Wed, September 16, 2026

رشوت کے الزام میں گرفتار نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کے افسروں کا جسمانی ریمانڈ منظور

رشوت کے الزام میں گرفتار نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کے افسروں کا جسمانی ریمانڈ منظور

لاہور : رشوت کے الزام میں گرفتار نیشنل سائبر کرائم ایجنسی (NCCA) کے افسروں کا مزید تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے اس حوالے سے تحریری حکم جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ ملزمان پر فراڈ اور بڑی رقم ہتھیا کر رکھنے کا الزام ہے۔

تحقیقات کے دوران سامنے آیا کہ ملزمان نے 4 کروڑ 25 لاکھ 48 ہزار روپے کی رقم ہتھائی۔ ایف آئی اے نے ملزمان کا مزید جسمانی ریمانڈ بڑھانے کی درخواست کی تاکہ مزید شواہد اور دستاویزات حاصل کی جا سکیں۔

تحریری حکم میں یہ بھی بتایا گیا کہ مختلف افراد سے بھاری رقم برآمد ہوئی ہے، جن میں 7 لاکھ روپے ارسلان رضا، 99 لاکھ روپے زوار، 19 لاکھ 48 ہزار روپے یاسر، 3 لاکھ 60 ہزار روپے مجتبیٰ ظفر، 45 لاکھ روپے محمد عثمان، اور 3 لاکھ روپے سلمان عزیز سے وصول کیے گئے۔ شکایت کنندہ عروب جتوئی نے الزام عائد کیا کہ ملزمان نے شعیب ریاض کو 90 لاکھ روپے رشوت دی تھی۔

عروب جتوئی نے یہ بھی بتایا کہ 5 لاکھ روپے چوہدری سرفراز احمد کو دیے گئے۔ ایف آئی اے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مقدمہ دو مختلف الزامات پر مبنی ہے: ایک رشوت کے حوالے سے اور دوسرا این سی سی آئی اے میں بدعنوانی کے نیٹ ورک کے حوالے سے۔

ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ملزمان کے اثاثے ان کے ذرائع آمدن سے کہیں زیادہ ہیں، اور اس دوران کچھ ریکوری کی وجہ سے متاثرین کے بیانات مکمل نہیں ہو سکے۔ اس لیے مزید تفتیش ضروری ہے۔

عدالت نے کہا ہے کہ آئندہ جسمانی ریمانڈ صرف اس صورت میں دیا جائے گا جب تحقیقات میں کوئی نئی پیش رفت یا شواہد سامنے آئیں گے۔ ایف آئی اے کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ملزمان کے خلاف متاثرین کی تصدیق کا عمل مکمل کرے۔

ٹیگز: