Wed, September 16, 2026

مودی ،کاظم خان اور ہماری حکومت

 مودی ،کاظم خان اور ہماری حکومت

پاک بھارت کشیدگی کی بازگشت بڑھتے ہوئے اب سرحدوں پر بھی سنائی دینے لگی ہے تو پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے بھی  واضع کر دیا ہے کہ اگر ہم پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو فیصلہ کن یقینی جواب دیں گے، دو دیرینہ دشمن ملک ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑے ہیں، لفظی گولہ باری ہو رہی ہے،دشنام طرازی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ عروج پر ہے، بھارت کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ جب بھی وہ عالمی قوانین کے منافی کوئی اقدام کرتا ہے تو عالمی سطح پر کسی نان ایشو پر واویلا کر کے دنیا کی توجہ اصل ایشو سے ہٹانے کی بھونڈی کوشش کرتا ہے،بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ دنوں پاکستان اور بھارت میں دریائی پانی کی تقسیم کے معاہدے کو تسلیم کرنے سے انکار کیا یہ معاہدہ ورلڈ بینک کی نگرانی میں طے پایا تھا ،تین دریا راوی،ستلج اور بیاس معاہدے کے تحت بھارت کے حصے میں آئے بھارت نے عالمی قوانین کیخلاف اس کا سو فیصد پانی روک لیا،جبکہ عالمی قانون کے مطابق بھارت اتنا پانی ان دریائوں میں چھوڑنے پر مجبور ہے جس سے دریا خشک نہ ہوں اور دریا ئوںکے اطراف آبادیوں کی پانی کی ضرورت پوری ہوتی رہے،اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ عالمی معاہدہ کے برعکس دریائے جہلم اور چناب پر بھی ڈیم بنانا شروع کر دئیے اور ان دریائوں کا پانی بھی استعمال کرنے لگا،اس لاقانیت پر پاکستان کا رد عمل جائز مگر بھارت نے اس مسئلہ سے عالمی توجہ ہٹانے کیلئے پہلگام پر حملے کرا دئیے،حملوں کے چند منٹ بعد ایف آئی آر بھی کاٹ دی گئی اور براہ راست پاکستان کو مورد الزام ٹھہراکر لفظی گولہ باری شروع کر کے جنگ کا ماحول بنا دیا۔
ایسی نازک صورتحال میں ہماری بہادر افواج نہ صرف اپنے ملک اور اس کی سرحدوں کی حفاظت کرنا جانتی ہیں بلکہ دشمن کو جواب دینا بھی انہیں آتا ہے مگر دوسری طرف  ہماری حکومت نے پیکا ایکٹ کے تحت صحافیوں اور اخبارات کیخلاف جنگ کو تیز کر دیا ہے ،یہ موقع قوم کو حقائق سے آگاہ اور مورال بلند کرنے کا ہے ،بھارتی میڈیا جو بھارتی آرمی سے زیادہ جنگ کا ماحول بنائے ہوئے تھا کو کڑا جواب دینے کیلئے ہمارا میڈیا اپنا کردار ادا کر رہا ہے ،عوام بھی بیدار ہیں مگر حکومت میڈیا کے ساتھ کیا کر رہی ہے؟ ایسے حالات میں سی پی این ای کے نو منتخب صدر کاظم خان نے آزادی اظہار کا علم ایک بار پھر بلند کیا ہے۔ دنیا گروپ کے کاظم خان اخبار ی ایڈیٹرز کی تنظیم سی پی این ای کے صدر اورایکسپریس گروپ کے ایاز خان سینئر نائب صدر منتخب ہو گئے ہیں،روزنامہ ڈیلی پاک کے غلام نبی چانڈیوسیکرٹری جنرل اور روزنامہ غریب کے تنویر شوکت کو ارکان نے ڈپٹی سیکرٹری جنرل منتخب کیا ہے،کاظم خان نے  منتخب ہونے کے بعد واضع کیا ہے کہ ،، ملکی سرحدوں کی جی جان سے حفاظت کی جائے گی،خواہش پر مبنی خبروں کے بجائے سچی اور تصدیق شدہ خبروں کو اہمیت دی جائے گی۔
مجھے نوم چومسکی کے 12 سال لکھے گئے الفاظ ذہن میںاْبھرتے ہیں،2013ء میں اپنی کتاب’ ’نیوکلیئر وار اینڈ انوائرمینٹل کیٹسٹروف‘ ‘میں نوم چومسکی نے متنبہ کیا تھا کہ ’’ہماری نسلوں کو بقا کے لئے دو اہم مسائل لاحق ہیں، ایک جوہری تنازع دوسرا ماحولیاتی تباہی‘‘،اس جملے میں شامل جوہری تنازع اور اس کے سنگین خطرے سے تو سب ہی واقف ہیں لیکن بڑے پیمانے پر یہ شعور نہیں کہ ماحولیاتی تباہی کا پہلو کس قدر تشویش ناک ہے،یہ بالخصوص جنوبی ایشیا کے لئے اہم ترین مسئلہ ہے جہاں بڑھتی ہوئی شہرکاری کے مسائل کا سامنا خطے کے دریا کررہے ہیں، بڑے بڑے ڈیمز پانی کے بہاؤ کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں جبکہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے پہاڑوں پر جمی برف تیزی سے پگھل رہی ہے،پاکستان اور بھارت دونوں ہی مشترکہ طور پر سیلاب اور خشک سالی کے چیلنجز کا سامنا کررہے ہیں، ایسے میں اگر دونوں ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم پر بھی تنازع کھڑا ہوگیا تو یہ ایک مہلک بحران کی صورت اختیار کرلے گا۔
    سانحہ پہلگام انتہائی لرزہ خیز تھا لیکن اسے جواز بنا کر طبلِ جنگ نہیں بجایا جاسکتا اور نہ ہی پانی کی تقسیم کو ہتھیار بنا کر یا نفرت پھیلا کر مسائل سے نمٹا جاسکتا ہے ، ردعمل کے طور پر پاکستان نے بھارت کو خبردار کردیا ہے کہ پاکستان کے پانی کا رخ موڑنے کی اگر کوئی بھی کوشش کی گئی تو اسے اعلانِ جنگ سمجھا جائے گا،ابھی کے لیے بھارت کی دھمکی صرف نظریاتی ہے اس پر اتنی لاگت اور وقت صرف ہوگا کہ بھارت کو اپنی دھمکی کو حقیقت کا روپ دینے میں کم از کم دو دہائیوں کا وقت لگے گا،یہ بھی طے ہے کہ بھارت کو کوئی دشمن اتنا نقصان نہیں پہنچا سکتا تھا جتنا مودی نے پہنچایا ہے اور مسلسل پہنچا رہا ہے،پاک بھار ت دو ایٹمی طاقتیں ہیں ان میں جنگ بھی اب روایتی نہیں ہو گی،کسی طرف سے بھی ایٹم بم پھینکا جا سکتا ہے،اس کے باوجود پانی کا مسٔلہ جوں کا توں رہے گا،یہ تو پاک فوج کی پیشہ وارانہ مہارت ہے جس نے بھارت کے سیلاب کو روک رکھا ہے، قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ ہے اور کسی بھی مرحلے میں پیچھے نہیں ہو گی ،کوئی جنگ نہیں جیتی جاسکتی جب تک قوم اس میں شامل نہ ہو اور قوم کو فوج کی پشت پناہی کیلئے تیار کرنا ایک آزاد صحافت کا کام ہے مگر کیا ہماری صحافت آزاد ہے؟

ٹیگز: