شہباز شریف حکومت کی جانب سے بجلی کے نرخوں میں کمی کے اعلان کا تو کافی عرصہ سے انتظار تھا کیونکہ اس سلسلہ میں خبریں کافی عرصہ سے گردش میں تھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ وسوسے بھی جنم لے رہے تھے کیونکہ یہ افواہیں بھی سرگرم تھیں کہ ماضی کی حکومتوں کی طرح عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے نام پر چکر بازی ہی ہو جائے گی۔بالخصوص اس بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نہ کرنا کہ حکومت یہ ریلیف بجلی کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی لا کر عوام تک پہنچائے گی اور پھر اس سلسلہ میں اعلان کی تاخیر مختلف قسم کی بدگمانیاں پیدا کرتی رہی۔
آخر کار وزیر اعظم کی جانب سے وہ اعلان تو کر دیا گیا کہ جس کے تحت عوام بجلی کے بلوں میں خاطر خواہ ریلیف پائیں گے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا شہباز شریف حکومت کو اس بات پر بھی نظر رکھ سکے گی کہ نیپرا جیسے ادارے اپنی چکر بازی میں عوام کو اس ریلیف سے محروم ہی نہ کر دیں کہ جس کا ارادہ اور نیت حکومت کی تھی۔
بجلی کے نرخوں میں کمی کرنے کے لئے شہباز شریف حکومت کی طرف کیا گیا یہ اعلان، اگر اس کا اطلاق حقیقی سپرٹ میں کر دیا جاتا ہے، یقینی طور پر پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے، افراط زر پر قابو پانے اور معاشی بدامنی کے دوران اپنے شہریوں کو راحت فراہم کرنے کے لئے جاری جدوجہد میں ایک بڑی کا میابی ثابت ہو گا۔
عوام کی اکثریت اس فیصلے کا خیرمقدم کر رہی ہے لیکن بعض ماہرین معاشیات، توانائی کے شعبے کے سٹیک ہولڈرز اور سیاسی مبصرین اس صورتحال کو ایک اور زاویہ سے دیکھتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں اس فیصلہ کے متعدد مضمرات بھی ہو سکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں سب سے بڑا مسلہ توانائی کا بحران اور سرکلر ڈیٹ( قرض) بیان کیا جاتا ہے جو برسوں سے بجلی کے شعبے کو پریشان کررہا ہے اور باقائدگی سے بجلی کا بل ادا کرنے والوں کے لیے ایک درد سر بنا ہوا ہے۔
بجلی کی کھپت سے قطع نظر، ملک میں بجلی کے نرخوں میں اضافے کی وجہ ایندھن کے درآمدی اخراجات، ڈسٹری بیوشن اور لائن لاسز سے متعلق نقصانات، بلوں کی کم سے کم ادائیگی اورIPPs کو کپیسٹی پیمنٹس رہی ہیں،اور انہی وجوہات کی بنا پر گھریلو صارفین کی زندگی اجیرن بنی رہی ہے اور صنعتی اور زرعی صارفین پریشان رہے ہیں۔
یقینی طور پر بے پناہ مہنگی بجلی ملک میں بے روزگاری کی بھی ایک بڑی وجہ رہی ہے۔ اگر صرف اپنے ریجن کا ہی جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اعلان کردہ ریلیف کے باوجود اب بھی پاکستان میں بجلی کے ریٹ بہت زیادہ ہیں اور اس قسم کے حالات میں پاکستانی صنعت کے لیے بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے اعلان کردہ بجلی کے نرخوں میں رعایت یقینی طور پر بجلی صارفین کو خاص طور پر درمیانہ اور کم آمدنی والے صارفین کو ایک قلیل مدتی ریلیف فراہم کرے گا۔ صنعتوں کے لئے خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کے لئے یہ آپریشنل اخراجات کو کم کرکے اور ممکنہ طور پر پیداواری صلاحیت اور برآمدات کو فروغ دے کر سانس لینے کی کچھ جگہ بھی فراہم کرسکتا ہے۔ لیکن شائد اس فیصلے کے مضمرات قلیل مدتی صارفین کی امداد سے بالاتر ہوں۔
اس موقع پر ایک اہم سوال جس کا جواب آنا انتہائی ضروری ہے وہ یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں اس کمی کی وجہ سے پیدا ہونے والے مالی خسارے کو کس طرح سے پورا کیا جائے گا؟ اس کے علاوہ کیا حکومت اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ بجلی کے نرخوں میں کمی کی وجہ سے پیدا ہونے والے خسارے کو اگر سٹرکچرل تبدیلیوں سے پورا نہیں کیا جائے گا تو سرکلر ڈیٹ، جو پہلے ہی 2.6 ٹریلین روپے سے زیادہ ہے، میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔اس لیے بجلی یا کسی بھی اور عوامی سہولت میں سبسڈی یا رعائت دیتے ہوئے حکومت کو اس بات کو مد نظر رکھنا ہو گا اس قسم کے اقدامات کے لیے بجٹ میں رقم کا مختص ہونا یا مناسب حد تک محصولات میں اضافہ انتہائی ضروری ہے اور اس کے بغیر بجلی کی قیمتوں میں کمی لانے کی کوئی بھی کوشش آنے والے دنوں میں حکومت اور عوام دونوں کو سخت مالی مشکلات کا شکار کر سکتی ہے۔
اس کے علاوہ بجلی کے نرخوں میں کمی کا یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان ایک نئے پروگرام کے لئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ آئی ایم ایف کا ہمیشہ سے اصرار رہا ہے کہ کسی بھی قسم کی سبسڈی کو پیداواری لاگت اور انتظامی نااہلیوں کے خاتمہ کے ساتھ نتھی کیا جائے۔ویسے تو حکومت کا کہنا ہے کہ بجلی کے نرخوں میں کمی کے مسئلہ پر آئی ایم ایف کو مکمل طور پر اعتماد میں لیا گیا ہے لیکن ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ حکومت کی کسی بھی قسم کی کوتاہی، نااہلی یا وعدہ خلافی کی قیمت عوام کو ادا کرنا پڑتی ہے۔ اگر سیاسی صورتحال کے تناظر میں دیکھا جائے تو بجلی کی قیمتوں میں کٹوتی کرنے کاوقت کا انتخاب بھی خاصا دلچسپ ہے۔ اس وقت شہباز شریف کی زیرقیادت اتحاد کو مایوس ووٹرز اور اپوزیشن پارٹیوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔ بظاہر تو حکومت کی جانب سے اٹھایا گیا یہ قدم عوامی حمائت اور ہمدردی حاصل کرنے کا ڈیزائن لگتا ہے۔ لیکن دیکھنا یہ ہو گا کہ شہباز شریف حکومت آنے والے دنوں میں عوام کو فراہم کردہ اس ریلیف سے کس طرح نبردآزما ہوتی ہے اور حکومت پر اضافی بوجھ ڈالے بغیر کس طرح زیادہ وقت کے لیے اس قسم کی رعائت کو برقرار رکھا جا سکتاہے۔
بہت پرانی بات نہیں جب عمران خان حکومت نے عوام میں اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کے لیے آخری کوشش کے طور پر پیٹرول کی قیمتیں بین الاقوامی معیار کے حساب سے نہ بڑھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے انہیں برقرار رکھا تھا۔ اس فیصلے پر فوری طور پر تو شائد عوام کو کچھ ریلیف مل گیا ہو لیکن بعد ازاں اس فیصلہ کے ملکی معیشت پر جو اثرات مرتب ہوئے ہم سب اس کو بھگت چکے ہیں۔ اسی تجربہ کی روشنی میں وزیراعظم شہباز شریف سے درخواست ہو گی کہ سستی شہر ت اور کسی بھی شارٹ کٹ کے ذریعے عوام کو وقتی ریلیف فراہم کرنے کی کوشش ہرگز نہ کریں بلکہ مضبوط بنیادوں پر پورے ہوم ورک کے ساتھ سٹرکچرل تبدیلیاں بھی لائیں فالتو اخراجات اور نااہلیوں اور کوتاہیوں کی بنیاد پر ہونے والے نقصانات کو بھی کنٹرول کرنے کی کوشش کریں۔ چونکہ موجودہ حکومت کے پاس ابھی خاصا وقت موجود ہے اس لیے کسی بھی کاسمیٹک ریلیف کے بجائے اگر تگڑی بنیادوں پر عوام کو ریلیف مہیا کرنے کی کوششیں کی جائیں تو شائد وہ سیاسی ، اقتصادی اورسماجی لحاظ سے زیادہ سود مند ثابت ہوں۔