Wed, September 16, 2026

اپنی ہی منافقتوں اور حماقتوں کا شکار مسلم اْمہ 

اپنی ہی منافقتوں اور حماقتوں کا شکار مسلم اْمہ 

دْنیا بھر کے وہ تجزیہ نگار آہستہ آہستہ اب غائب ہوتے جا رہے ہیں ، اپنے ہی بیانیے تلے دبتے جا رہے ہیں جو یہ کہتے نہیں تھکتے تھے’’امریکہ اور اسرائیل مل کر ایران کو تباہ کر دیں گے‘‘، مجھے حیرت اس بات پر ہوتی تھی ان میں بہت سے ’’مسلمان‘‘ تجزیہ نگار بھی تھے، یہ یقینا صرف نام کے مسلمان ہیں جو محض زمینی حقائق کو پیش نظر رکھتے ہوئے رائے قائم کرتے ہیں، قدرت کا مگر اپنا ایک نظام ہے، اگر یہ نظام قدرت (اللہ کے نظام) پر ایمان رکھتے ہوتے کسی جنگ سے پہلے ہی امریکہ اور اسرائیل کو فاتح قرار نہ دے رہے ہوتے یہ کسی سے خوفزدہ نہ ہوتے اور خوف کے اس عالم میں ایسے ایسے ہولناک تجزیے نہ کرتے جن سے یہ ثابت ہوتا اْن کے نزدیک امریکہ اور اسرائیل کی طاقت(نعوذ بااللہ) اللہ کی طاقت سے بڑھ کر ہے، اْنہوں نے قرآن کا شاید صرف نام سْن رکھا ہے، وہ قرآن کو شاید کوئی ’’درسی کتاب‘‘ سمجھتے ہیں، کاش اْنہوں نے قرآن کو پڑھا اور سمجھا ہوتا، اس کا ایک ایک لفظ ایمان والوں کی طاقت ہے، یہی وہ طاقت ہے جس کی بنیاد پر ایران تن تنہا دْنیا کی بظاہر سب سے بڑی قوتوں امریکہ اور اسرائیل سے ٹکرا گیا ہے، اْسے ناکوں چنے چبوا دئیے ہیں اور اس مقام پر لا کر کھڑے کر دیا ہے جہاں اْن کی سمجھ میں ہی نہیں آ رہا جو آگ اْنہوں نے جلائی تھی جس میں اب وہ خود جْھلس رہے ہیں اْسے ٹھنڈا کیسے کیا جائے؟ انسان کو سب سے بڑا خوف موت کا ہوتا ہے، ایرانیوں کو سب سے بڑی آرزو اب شہادت کی ہے، ان کے جذبوں سے اب کون ٹکرا سکتا ہے؟ حال ہی میں خود کو دْنیا کا سب سے بڑا مسلمان ثابت کرنے والے کے آخری الفاظ تو ذرا دیکھیے’’اگر میں شہید ہو گیا تو خوش ہونا کیونکہ میں جْھکا نہیں ہوں، ہم لڑ کر شہید ہو رہے ہیں، ہمیں یہودیوں اور امریکیوں کے سامنے نہ جْھکنا ہے نہ ہی کسی سے مدد مانگنی ہے، ہمارے لئے صرف اللہ ہی سب سے بڑا مددگار و معاون ہے، میں آخرت میں سْرخرو ہو کر جاؤں گا تاکہ میں جواب دے سکوں کہ میں اسلام کے لئے لڑا تھا، میں نے اپنی جد کی لاج رکھی، میں کسی طاقت کے سامنے نہیں جْھکا‘‘، ٹرمپ کے لئے عالمی امن ایوارڈ کی خواہش رکھنے والے حکمرانوں کوئی ایک جْملہ ایرانی سپریم لیڈر کے ان عالیشان الفاظ پر بھی کہہ دیا ہوتا، امریکہ و اسرائیل پسند تجزیہ نگاروں کا خیال بلکہ اْنہیں یقین تھا دْنیا کے سب سے عظیم مسلمان آیت اللہ خامنائی کی شہادت کے بعد ایران لاوارث ہو جائے گا، اْس کے حوصلے پست ہو جائیں گے، وہ کمزور پڑ جائے گا، اْس کے عوام انتشار کا شکار ہو جائیں گے، یہ معاشی طور پر تباہ ہو جائے گا، اور چند ہی گھنٹوں بعد یہ امریکہ اور اسرائیل سے جنگ بندی کی بھیک مانگنے لگے گا، ایسا کچھ نہیں ہوا نہ ہوگا، اب کئی دن گزر گئے، ایران نے ثابت کر دیا اللہ کی مدد و معاونت ساتھ ہو مسلم اْمہ بلکہ نام نہاد مسلم اْمہ کا کوئی ایک مْلک بھی اْس کا ساتھ نہ دے اْن یہودیوں اور کافروں کے لئے وہ اکیلا ہی کافی ہے جن کا ایجنڈہ ہی دْنیا سے دین اسلام کا صفایا کرنا ہے، اس ایجنڈے میں نام نہاد مسلم اْمہ کے کئی مْلک اْن کے مددگار بنے ہوئے ہیں مگر ظاہر ہے ان کی مدد اللہ کی مدد اور طاقت پر غالب نہیں آ سکتی، ارشاد باری تعالیٰ ہے،’’کیا تم نے نہیں دیکھا تمہارے پروردگار نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟ کیا اْس نے اْن کے داؤ غلط نہیں کئے؟ اور اْس نے اْن پر جْھنڈ کے جْھنڈ پرندے چھوڑ دئیے جو اْن پر کنکریاں برساتے تھے اور اْن کو اْس نے ایسا کر دیا جیسے کھایا ہوا بْھس‘‘، پھر نام نہاد مسلم اْمہ کے لئے فرمایا’’مومنو تمہیں کیا ہوا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے اللہ کی راہ میں جہاد پر نکلو تو تم زمین سے چپکے جاتے ہو یعنی گھروں سے نکلنا نہیں چاہتے، کیا تم آخرت کی نعمتوں کو چھوڑ کر دْنیا کی زندگی پر خوش ہو بیٹھے ہو؟ دْنیا کی زندگی کے فائدے تو آخرت کی زندگی کے مقابلے میں بہت ہی کم ہیں، اگر تم نہ نکلو گے تو اللہ تمہیں بڑی تکلیف کا عذاب دے گا اور تمہاری جگہ اور لوگ پیدا کر دے گا، بیشک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے‘‘، افسوس کہ یہ ’’مومن‘‘ یعنی نام نہاد مسلم اْمہ اللہ کی راہ میں نہیں نکلی، یہ دْنیاوی فائدوں میں پڑے ہیں اور اب اللہ کی طرف سے بڑی تکلیف کے عذاب میں کچھ اس طرح مبتلا ہیں کہ ان کا سب سے بڑا ہوائی اڈہ بند ہوگیا ہے، ان کے ائرپورٹس ایرانی بیلسٹنگ میزائلوں کے خوف سے تاریکی میں ڈوبے ہوئے ہیں، فضائی پروازوں کی دْنیا نے اس منظر کا کبھی تصور بھی نہیں کیا ہو گا، پیٹرول کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کرنے لگی ہیں، فضائی کمپنیاں خوفناک گھبراہٹ کا شکار ہیں، اْنہیں نہ صرف فضائی سفر کی بندش میں طوالت کے بحران کا سامنا ہے بلکہ اْس آبنائے ہرمز کی بندش کا خدشہ بھی ہے جہاں سے روزانہ دو کروڑ دس لاکھ بیرل تیل صنعتی ممالک کو پہنچتا ہے، ان کی معیشت کا تمام تر انحصار فضائی رابطوں پر ہے، اس وقت ان کی معیشت اور سیاحت کو نہ سنبھلنے والا دھچکا لگا ہے، امارات کی معیشت کا تمام تر انحصار اس بات پر تھا کہ یہ دْنیا کا محفوظ ترین ملک ہے، اب یہاں خوف اور تاریکی کا راج ہے، ایرانی حملے صرف امریکی اڈوں پر نہیں ہوئے مسلم اْمہ کے کئی ممالک کی معیشت کو بھی لے ڈوبے ہیں، مسلم اْمہ پر اْس کی اپنی ہی غلطیوں سے لگنے والے زخم شاید ہی اب کبھی بھر سکیں گے ، یہ آخرت کی نعمتوں کو بْھلا کر دْنیا کی عارضی نعمتوں پر خوش ہو کر بیٹھے تھے، یہ اس یقین میں مْبتلا ہو گئے تھے دْنیا کی زندگی کے فائدے آخرت کی زندگی کے مقابلے میں بہت زیادہ اور ہمیشہ قائم رہنے والے ہیں، اب وہ اللہ کی طرف سے تکلیف کے ایک بڑے عذاب میں مبتلا ہیں اور یہ سمجھ ہی نہیں پا رہے اس عذاب سے باہر کیسے نکلیں؟ اسرائیل اور امریکہ مسلم اْمہ کو آپس میں لڑانے کے غلیظ ایجنڈے پر گامزن ہے، وہ سمجھتے ہیں اپنے اس ایجنڈے میں کامیابی کے بعد وہ ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جائیں گے، پھر موت اْنہیں چھو بھی نہیں سکتی، ایران پر حملہ آور ہونے کے بعد اْن کی ساری غلط فہمیاں دْور ہو گئی ہیں، ان کے لئے فرمایا گیا ’’تم پر آگ کے شعلے صاف اور دھواں ملے چھوڑ دئیے جائیں گے اور تم اْن کا مقابلہ نہ کر سکو گے‘‘، بڑے بڑے فرعون اور نمرود غرق ہوگئے, یہ ان کے آگے کیا ہیں؟ اللہ بس اپنے نیک لوگوں کو آزماتا ہے اگر وہ ثابت قدم رہیں جیسے کہ ایرانی قوم ہے پھر اْن کی مدد کے ایسے ایسے اسباب پیدا کرتا ہے اْن کے دْشمنوں کے سارے ارادے خاک میں مل جاتے ہیں۔

ٹیگز: