Wed, September 16, 2026

 ٹریڈ آرگنائزیشن رولز 2013 میں ترمیم کی ضرورت کیوں؟

 ٹریڈ آرگنائزیشن رولز 2013 میں ترمیم کی ضرورت کیوں؟

قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم(پاکستان) کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستارکی جانب سے ٹریڈ آرگنائزیشن رولز (ٹی او آر) 2013 میں ترمیم کے لیے پیش کیے گئے بل پرجہاں ابتدائی طور پرویمن چیمبرز، چھوٹے تاجروں اور ڈسٹرکٹ چیمبرز نے  شدید تشویش کا اظہار کیا،وہیں ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر آصف سخی،ویمن چیمبر کورنگی کی رہنما صاحبزادی ماہین خان ، ڈسٹرکٹ چیمبرز کے قیام کی جدوجہد میں پیش پیش شرجیل گوپلانی اور دیگر خواتین رہنمائوں نازلی عابد نثار،فریدہ قریشی اوردیگر کو اس بل کی مخالفت میں فیڈریشن ہائوس میں پریس کانفرنس کرنے سے روک دیا ۔ تاہم بعد ازاں ایف پی سی سی آئی میں برسراقتدار یو نائٹیڈ بزنس گروپ کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم تنویر نے قومی اسمبلی میں ٹریڈ آرگنائزیشن رولز 2013 میں ترمیم سے متعلق پیش کیے گئے بل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ قانون میں کسی بھی قسم کی تبدیلی ملک بھر میں متعدد نمائندہ تنظیموں کی بندش کا سبب بن سکتی ہے۔ایس ایم تنویر کے اس بیان کے بعد تو جیسے ملک بھر میں بزنس کمیونٹی خواب غفلت سے جاگ اٹھی اور ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ،سینئرنائب صدر ثاقب فیاض مگوں،اسلام آباد ویمن چیمبر کی سرپرست اعلیٰ ثمینہ فاضل اور کئی دیگر اہم رہنمائوں نے بھی اس بل کی مخالفت میں بیانات داغ دیئے۔صدرپاکستان بزنس فورم(سندھ ریجن)ایف پی سی سی آئی کی انرجی سٹینڈنگ کمیٹی کے کنوینرملک  خدابخش نے بھی یہی کہا کہ ٹی او آرز 2013 میں تر میم نمائندہ تنظیموں کی بندش کا سبب ہوگی۔البتہ کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی قیادت زبیرموتی والا،جاوید بلوانی جنہیں ڈسٹرکٹ چیمبرز کے قیام پر اعتراض تھا وہ ڈاکٹر فاروق ستار کے پیش کردہ بل پر خوش تھے کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ اگر ڈسٹرکٹ چیمبر بن گئے تو ان کی بالادستی ختم ہوجائے گی۔سوال یہ ہے کہ ڈاکٹر فاروق ستار کو ٹریڈ آرگنائزیشن رولز (ٹی او آر) 2013 میں ترمیم کے لیے بل پیش کرنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی جبکہ ٹریڈ آرگنائزیشن رولز (ٹی او آر) 2013 کا بل بھی ڈاکٹر فاروق ستار نے ہی پیش کیا تھا اور اسے پالیمنٹ سے منظوری حاصل ہوگئی تھی،تو پھر ڈاکٹر صاحب کو اس میں کیوں خامیاں دکھائی دیں۔مجھے یاد ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کا منشور رہا ہے کہ یہ جماعت اختیارات کی منتقلی کو نچلی سطح تک چاہتی تھی اور اسی لئے سٹی حکومت کے قیام کیلئے بھی ایم کیو ایم کی کوششیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔تو سوال یہ ہے کہ ڈاکٹر فاروق ستار نے ویمن چیمبرز، چھوٹے تاجروں اور ڈسٹرکٹ چیمبرز کے قیام کی مخالفت کیوں کی ہے اور اپنے ہی منظور کرائے گئے ٹریڈ آرگنائزیشن رولز (ٹی او آر) 2013 بل میں ترمیم کیلئے ایک اور بل کیوں پالیمنٹ میں پیش کیا۔ ایف پی سی سی آئی کے نائب صدراور بزنس مین الائنس کے چیئرمین آصف سخی نے، ویمن چیمبر (فیڈریشن) کی صاحبزادی ماہین خان، آل سٹی تاجر اتحاد ایسوسی ایشن کے سربراہ شرجیل گوپلانی کا کہنا تھا کہ اگر یہ ترمیمی بل منظور ہواتو ملک بھر کے تقریباً 130 ڈسٹرکٹ چیمبرز بند ہو جائیں گے اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار کو شدید دھچکا پہنچے گا اورڈسٹرکٹ چیمبرز کے خلاف بل پیش کرکے سٹی چیمبر کے حق میں بات کرناملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔انکا یہ بھی کہنا تھا کہ مجوزہ قانون سازی ڈسٹرکٹ سطح کے چیمبرز کو ختم کر کے صرف سٹی وائز چیمبرز کی رجسٹریشن تک محدود کر دے گی، جسے انہوں نے معاشی طور پر تباہ کن قرار دیااورکہا کہ ڈسٹرکٹ چیمبرز کے خلاف بل پیش کرنا ملکی معیشت  اور ملک کی 52فیصد خواتین کے مفاد کے خلاف ہے، صرف کراچی چیمبر آف کامرس شہر کی پوری کاروباری برادری کے مسائل حل نہیں کر سکتا۔صاحبزادی ماہین خان نے خبردار کیا کہ مجوزہ ترمیم سے ملک بھر میں قائم تقریباً 30 ویمن چیمبرز بھی ختم ہو جائیں گے، جبکہ اس ادارہ جاتی ڈھانچے کو قائم کرنے میں برسوں کی محنت شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاتون اول پاکستان،ممبر قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری ویمن چیمبرز کی فعال حمایت کر رہی ہیں، جبکہ ہم نے صدر پاکستان آصف علی زرداری کو اس ضمن میں خط بھی تحریر کیا ہے اور صدر پاکستان آصف علی زرداری بھی ان کے حق میں بات کر چکے ہیں اور یقین دہانی کرا چکے ہیں کہ ویمن چیمبرز کو ختم نہیں کیا جائے گا ۔ شرجیل گوپلانی نے سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ کراچی چیمبر آف کامرس’’ڈسٹرکٹ اکانومی فارمولہ‘‘سے خوفزدہ ہے اور اس کی سیاست ایف پی سی سی آئی اور تاجر تنظیموں دونوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ ایف پی سی سی آئی میں برسراقتدار یو نائٹیڈ بزنس گروپ کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم تنویر نے بھی قومی اسمبلی میں ٹریڈ آرگنائزیشن رولز 2013 میں ترمیم سے متعلق پیش کیے گئے بل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ قانون میں کسی بھی قسم کی تبدیلی ملک بھر میں متعدد نمائندہ تنظیموں کی بندش کا سبب بن سکتی ہے۔ کاروباری ماحول پہلے ہی داخلی و خارجی تجارتی دباؤ، بلند لاگت پیداواری، درآمدی رکاوٹوں اور پالیسی غیر یقینی کا شکار ہے، ایسے وقت میں تجارتی تنظیموں کے دائرہ کار کو محدود کرنے کی کوشش کاروباری اعتماد کو مزید کمزور کر سکتی ہے۔ اسی طرح ٹریڈ آرگنائزیشن رولز میں ترمیم،مجوزہ قانون سازی پر صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ  اور سینئرنائب صدرثاقب فیاض مگوں نے بھی ٹریڈ آرگنائزیشن رولز 2013ترمیمی بل کو ملک بھر کی تاجر برادری میںخوف پیداکرنے کا مترادف قرار دیا، بزنس کمیونٹی کو ٹریڈ آرگنائزیشن رولز2013ترمیمی بل پر شدید تحفظات ہیں۔