Wed, September 16, 2026

کشمیر کی آزاد ی کہاں گئی؟

کشمیر کی آزاد ی کہاں گئی؟

دوڈھائی سال پہلے آزاد کشمیر جانا ہواتو میں نے سیر کے لیے کشمیر کے اس علاقے کا انتخاب کیا یہاں عمومی طورپر سیاح نہیں جاتے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ علاقے ضلع گجرات کے ساتھ لگتے ہیں اور دن کے وقت یہاں گرمی اور سردی میں ویسا ہی موسم ہوتا ہے جیسا گجرات میں ہوتا ہے ۔یہ آزاد کشمیر کے ضلع بھمبر کا علاقہ ہے ۔میرا اس علاقے میں جانے کا مقصد وہ جگہ دیکھنا تھا یہاں پاکستان کے شاہینوں نے دوہزار انیس میں ہندوستانی ابھینندن کا جہاز مار گرایا تھا ۔آزاد کشمیر کے علاقے پرامن اور مجموعی طوپر لوگ مطمئن اور محنت مزدوری پر یقین رکھتے ہیں لیکن کچھ مبینہ انقلابی (شرپسند) ہر جگہ ہی ہوتے ہیں تو یہاں بھی ہیں جو اپنے آپ سے بھی خوش نہیں ہوتے وہ غیر شاکر اور غیر صابر ہوتے ہیں ۔ان کی شخصیات منفی ہوتی ہیں اور اسی منفی پن سے وہ اپنے ارد گرد لوگوں کو آلودہ کرتے رہتے ہیں۔
میرا قیام ریاست آزاد جموں و کشمیر کے ایک ریسٹ ہاؤس میں تھا ۔میں نے دن میں قریب درجنوں لوگوں سے ملاقات کی۔بھمبر شہر میں ہر جگہ گیا مجھے کسی بھی جگہ پر کوئی پرایا پن نہیں ملا۔ضلع گجرات سے بھمبر میں سڑک اسی طرح داخل ہوتی ہے جیسے شیخوپورہ کی حد ختم ہوتی ہے توساتھ ہی ننکانہ صاحب ضلع شروع ہوجاتا ہے۔رات کو ریسٹ ہاؤس میں ایک نوجوان سرکاری ملازم جو وہاں دیکھ بھال پر مامو ر تھا اس سے بات ہونے لگی تو اس کے اندر کا انقلابی باہر آنے لگ گیا۔ دس منٹ کی گفتگو میں ایک گھنٹے بھر کے شکوے سامنے انڈیل دیے۔میں نے ابھی آزادکشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اڑتیس مطالبا ت دیکھے تو مجھے لگا کہ کچھ ایسے ہی مطالبا ت اس سرکاری ملازم کے تھے ۔یہ مطالبات کم اور شکوے زیادہ تھے اور ایسے تمام شکوے بغیر محنت کیے سب کچھ پالینے کی جستجو سے پیدا ہوتے ہیں۔محنت کرکے اپنی زندگی کو خوبصورت بنانے والوں کی زبان پر شکوے نہیں آتے بلکہ چینلجز سے نمٹنے کے لیے مزید محنت کرنے کا جذبہ دل میں پیدا ہوتا ہے اور نہ ہی کبھی حسد اس کے پاس پھٹکتا ہے ورنہ پنجاب یا سندھ میں بیٹھے شخص کے لیے تو انقلابی بننے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ آزاد کشمیر میں آٹا صرف دو ہزار روپے من ملتا ہے اور یہاں چار ہزار روپے ہے اور پھر بجلی کا ایک یونٹ جو مجھے چالیس سے پچاس روپے کا ملتا ہے وہی بجلی آزاد کشمیر کے شہریوں کے لیے صرف تین روپے فی یونٹ ہے لیکن پھر بھی خوش نہیں ہیں ۔آزاد کشمیر کے وزیراعظم کا دکھ دیکھیں وہ کہہ رہے ہیں کہ بجلی اتنی سستی ہونے کی وجہ ہے شہریوں نے گیس سلنڈر کو چھوڑ کر کھانا بنانے کے لیے چولہے بجلی والے رکھ لیے ہیں ۔پانی کی ٹینکیوں میں بجلی کے راڈ لگوالیے ہیں تاکہ گیزر کا کام بھی ہوجائے اور پھر اوپر سے ستم یہ ہے کہ ستر فیصد لوگ بل نہیں دینا چاہتے ۔
میرے سامنے جب انقلابی سرکاری ملازم نے جذباتی تقریرختم کی تو میں نے پوچھا آپ کی تعلیم کیا ہے اس نے بتایا کہ وہ بمشکل میٹرک پاس ہے ۔میں نے اس سے سوال کیا کہ آپ کو پاکستان سے شکایتیں ہیں چلیں اگر آپ کچھ دیر کے لیے پاکستان کو اپنے شکووں سے نکال دیں تو اس تعلیم کے ساتھ آپ کو کیا ایسی نوکری مل سکتی تھی ؟ وہ ایک منٹ کے لیے ساکت سا ہوگیا ۔میں نے اس کے سامنے ایک حقیقت کا در کھول دیا تھا تاکہ اس کو شکوے کی جگہ شکر کا احساس ہو۔اس نے مجھے کہا کہ میٹرک تعلیم کے ساتھ اچھی نوکری تو ملنا مشکل ہی ہوتا ۔میں نے کہا لیکن اس وقت آپ کے پاس نوکری کی وہ سکیورٹی ہے جو اس ملک کے وزیراعظم کے پاس بھی نہیں ہے۔میرے پاس کوئی جاب سکیورٹی نہیں ہے مجھے نہیں معلوم میری نوکری کب ایک جھٹکے میں ختم ہوجائے لیکن میں شکوے کی بجائے یہ سوچتا ہوں کہ اگر میری نوکری کل کو نہیں رہے گی تو میں نے اس سے بہتر نوکری کے لیے کیسے مزید محنت کرنی ہے تو آپ پھر اس نوکری پر شاکر ہوتے ہوئے اپنے کام کو محنت سے کیوں انجام نہیں دیتے؟اس نے پینترا بدلا اور کہا کہ باقی سب تو ٹھیک ہے لیکن فوج کو یہاں نہیں ہونا چاہے ۔میں نے اس سے کہا کہ صبح میرے ساتھ چلو گے؟ ا س نے کہا ٹھیک ہے۔
صبح میں نے سماہنی سیکٹر کا رخ کیا ۔اس انقلابی کو ساتھ بٹھایا اور بھمبر سے سماہنی کا رخ کرلیا۔گاڑی باغ سر فورٹ سے چند میٹر کے فاصلے تک آسانی سے چلی گئی ۔میں نے قلعے میں داخل ہوتے ہوئے اس نوجوان سے پوچھا کیا پہلے یہاں آئے ہو تو ا س کا جوا ب نفی میں تھا۔باغ سر فورٹ مغل بادشاہوں نے تعمیر کروایا تھااور مغل شہنشاہ جہانگیر کا انتقال اسی قلعے میں ہوا تھا ۔جہانگیر کے جسم کے کچھ اعضا کو اسی قلعے میں دفن کیا گیا ۔اس قلعے کے بالکل سامنے لائن آف کنٹرول ہے  یعنی سامنے بھارت ہے۔ہم وہاں کھڑے تھے تو ایک فوجی جوان نے ہمیں کہا کہ آپ پیچھے آجائیں یہاں خطرہ ہوسکتا ہے کیونکہ ہندوستانی فوج کسی بھی وقت بلااشتعال فائرنگ کردیتی ہے ۔میں نے اس نوجوان کو چھیڑنے کے لیے کہا کہ تھوڑاآگے چلتے ہیں دیکھ کر آتے ہیں کہ ہندوستانی فوجی کیا کررہے ہیں ۔یہ سننا تھا کہ فوج پر سوال کرنے والے اس نوجوان نے کہا کہ سر جی ’’اساں مرن تھوڑی آئیں آں ‘‘ میں نے اس کو دور بین تھمائی اور کہا کہ وہ دس منٹ تک لائن آف کنٹرول پر ہندوستانی فوجی چوکیوں کے بالکل سامنے پاکستانی فوجی جوانوں کو پوزیشن سنبھالے دیکھے ۔اس نے دومنٹ بعد دوربین مجھے واپس دیتے ہوئے کہا کہ سر جی ان جوانوں کی ہمت ہے کہ یہ جان ہاتھ پر رکھے یہاں دشمن کے سامنے کھڑے ہیں۔میں نے کہا مجھے تو پتہ چلا ہے کہ کچھ لوگ یہاں ہندوستانی فوج کو اپنا دوست سمجھ بیٹھے ہیں ۔ اس نے کہا سب بکواس  ہے میں نے ابھی ابھی ہندوستانی فوجیوں کو مارٹر گولے اٹھاکر بھاری مشین گنوں کی طرف جاتے دیکھا ہے یہ لوگ ہمارے دوست نہیں ہوسکتے اور یہاں ان کے سامنے کھڑے ہوکر ان کو روکنا صرف ہمارے بہادر فوجیوں کا ہی حوصلہ ہے ۔میں نے کہا سوچو اگر یہاں وہ پاک فوج نہ ہو جس پر رات آپ  بھمبر میں سکون سے بیٹھ کربات کررہے تھے تو کیا ہوگا؟ اس نے بغیر کچھ مزید سوچے جواب دیا سر جی میرا کشمیر بھی مقبوضہ کشمیر جیسا ہوجائے گااور یہاں بھی ہندوستانی فوج وہی کچھ کرے گی جو وہ میرے اس پار کے بھائیوں کے ساتھ کررہی ہے۔اس نے کہا سر معاف کرنا میں نے جو رات باتیں کیں ایسا یہاں ہمیں کچھ لوگ روز بھڑکاتے ہیں ان سب کو یہاں لاکر دکھانا چاہئے کہ ہماری فوج ہمارے لیے کونسی ڈیوٹی انجام دے رہی ہے۔
ایک شہری کو اپنی ریاست سے شکوے ہوسکتے ہیں شکایات بھی ہوسکتی ہیں لیکن ان شکایات کے اظہار کا طریقہ شرپسندی نہیں ہوسکتا۔یہ عوامی ایکشن کمیٹی جس سستی بجلی اور آٹے سے لطف اندوز ہوکر بھی شاکی ہے اس کا بل اس ملک کا ایک ایک شہری برداشت کررہا ہے۔پاکستان کی ریاست سوارب روپیہ سال کا اپنے کشمیری بھائیوں کے لیے نکالتی ہے خود مشکل برداشت کرتی ہے کیا اس لیے کہ اس طرح کی ایکشن کمیٹیاں لوگوں کو سڑکوں پر لاکر تشدد کی راہ اپنائیں۔؟احتجاج کا راستہ ناپنے والے جانتے ہیں کہ کشمیر حساس مسئلہ ہے اس لیے استحصال کا راستہ چنتے ہیں جو درست ہر گز نہیں۔اگر مہاجرین کی بارہ نشستیں ختم کرنے سے آزاد کشمیر میں خوشحالی آسکتی ہے تو انہیں ختم کردیا جائے لیکن طریقہ یہ نہیں ہوسکتا۔یہ آئینی پیکج کا تقاضا کرتا ہے حکومت اور اسمبلی سے رجوع کیا جانا چاہئے۔ وزیراعظم شہبازشریف نے اپنے ساری حکومت کشمیر بھیج کر معاملہ فہمی کا ثبوت دیا۔یہ مسئلہ حل ہوگیالیکن ایسی ایکشن کمیٹیوں کو سوچنا چاہئے کہ کشمیر یوں کی جدوجہد مقبوضہ کشمیر کی آزادی سے مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے تک کیوں آگئی ہے؟کیا کشمیر آزاد ہوچکا یا ہم بے حس ہوکر اپنے ذاتی مفادات کے غلام بن گئے ہیں؟۔

ٹیگز: