وائس چانسلر بن کر خیر پور جاپہنچے۔ اس پیشرفت نے احساس زیاں کو بڑھا دیا ۔ یوں مشاورت کا دائرہ وسیع کر دیا گیا جس میں جناب خورشید احمد ندیم، ڈاکٹر مجیب میمن ، ڈاکٹر زاہد مجید، محترمہ نعیم فاطمہ علوی ، ڈاکٹر محمد کامران اور ڈاکٹر صدف نقوی سمیت دیگر احباب شامل ہوئے۔ مکمل اتفاقِ رائے سے دوست کے نام سے پاک ترکیہ فرینڈ شپ فورم قائم کیا گیا ۔ اس فورم کے قیام کا اعلان 30 اکتوبر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں کیا گیا جو ہفتہ ترکیہ کے سلسلے میں یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ کے اشتراک سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں شہر کی مختلف جامعات اور کالجوں کے اساتذہ و طلبا اُمڈ آئے‘‘۔ 
محترم ڈاکٹر فاروق عادل نے ہفتہ ترکیہ کا بھی ذکر کیا ہے یہ 30 اکتوبر 2025 ء سے 05 نومبر 2025 ء تک کے سات دن ہیں جنہیں پاکستان بھر میں ہفتہ ترکیہ کے طور پر منایا گیا ہے۔ اصل میں 30 اکتوبر کو جمہوریہ ترکیہ کی تاریخ میں اہم حیثیت حاصل ہے ، وہ اس لحاظ سے کے آج سے 102سال قبل 29 اکتوبر 1923 ء کو جدید ترکی کے بانی مصطفی کمال پاشا جو بعد میں اتا ترک (ترکوں کا باپ) کے لقب سے معروف ہوئے میں جمہوریہ ترکی کے قیام کا اعلان کیا۔ اس مناسبت سے 30 اکتوبر کو ترکیہ کے قومی دن کی حیثیت حاصل ہے جسے ترک عوام بڑے جوش و جذبے اور تزک و احتشام سے مناتے ہیں۔ پاکستان جو ترکیہ کے ساتھ گہرے دوستانہ روابط اور تاریخی، تہذیبی اور ثقافتی رشتوں میں جُڑا ہوا ہے، یہاں پر بھی ترکیہ کے اس قومی دن کے موقع پر مختلف تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔ اس سال وزیرِ اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے ترکیہ کے قومی دن کے موقع پر 30 اکتوبر سے 05 نومبر کو ہفتہ ترکیہ کے طور پر منانے کے لئے خصوصی ہدایات جاری کیں۔ اس دوران ملک بھر میں بالخصوص اسلام آباد میں کئی رنگا رنگ تقریبات منعقد ہوئیں۔ سیمینارز اور قومی کانفرنسوں کا انعقاد ہوا ۔ سرکاری عمارات اور شاہراہوں کو ترکیہ کے قومی پرچموں اور خیر مقدمی بینرز سے سجایا گیا اور یہ سلسلہ کئی دنوں تک چلتا رہا۔ 
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد بھی ہفتہ ترکیہ کے سلسلے کی ایک کڑی تھا۔ بلا شبہ یہ کانفرنس جس میں راقم بھی مدعو تھا، ہر لحاظ سے انتہائی پُر ہجوم، بھر پور، جامع اور پُر رونق تھی ۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا آڈیٹوریم سامعین اور حاضرین جن میں زیادہ تر تعداد علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سمیت اسلام آباد کی دیگر جامعات اور کالجوں کے اساتذہ اور طلبہ و طالبات پر مشتمل تھی سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا یہاں تک کہ آڈیٹوریم میں کوئی نشست بھی خالی نہیں تھی۔ کانفرنس جس کی صدارت وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ امور کی پارلیمانی سیکریٹر ی محترمہ فرح ناز اکبر نے کی تو اس میں معروف دانشور، سکالر اور رحمت العالمین ؐ و خاتم النبیین ؐ اتھارٹی کے چیئرمین جناب خورشید احمد ندیم مہمانِ خصوصی تھے۔ محترمہ فرح ناز اکبر نے اپنے صدارتی خطاب میں پاک ترکیہ تعلقات پر روشنی ڈالی اور انہیں ہر لحاظ سے مثالی قرار دیا تو محترم خورشید احمد ندیم نے اپنے عالمانہ خطاب میں اسلامی تاریخ کے ساتھ علامہ اقبالؒ کی شاعری کو سامنے رکھتے ہوئے ترکوں سے برصغیر جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی بے پناہ عقیدت اور محبت کا بڑے خوبصورت انداز میں تذکرہ کیا۔ محترم ڈاکٹر فاروق عادل نے اپنے مختصر خطاب میں اپنی صدارت میں قائم کردہ تنظیم ’’دوست Dost ‘‘ جسے پاک ترکیہ فرینڈ شپ کا ایک نیا مضبوط فورم قرار دیا جا سکتا ہے کے قیام کے اغراض و مقاصد اور دائرہ کار پر روشنی ڈالی۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں اس بین الاقوامی کانفرنس کی نشست کے بعد ’’دوست Dost ‘‘ تنظیم کی اساسی نشست کا بھی انعقاد ہوا۔ اس میں ترک ثقافتی و تہذیبی تنظیم یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ کے پاکستان میں سربراہ جناب ڈاکٹر خلیل طوقار سمیت صدرِ مجلس جناب خورشید احمد ندیم ، دوست کے صدر محترم ڈاکٹر فاروق عادل اور کئی دوسری خواتین و حضرات نے بھی خطاب کیا۔ بلاشبہ یہ نشست ہر لحاظ سے چشم کشا تھی۔ 
مصطفی کمال پاشا جو گیلی پولی کے معرکہ میں دشمن طاقتوں کو شکست دینے کے بعد ترکیہ کی خودمختاری اور آزادی کو بحال کرنے میں کامیاب ہو چکے تھے، نے 30 اکتوبر 1923 ء کو ترکیہ کو جمہوریہ قرار دیتے ہوئے جدید جمہوریہ ترکیہ کے قیام کا اعلان کر دیا۔ مصطفی کمال پاشا ملک کے پہلے صدر بنے تو عصمت انونونے وزیرِ اعظم کا عہدہ سنبھالا۔ 1938 ء میں مصطفی کمال پاشا کی وفات پر عصمت انونو ملک کے صدر بن گئے اور 1950 ء تک اس عہدے پر فائز رہے ۔ اُن کے بعد جلال بایار 1950ء سے 1960 ء تک ملک کے صدر رہے اسی دوران ملک میں اسلام پسند جماعت جسٹس پارٹی برسرِ اقتدار آئی تو عدنان مندریس نے وزیرِ اعظم کا عہدہ سنبھالا۔ ملک کے لبرل اور لادین حلقے عدنان مندریس کی حکومت کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھے اس طرح انہیں وزارتِ عظمیٰ کا منصب ہی نہ چھوڑنا پڑا بلکہ انہیں آئین کی خلاف ورزی کے الزام میں پھانسی پر بھی لٹکا دیا گیا۔ عدنان مندریس کے بعد جمال گرسل ، سلمان ڈیمرل اور بلند ایجویت وغیرہ جمہوریہ ترکی کی صدارت اور وزارتِ عظمیٰ کے عہدوں پر فائز رہے ۔اس صدی کے دوسرے عشرے سے اب تک جناب رجب طیب اُردوان پہلے وزیرِ اعظم کے طور پر اور بعد میں صدرِ مملکت کے طور پر برسرِ اقتدار چلے آ رہے ہیں۔ پاک ترک دوستی زندہ باد۔

ٹیگز: