ہر سال 3 مئی کو دنیا”عالمی یومِ آزادی صحافت“ مناتی ہے۔ یہ دن بظاہر ایک تہنیتی موقع ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں دنیا بھر کے معاشرے اپنی کمزوریاں، تضادات اور ناانصافیاں دیکھتے ہیں۔ صحافت اگر چوتھا ستون ریاست ہے تو آج یہ ستون سب سے زیادہ دراڑوں کا شکار نظر آتا ہے۔حالیہ عالمی اعدادوشمار اس بحران کی شدت کو مزید واضح کرتے ہیں۔ بین الاقوامی ادارے Committee to Protect Journalists کے مطابق 2025 میں دنیا بھر میں کم از کم 127 صحافی قتل کیے گئے۔ یہ صرف اعداد نہیں بلکہ وہ آوازیں ہیں جو خبر بننے سے پہلے ہی خاموش کر دی گئیں۔ اسی طرح Reporters Without Borders کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت 470 سے زائد صحافی قید ہیں۔ یہ صورتحال اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ صحافت اب صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ کئی ممالک میں ایک خطرناک مشن بن چکی ہے۔مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ گزشتہ ایک دہائی میں صحافیوں کے قتل کے 80 فیصد سے زائد کیسز میں کوئی سزا نہیں دی گئی۔ یہ “بے سزا کلچر” نہ صرف انصاف کے نظام پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ قاتلوں کو ایک غیر تحریری تحفظ بھی فراہم کرتا ہے۔اگر عالمی صورتحال تشویشناک ہے تو پاکستان کی صورتحال اس سے مختلف نہیں بلکہ کئی حوالوں سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ RSF کی 2026 رپورٹ کے مطابق پاکستان 180 ممالک میں 153ویں نمبر پر ہے۔ اگرچہ یہ گزشتہ سال کے مقابلے میں معمولی بہتری (158 سے 153) ہے، مگر مجموعی اسکور 32.61 اس بات کا ثبوت ہے کہ بہتری ابھی سطحی ہے، بنیادی ڈھانچہ نہیں بدلا۔
پاکستان میں آزادی صحافت کی تاریخ ایک مسلسل کشمکش کی داستان ہے۔ 1947 سے لے کر آج تک ملک میں کبھی مکمل ریاستی کنٹرول، کبھی جزوی آزادی، اور کبھی غیر رسمی دباو¿ کا دور رہا ہے۔ میڈیا کا پھیلاو¿ ضرور ہوا ہے—تقریباً 100 ٹی وی چینلز، 200 سے زائد ریڈیو اسٹیشنز اور متعدد ڈیجیٹل پلیٹ فارمز—مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس پھیلاو¿ کے ساتھ آزادی بھی بڑھی ہے؟
اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں:2000 سے اب تک 150 سے زائد صحافی قتل ہو چکے ہیں۔صحافی قتل کیسز میں تقریباً 96 فیصد میں انصاف نہیں ملا۔کئی کیسز آج بھی یا تو زیر التوا ہیں یا مکمل طور پر سرد خانے کی نذر ہو چکے ہیں۔یہ اعداد اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان میں مسئلہ صرف تشدد نہیں بلکہ انصاف کی عدم دستیابی بھی ہے۔سینئر صحافی ارشد شریف کا 2022 میں قتل اس بحران کی ایک نمایاں مثال ہے۔ ان کا کیس نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سوالات اٹھاتا رہا۔ معروف اینکر حامد میر پر قاتلانہ حملہ بھی اس ماحول کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے جہاں صحافی اپنی جان کے خطرے میں رہ کر کام کرتے ہیں۔
پاکستان میں مسئلہ صرف تشدد تک محدود نہیں بلکہ قانونی ڈھانچہ بھی ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کو بظاہر سائبر کرائم کے خلاف بنایا گیا، مگر عملی طور پر اس کے استعمال پر شدید تنقید کی جاتی ہے کہ یہ اظہارِ رائے کو محدود کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔اسی طرح پیمرا پر بھی یہ الزام ہے کہ وہ میڈیا مواد کو ریگولیٹ کرنے کے بجائے اکثر ادارتی آزادی کو کنٹرول کرنے میں کردار ادا کرتا ہے۔یہ قانونی اور ادارہ جاتی دباو¿ ایک ایسا ماحول پیدا کرتا ہے جہاں صحافی صرف بیرونی خطرات سے نہیں بلکہ اندرونی ساختی پابندیوں سے بھی نبرد آزما رہتے ہیں۔پاکستان میں میڈیا اداروں کی بڑی تعداد سرکاری اشتہارات پر انحصار کرتی ہے۔ یہ معاشی انحصار ایک غیر رسمی مگر طاقتور کنٹرول میکانزم بن چکا ہے۔ جب اشتہارات روکے جاتے ہیں تو ادارے مالی بحران کا شکار ہوتے ہیں، اور نتیجتاً ادارتی پالیسی متاثر ہوتی ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں”خود سنسرشپ“ جنم لیتی ہے۔ صحافی اور ادارے بعض اوقات براہِ راست دباو¿ کے بغیر ہی ایسے موضوعات سے گریز کرتے ہیں جو ان کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔دنیا بھر میں صحافت کو درپیش خطرات بڑھ رہے ہیں، مگر پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں یہ خطرات زیادہ منظم اور پیچیدہ شکل اختیار کر چکے ہیں۔
127 صحافیوں کا قتل (عالمی سطح) اس بات کی علامت ہے کہ خطرہ عالمی ہے۔470 سے زائد صحافیوں کی قید اس بحران کی شدت کو ظاہر کرتی ہے۔پاکستان کا 153واں درجہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک ابھی بھی نچلے درجوں میں ہے۔عالمی یومِ صحافت ہمیں یہ سوال کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ آخر سچ کی قیمت کون ادا کر رہا ہے؟ صحافی، جو سچ سامنے لانے کی کوشش کرتے ہیں، یا وہ معاشرہ جو سچ سننے کا دعویٰ کرتا ہے مگر اس کے تحفظ میں ناکام رہتا ہے؟پاکستان میں صحافت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف جدید میڈیا کا پھیلاو¿ ہے، اور دوسری طرف آزادی کی محدودیت۔ یہ ایک ایسا تضاد ہے جو حل طلب ہے۔اگر صحافی محفوظ نہیں ہوں گے تو سچ بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ اور اگر سچ محفوظ نہیں رہے گا تو جمہوریت صرف ایک رسمی ڈھانچہ بن کر رہ جائے گی۔
آخر میں سوال وہی ہے جو ہر سال اس دن گونجتا ہے:کیا ہم واقعی آزاد صحافت چاہتے ہیں، یا صرف آزاد صحافت کا تاثر؟