Wed, September 16, 2026

آئی پی پیز کے پس پردہ چہرے،احتساب کون کرے گا ؟

آئی پی پیز کے پس پردہ چہرے،احتساب کون کرے گا ؟

وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنی حکومت کی جانب سے’’تاریخی قدم ‘‘اٹھاتے ہوئے عید الفطر کے ختم ہوتے ہی اسلام آباد میں منعقدہ تقریب کے دوران گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں سات روپے 41 پیسے فی یونٹ اور کمرشل صارفین کے لیے 7 روپے 59 پیسے فی یونٹ کمی کی خوشخبری سنائی۔۔۔ اس فیصلے کو عوامی اور سیاسی سطح پر ملے جلے ردعمل کا سامنا ہے،خاص طور پر ایسے وقت میں جب مہنگائی  نے ہر شعبے کو متاثر کیا ہوا ہے۔حکومت کا کہنا کہ یہ اقدام عوامی مفاد میں کیا گیا تاہم اس فیصلے کی حقیقت اور اس کے اثرات پر سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں ۔۔۔سب سے پہلا سوال جو اس فیصلے کے بعد اٹھتا ہے وہ یہ ہے کہ آیا یہ کمی مستقل طور پر برقرار رہ سکے گی؟پاکستان میں توانائی کے شعبے کی حالت کسی سے چھپی نہیں ہے ،جہاں کئی دہائیوں سے بحران کا سامنا کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ حکومت کی طرف سے بجلی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت عوامی دبائو کے سامنے ہاری  ہے لیکن اس کے دیرپا اثرات پر غور کیا جانا ضروری ہے۔بجلی کی قیمتوں میں کمی کے باوجود اگر اس کے پیچھے درپیش اصل مسائل حل نہ کیے گئے،جیسے کہ بجلی کی پیداوار کی کمی، توانائی کے شعبے میں کرپشن یا بجلی کی چوری،تو یہ کمی صرف عارضی ثابت ہو سکتی ہے۔۔۔ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ یہ فیصلہ کہاں تک حقیقت میں عوام کی معاشی مشکلات کو کم کرتا ہے؟بجلی کی قیمتوں میں کمی سے کم از کم شہری سطح پر ایک تسکین ضرور ملے گی مگر کیا اس کا اثر کاروبارپر بھی پڑے گا؟چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے بجلی کی قیمتوں کا معاملہ سنگین ہے اور اس فیصلے سے وہ مکمل طور پر مستفید ہوں گے یا نہیں؟یہ ابھی دیکھنا باقی ہے۔اسی طرح،توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں کمی کا اثر حکومت کے مالیاتی خسارے پر پڑ سکتا ہے اور اس کا حل صرف قیمتوں میں کمی سے نہیں نکالا جا سکتا۔ حکومت کو توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ نہ صرف قیمتوں میں کمی کی جائے بلکہ توانائی کے بحران کو بھی مستقل طور پر حل کیا جا سکے شہباز شریف کی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی توانائی کے بحران کا سامنا کیا اور ان کے دور میں آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر تنقید میں اضافہ ہوا۔اگرچہ شہباز شریف نے توانائی بحران کو حل کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے لیکن آئی پی پیز کے حوالے سے سابقہ حکومتوں کے کیے گئے معاہدوں کی دوبارہ تشخیص کرنا ایک مشکل کام ثابت ہوا۔۔۔آئی پی پیز کی قیمتوں میں اضافے اور غیر شفافیت کے الزامات نے شہباز شریف کی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کیں۔ان معاہدوں کی نوعیت پر سوالات اٹھائے گئے،خاص طور پر جب پاکستان کے عوام مہنگی بجلی کے بلوں کا سامنا کر رہے تھے۔۔۔۔حکومت نے آئی پی پیز سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قیمتوں کو کم کریں یا کم از کم یہ ثابت کریں کہ ان کے معاہدے پاکستان کے عوام کے مفاد میں ہیں،وزیراعظم اور ان کی ٹیم کی کوششیں کتنی بارآور ثابت ہوئی ہیں؟یہ سب کے سامنے ہے۔۔۔تین سال قبل بجلی کے فی یونٹ کی قیمت پندرہ روپے تھی جو بڑھ کر 47 روپے سے تجاوز کر چکی تھی،وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے اب اس کی قیمتوں میں سات روپے اکتالیس پیسے کمی کی گئی ہے جبکہ مزید 6 روپے قیمت کم کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔۔۔اس کمی سے ’’مہنگائی کے ہچکولے‘‘سہتی قوم کو کتنا فائدہ ہو گا ؟؟اس بارے ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔۔۔اب مختصر جائزہ لیتے ہیں آئی پی پیز معاہدوں کا۔۔۔پاکستان کی توانائی کی تاریخ میں دو اہم ادوار ایسے گزرے ہیں جن میں آزاد پاور پروڈیوسرز (IPPs) کے ساتھ کیے گئے معاہدوں  نے ملکی معیشت،عوامی مفاد اور ریاستی خودمختاری پر گہرے اثرات مرتب کیے۔۔۔ 1994 اور 2002 کی پاور پالیسیوں کے تحت کیے گئے یہ معاہدے بظاہر بجلی کی قلت کو دور کرنے کے لیے تشکیل دئیے گئے تھے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہی معاہدے ایک نئے بحران کی شکل اختیار کر گئے۔۔۔۔1994 میں پیپلز پارٹی کی حکومت  نے عالمی بینک اور آئی ایم ایف کی پشت پناہی سے پہلی مرتبہ نجی شعبے کو بجلی پیدا کرنے کی اجازت دی۔اس پالیسی کے تحت "ٹیک اور پے" ماڈل اپنایا گیا جس میں حکومت بجلی خریدے یا نہ خریدے،اسے پاور پلانٹس کو ادائیگی بہرحال کرنا تھی۔سرمایہ کاروں کو منافع کی ڈالر میں ادائیگی کی ضمانت دی گئی اور معاہدے 25 سے 30 سال کے طویل مدتی عرصے کے لیے طے کیے گئے ۔ ۔ ۔ ۔ بدقسمتی سے ان معاہدوں میں شفافیت کا فقدان رہا۔۔۔نہ پارلیمنٹ سے منظوری لی گئی،نہ کسی جامع قومی مشاورت کا اہتمام ہوا۔کئی منصوبے سیاسی بنیادوں پر مخصوص افراد یا گروہوں کو دئیے گئے۔بعد ازاں آڈیٹر جنرل اور دیگر اداروں کی رپورٹس میں ان معاہدوں کی لاگت،شرائط اور منافع خوری پر سنگین اعتراضات سامنے آئے۔ حبکو، AES، اور چند دیگر منصوبے عوامی اور ادارہ جاتی تنقید کی زد میں بھی آئے۔۔۔۔2002 میں پرویز مشرف حکومت نے ایک نئی پاور پالیسی متعارف کرائی،اگرچہ اس میں کچھ اصلاحات شامل تھیں لیکن بنیادی ڈھانچہ وہی رہا۔ کپیسٹی پیمنٹس برقرار رہیں اور نجی کمپنیوں کو منافع کی دوبارہ ضمانت دے دی گئی۔۔۔ مختلف رپورٹس سے یہ بھی پتہ چلا کہ کئی بااثر گروہوں ، ریٹائرڈافسران اور مخصوص کاروباری طبقات کو نوازا گیا۔۔۔۔تحریک انصاف کی حکومت نے 2020 میں ان معاہدوں پر نظرثانی کا عندیہ دیا اور ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی، جس نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ کئی پاور کمپنیوں  نے اصل سرمایہ کاری سے کئی گنا زائد منافع حاصل کیا،حسابات میں ہیرا پھیری کی اور کئی منصوبے اوور بلنگ میں ملوث پائے گئے ۔۔ ۔ ۔ بعض کمپنیوں نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بین الاقوامی عدالتوں سے رجوع کیا، جن میں لندن کی انٹرنیشنل کورٹ آف آربیٹریشن بھی شامل ہے،حکومت پاکستان کو کئی کیسز میں بھاری اخراجات اور جرمانوں کا سامنا کرنا پڑا۔۔۔آج بھی ملک کی بجلی کی پیداواری صلاحیت اپنی جگہ موجود ہے مگر لوڈشیڈنگ،مہنگی بجلی اور گردشی قرضے بدستور عوام پر بوجھ بنے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ایسے میں سوال یہ ہے کہ موجودہ حکومت اس مسئلے سے کیسے نمٹ رہی ہے؟شہباز شریف کی حکومت  نے پاور سیکٹر میں کچھ وقتی اقدامات ضرور کیے ہیں،مثلاً بجلی چوری کے خلاف مہم، نادہندگان کے خلاف کارروائیاں اور سبسڈی کی حد بندی مگر اطلاعات یہ بھی ہیں کہ موجودہ حکومت  نے چند کمپنیوں کے ساتھ پرانے معاہدوں کی توثیق کی ہے تاکہ انہیں قانونی تحفظ حاصل رہے۔۔۔۔قابل افسوس امر یہ ہے کہ سات روپے اکتالیس پیسے کی کمی کے باوجود بجلی کے بل صرف صارفین تک محدود نہیں رہے بلکہ اب یہ پوری قومی معیشت کا بوجھ بن چکے ہیں ۔ صنعت ، زراعت، کاروبار اور روزمرہ زندگی ہر پہلو متاثر ہو رہا ہے جبکہ چند خاندان اور کاروباری گروہ برسوں سے اربوں روپے منافع سمیٹ رہے ہیں۔۔۔حال ہی میں وزیر توانائی نے تسلیم کیا کہ کئی آئی پی پیز کو اب بھی بغیر پیداوار کے ادائیگیاں ہو رہی ہیں،جن میں کچھ معاہدے 2026 تک بلا ترمیم جاری رہیں گے ۔ حیرت انگیز طور پر حکومت نے ان کمپنیوں سے صرف’’خیر سگالی‘‘ کے تحت مذاکرات کیے،جن کا کوئی قانونی اثر نہیں ہے ۔ ۔ ۔ حکومت کو اس بات کا ادراک ہونا چاہئے کہ یہ محض توانائی کا مسئلہ نہیں رہا،یہ ایک قومی المیہ بن چکا ہے۔۔۔ان معاہدوں کا ازسرنو جائزہ ہی ناگزیر نہیں بلکہ ہر اْس فرد اور ادارے کا احتساب ضروری ہے جنہوں  نے ان معاہدوں کے بدلے قومی مفاد کو نقصان پہنچایا ، چاہے وہ چہرے سیاسی ہوں یا غیر سیاسی۔۔۔وزیر اعظم شہباز شریف صاحب،یہ فیصلے کا وقت ہے،ہمیں انتخاب کرنا ہے کہ ہم تاریخ کے کس طرف کھڑے ہونا چاہتے ہیں؟ اندھیروں میں رہنے والی قوم یا اپنے وسائل،پالیسیوں اور مستقبل پر قابو پانے والی خوددار قوم۔۔۔

ٹیگز: