اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے حالیہ سیلاب اور طوفانی بارشوں سے متاثرہ علاقوں کے غیر رجسٹرڈ افراد کے لیے مالی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی کی ہدایت دی ہے۔
یہ احکامات انہوں نے جمعے کو ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیے، جس میں مون سون بارشوں، سیلابی صورتحال اور جاری امدادی و بحالی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ متاثرہ افراد کی فوری امداد اور بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے وزارت موسمیاتی تبدیلی کو ہدایت کی کہ آئندہ برس کی مون سون سیزن کے لیے دو ہفتوں میں ایک جامع لائحہ عمل پیش کیا جائے تاکہ ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکے۔
اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ دریائے راوی، ستلج اور چناب میں آنے والے سیلابی ریلے اس وقت جنوبی پنجاب میں داخل ہو چکے ہیں، اور پنجند کے مقام پر ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تمام انتظامات مکمل ہیں۔ ملتان میں انتظامیہ، پاک فوج اور دیگر ادارے سیلابی ریلے سے نقصانات کو روکنے میں مصروف ہیں۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ملک بھر میں 20 لاکھ سے زائد افراد کو بروقت محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، 4100 سے زائد افراد کو ریسکیو کیا گیا، جبکہ 6300 ٹن سے زائد امدادی سامان اور 2400 میڈیکل کیمپس متاثرہ علاقوں میں پہنچائے اور قائم کیے جا چکے ہیں۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ امدادی سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کی جائے اور صوبائی حکومتوں کو وفاق کی جانب سے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے۔ انہوں نے ریسکیو و ریلیف کے تمام اداروں، بشمول این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم ایز، پاک فوج اور دیگر محکموں کی خدمات کو سراہا۔