عاطف اکرام نے کہا کہ اندرونی و بیرونی تجارتی رکاوٹوں اور دباو کی وجہ سے کاروباری ماحول پہلے ہی متزلزل ہے، اپنی آواز اٹھانے کیلئے چیمبرز آف کامرس کاروباری برادری کی آخری پناہ گاہ ہیں، مجوزہ قانون سازی ضلعی سطح کے چیمبرز، ادارہ جاتی ڈھانچے کو ختم، ضلعی معیشتوں کو تباہ کردیگی، ضلعی چیمبرز مقامی معیشتوں کی تشکیل اور ملکی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔عاطف اکرام شیخ  نے مزید کہا کہ تجارتی اداروں کی ایسی کوئی بھی قید دیہی برآمدات پر مبنی کاروبار کو نمائندگی سے خارج کر سکتی ہے، ٹریڈ آرگنائزیشن رولز2013میں ترمیم سے بزنس کمیونٹی کی حوصلہ شکنی اور مایوسی ہوگی،ترمیم سے خواتین اور ایس ایم ایز کی نمائندگی کرنے والے تجارتی اداروں پر شدید اثرات پڑیں گے، پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے اس بل کو مسترد، ضلعی چیمبرز کو کام جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ فیڈریشن چیمبرز ۔ویمن چیمبرز،اسمال چیمبرز اور دیگر چیمبرز ترمیمی بل کی مخالفت میں ہیں مگر کراچی چیمبر آف کامرس بل کی حمایت کرتے ہوئے’’ایک شہر ایک چیمبر‘‘ اصول کی حمایت کردی۔کے سی سی آئی میں برسراقتدار بزنس مین گروپ کے چیئرمین زبیرموتی والاجو کئی سرکاری منصب کی سربراہی کرچکے ہیں،درپردہ ڈاکٹر فاروق ستار کے پیش کردہ ٹریڈ آرگنائزیشن رولز (ٹی او آر) 2013 بل کی حمایت کررہے ہیں،کراچی چیمبر کے صدر ریحان حنیف نے اپنا ایک بیان بھی جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ اس ترمیمی بل کی مخالفت  وہ عناصر کر رہے ہیں جو کراچی کی تاجر برادری کی یکجہتی کو نہیں دیکھنا چاہتے اورٹریڈ آرگنائزیشنز رولز 2013 میں مجوزہ ترمیم کا مقصد کراچی کی یکساں نمائندگی یقینی بنانا ہے، ملک کے سب سے بڑے تجارتی مرکز میں نمائندگی کی تقسیم ادارہ جاتی جمہوریت کو مضبوط نہیں کرے گی بلکہ اجتماعی اثر کو کمزور اور غیر ضروری ابہام پیدا کرے گی۔ ان تمام بیانات اور گفتگو سے یہ ظاہر ہورہا ہے کہ مختلف تجارتی تنظیمیں  ڈاکٹر فاروق ستار کے پیش کردی ترمیمی بل پر سیاست چمکا رہی ہیں لیکن اس حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ ویمن چیمبرز اور ڈسٹرکٹ چیمبرز کے قیام سے تاجراپنے اپنے علاقے میں ہی اپنے مسائل اٹھا سکیں گے،ایک کراچی چیمبر آف کامرس پورے شہر کی 3کروڑ سے زائد آباد کے20فیصد تاجروں کے مسائل حل نہیں کرسکتا، 2013میں ڈاکٹر فاروق ستار نے ٹریڈ آرگنائزیشنز رولزکا بل پیش کرکے درست قدم اٹھایا تھا ،اب خواتین تاجران،چھوٹے تاجر اور ڈسٹرکٹ چیمبر کے قیام کی جدوجہد کرنے والے ہزاروں افرادیہ سوچ رہے ہیں کہ آخر ڈاکٹر فاروق ستار نے ترمیمی بل کس کوخوش کرنے کیلئے پارلیمنٹ میں پیش کیا۔متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت اور بذات خود ڈاکٹر فاروق ستار تمام پہلوئوں کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں اور یقیناویمن چیمبرز اور ڈسٹرکٹ چیمبرز کے قائدین جو ایم کیو ایم کے ووٹرز بھی ہیں،ایم کیو ایم کی قیادت ترمیمی بل کو منظور کراکے انہیں اپنا مخالف نہیں بنائے گی۔اس لئے اس ترمیمی بل کو منظور کرانے سے پہلے  یہ دیکھ لیا جائے کہ موجودہ فریم ورک میں کسی بھی اچانک اور غیر متوازن تبدیلی کے نتیجے میں ملک بھر کی متعدد نمائندہ تجارتی تنظیمیں بندش کے خطرے سے دوچار ہو سکتی ہیں۔

ٹیگز: