جب قدرتی آفات دستک دیتی ہیں تو یہ صرف پانی، ہوا یا آگ کی تباہی نہیں ہوتی یہ حکومتوں، حکومتی نظاموں اور قیادت کے دعوئوں کی آزمائش بھی بن جاتی ہیں۔ پاکستان میں سیلاب کوئی نئی بات نہیں۔ ہر ایک دو سال کے بعد صوبہ پنجاب میں دریاؤں کے کنارے بسنے والے لاکھوں افراد اس آفت سے نبرد آزما ہوتے آئے ہیں۔ مگر اس بار کچھ نیا ہوا۔ پنجاب حکومت نے سیلاب سے نمٹنے میں جس سنجیدگی، تیز رفتاری اور انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کیا، وہ ہمارے روایتی سرکاری رویوں سے یکسر ہٹ کر تھا۔
پچھلی کئی دہائیوں سے میں نے خود کئی مواقع پر دیکھا کہ عوام مصیبت میں ہوتے ہیں اور حکومتی نمائندے صرف پریس کانفرنسوں اور لفظی طفل تسلیوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ لیکن 2025 کے حالیہ سیلاب میں وزیراعلیٰ پنجاب نے جو طرزِ عمل اپنایا، اس نے پچھلی تمام روایات کو ہی توڑ ڈالا۔ تصور کیجیے، ریت مٹی اور گارے سے اٹے راستے، کیچڑ میں لتھڑے خیمے اور ان کے لٹے پٹے مکین۔ پھر اچانک ان کے درمیان پنجاب کی حکمران و وزیراعلیٰ کی آمد، عوام کے ساتھ کھڑا ہونا، ان کے دکھ درد کو خود محسوس کرنا، ان کی دکھی بپتا خود سننا اور موقع پہ انتظامیہ کو ہدایات دینا۔ یہ کوئی فوٹو شوٹ نہیں تھا، بلکہ ایک واضع پیغام تھا ’’مشکل کی اس گھڑی میں، میں دفتر سے نہیں، خود اپنے عوام کے بیچ رہ کر حکمرانی کروں گی‘‘۔ یقینا یہی وہ کچھ لمحے ہوتے ہیں جو کسی حکومت کی ساکھ بناتے یا بگاڑ دیتے ہیں۔
نوجوان اور متحرک وزیراعلیٰ کی قیادت میں پنجاب حکومت نے اس سیلاب کے دوران جو اقدامات کیے، وہ اس بار محض کاغذی کارروائیاں نہیں رہیں۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) بروقت متحرک ہوئی، امدادی سامان وقت پر پہنچنا شروع ہوا اور صوبہ بھر میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف کیمپوں کا قیام عملی طور پر نظر آیا۔ جہاں خوراک کی بروقت ترسیل کو یقینی بنایا گیا، وہیں سیلاب کے بعد پھیلنے والی وباؤں سے نمٹنے کے لئے محکمہ صحت، حرکت میں نظر آیا۔ خاص طور پر موبائل میڈیکل یونٹس کی آمد، پینے کے صاف پانی کی فوری دستیابی اور خوراک کی وافر فراہمی جیسے پہلوئوں نے متاثرین کو وقتی سکھ اور حوصلہ ضرور دیا۔
تاریخ میں پہلی بار میڈیا نے متاثرین کے چہروں پر حیرت بھی دیکھی اور شکرگزاری بھی۔ ایک بزرگ شخص نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا: ’’پہلی بار حکومت نے ہمیں صرف ووٹوں کے دنوں میں نہیں، مصیبت کے وقت میں بھی یاد رکھا ہے‘‘ یہ ایک جملہ کسی بھی حکومت کے اپنی کارکردگی دکھانے کی غرض سے دیئے گئے کروڑوں کے اشتہارات سے زیادہ وزن رکھتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ قیادت صرف فیصلے کرنے کا نام نہیں، بلکہ وہ مشکل وقت میں اپنے عوام کو حوصلہ دینے اور ان کا ساتھ نبھانے کا نام ہے۔ کیونکہ جب کوئی حکمران خود مشکل کی گھڑی عوام کے درمیان آ جاتا ہے، زمین پر چل کر، ٹوٹی چارپائیوں اور دریوں پہ ان کے برابر بیٹھ کر ان کی آواز سنتا ہے، تو پورا انتظامی ڈھانچہ بیدار اور فعال ہو جاتا ہے۔ یہی کچھ اس بار دیکھنے میں آیا۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تمام محکموں کے ضلعی افسران فوری متحرک ہوئے، فیلڈ سٹاف فعال ہوا اور جو کام دنوں میں ہونے کی توقع نا تھی، وہ گھنٹوں میں ہوتے نظر آئے۔
لیکن کیا یہ سب کچھ مثالی تھا؟ ہرگز نہیں۔ کہیں سست روی بھی تھی، کہیں بدانتظامی کے شکوے بھی سننے کو ملے، لیکن وزیراعلیٰ کے متحرک ہونے پہ تمام گلے شکوئوں کا بروقت مداوا کیا گیا لہٰذا یہ کہنا بجا ہو گا کہ پنجاب حکومت کی مشکل وقت میں ابھری مجموعی تصویر ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر اور حوصلہ افزا تھی۔ یہ کہنا بھی غلط نا ہو گا کہ اگر حکمرانی کے عوامی انداز کا یہ تسلسل برقرار رہا تو پنجاب گورننس کے اعلیٰ معیار میں دیگر ملکی اکائیوں سے واقعی بہت آگے جا نکلے گا۔
اب اس ساری صورتِ حال سے چند سبق بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں جیسا کہ قیادت کا اپنی عوام سے مشکل کی گھڑی میں براہ راست زمینی رابطہ سب سے بڑی طاقت اور بہترین انداز حکمرانی ہے اور یہ کہ حکومتی ادارے تبھی فعال ہوتے ہیں جب صوبے کے طرف سے چیف ایگزیکٹو سے موقع پہ واضح اور سنجیدہ پیغام آئے۔ عوامی اعتماد کو جیتنے کے لیے محض وعدے نہیں بلکہ موقع کی مناسبت سے بروقت عملی اقدامات ضروری ہوتے ہیں اور پھر جب نیشنل میڈیا بروقت کیے گئے حکومتی اقدامات دکھاتا ہے تو یہ عوامی تاثر میں بہتری کا سب سے مؤثر ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔
لیکن یہاں سب سے اہم سوال یہ ہے: کیا یہ جذبہ اور اقدامات وقتی ہیں؟ کیا حکومت سیلاب جیسی قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے دیرپا اقدامات کرنے پہ بھی سنجیدہ ہے؟ کیونکہ اگر پنجاب حکومت اس بار کے تجربے کو ایک ماڈل کے طور پر لے، اور اسے ضلعی، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح تک ادارے کی شکل دے دے، تو نہ صرف مستقبل میں ایسی قدرتی آفات سے لوکل سطح پہ ہی بروقت نمٹنے میں مدد ملے گی بلکہ اس کے نتیجے میں حکومت خود بھی ایک عوام دوست اور ہمدرد کا چہرہ اختیار کرے گی۔ وہیں دوسری طرف پنجاب حکومت کو بلا تاخیر اب وہ تمام اقدامات کرنے چاہئیں کہ جن سے اگلی دفعہ سیلاب کی تباہ کاری سے عوام کو بچایا جا سکے۔
بطور کالم نگار، میری نظر میں اس بار وزیراعلیٰ پنجاب کی قیادت میں پنجاب حکومت نے وہ سب کر دکھایا ہے، جسے ’’عملی قیادت‘‘ کہا جاتا ہے۔ اب ضروری ہے کہ اس بہترین انداز کو وقتی پرفارمنس کی بجائے مستقل طرزِ حکمرانی بنایا جائے۔ اور اگر واقعی ایسا ہو جائے تو پھر اگلی بار جب خدا نخواستہ سیلاب یا کوئی اور قدرتی آفت آئے، تو عوام بے اختیار کہہ اٹھیں گے کہ ’’مریم نواز کی حکومت ہوتے ہوئے انہیں کوئی ڈر نہیں‘‘ اور اگلے الیکشن میں یہی عوام خود نعرے لگائے ’’ہماری آواز، مریم نواز‘‘ اور ’’اب کی بار، مریم سرکار‘‘۔ اب یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ صاحبہ اور ان کی قیادت میں موجود پنجاب حکومت نے کرنا ہے کہ اب سے طرز حکمرانی صرف عوامی ہو گا یا پھر متاثرین کی بحالی کے بعد روایتی دفتری انداز کی طرف لوٹ جایا جائیگا؟ یاد رہے عوام صرف اس سے ہی جڑتے ہیں جو خود ان سے جڑتا ہے۔