Wed, September 16, 2026

اخلاقیات کے جنازے پر ٹرمپ کا ایک اور قہقہہ

اخلاقیات کے جنازے پر ٹرمپ کا ایک اور قہقہہ

دنیا کی سیاست نے جہاں بڑے بڑے تماشے دیکھے ہیں، وہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی "منفرد" اور اچھوتی منطق نے ایک الگ ہی اودھم مچا رکھا ہے۔ لیکن حال ہی میں واشنگٹن سے آنے والے ایک مضحکہ خیز بیان نے بین الاقوامی تعلقات اور سفارت کاری کی تاریخ میں ڈھٹائی کا ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں ایران کے موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی شدید خواہش کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ”اگر حالات سازگار رہے تو وہ مجتبیٰ خامنہ ای سے ملنا پسند کریں گے، کیونکہ وہ مذاکراتی عمل میں مکمل شامل ہیں“۔ ٹرمپ صاحب کا ماننا ہے کہ اگر ایران کا تنازع ختم ہو جائے تو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہو سکتی ہیں۔سرسری طور پر دیکھا جائے تو یہ کسی تاجر نما صدر کا ایک عام سا ”کاروباری بیان“ لگتا ہے جو مشرقِ وسطی میں امن قائم کر کے پٹرول سستا کرنا چاہتا ہے۔ لیکن جیسے ہی آپ اس بیان کے پیچھے چھپی خوفناک اور خونی حقیقت پر نظر ڈالتے ہیں، تو ٹرمپ کی یہ خواہش ایک بھیانک مذاق، شدید مضحکہ خیزی اور عالمی تاریخ کی بدترین ڈھٹائی کا شاہکار نظر آتی ہے۔ یہ ایک ایسی خواہش ہے جس پر ہنسا جائے یا ماتم کیا جائے، عالمی دانشور اب تک اس کا فیصلہ نہیں کر پائے۔
حقیقت یہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای محض ایران کے کوئی عام سیاسی لیڈر یا نو منتخب صدر نہیں ہیں، بلکہ وہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے سگے بیٹے ہیں اور آیت اللہ علی خامنہ ای کون تھے؟ وہ بزرگ رہنما جنہیں ابھی چند ماہ قبل، 28 فروری 2026 کو، خود صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منظوری سے کیے گئے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں شہید کیا گیا تھا۔ یعنی ڈونلڈ ٹرمپ اس شخص کے سگے باپ کے باقاعدہ، اعلانیہ اور اعترافی قاتل ہیں۔ اب ایسے میں ایک قاتل کا مقتول کے بیٹے سے یہ کہنا کہ ”آ چائے پر بیٹھتے ہیں اور امن کی باتیں کرتے ہیں“، سفارتی تاریخ کا سب سے بڑا تماشا نہیں تو اور کیا ہے؟
مشرقی معاشرت تو دور کی بات، دنیا کے کسی بھی کونے، کسی بھی تہذیب اور کسی بھی قانون میں یہ ناممکن ہے کہ ایک بیٹا اپنے باپ کے قاتل کے ماتھے پر لگی اپنے ہی باپ کے خون کی سرخی کو نظر انداز کر کے اس سے مصافحہ کرنے بیٹھ جائے۔ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پہلے ہی خطاب میں واضح کر دیا تھا کہ وہ اپنے والد اور ایرانی شہدا کے خون کا بدلہ لینے کیلئے پرعزم ہیں اور امریکی و اسرائیلی جارحیت کے خلاف پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ تہران کی پارلیمنٹ سے لے کر گلی کوچوں تک ”آنکھ کے بدلے سر“ لینے کے نعرے گونج رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں واشنگٹن کے وائٹ ہاس میں بیٹھا ہوا ایک شخص، جس کے ہاتھ اس خاندان کے سربراہ کے خون سے رنگے ہیں، انتہائی معصومیت اور بے شرمی کے امتزاج کے ساتھ کہتا ہے کہ ”حالات سازگار رہے تو ملنا پسند کروں گا“۔ یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ ٹرمپ یا تو انسانی جذبات، خاندانی رشتوں اور غیرت کے تصور سے بالکل عاری ہیں، یا پھر وہ دنیا کو ایک ایسی ہالی ووڈ فلم سمجھ رہے ہیں جہاں ولن اور ہیرو کلائمکس کے بعد ایک ہی ٹیبل پر بیٹھ کر کافی پیتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی اس ڈھٹائی کو اگر نفسیاتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ ان کی اس پرانی عادت کا حصہ ہے جسے ”ڈیل میکنگ“ کہا جاتا ہے۔ ٹرمپ ہر تنازع کو ایک کاروباری خسارے یا منافع کی عینک سے دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک کسی ملک کے سپریم لیڈر کا قتل اور ایک خاندان کی تباہی شاید ایک ایسی ”سخت کاروباری ڈیل“ تھی جو اب مکمل ہو چکی ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ اگلی ڈیل یعنی تیل کی قیمتوں کو کم کرنے پر بات کی جائے۔ لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ، خصوصاً ایران کی نظریاتی قیادت، کارپوریٹ کمپنیوں کی طرح نفع اور نقصان پر فیصلے نہیں کرتی۔ وہاں فیصلے خاندانی وقار، قومی غیرت اور نظریاتی بقا پر ہوتے ہیں۔
دوسرا رخ صدر ٹرمپ کا وہ اعتراف ہے جس میں انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے سخت گفتگو کرنے کا اقرار کیا ہے۔ یہ اعتراف بھی دراصل ان کی اسی مضحکہ خیز سفارت کاری کا حصہ ہے، جس کے ذریعے وہ دنیا کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں جو کچھ بھی خون خرابہ ہوا، اس میں وہ اکیلے ذمہ دار نہیں تھے، بلکہ نیتن یاہو نے حدیں پار کیں، لیکن دنیا جانتی ہے کہ فروری 2026 میں ایران پر ہونے والے حملوں کی کمانڈ اور منظوری وائٹ ہاو¿س کے بغیر ممکن ہی نہیں تھی۔ نیتن یاہو سے سخت گفتگو کا یہ اعتراف مقتول کے بیٹے کے سامنے ایک کمزور پینترا بدلنے کی کوشش ہے، تاکہ مجتبیٰ خامنہ ای کے غصے کو تھوڑا کم کیا جا سکے۔ مگر ٹرمپ کی یہ چال اتنی ہی بچکانہ ہے جتنا کہ ان کا ملاقات کا مطالبہ۔
مجتبیٰ خامنہ ای اس وقت ایک انتہائی کٹھن صورتحال سے گزر رہے ہیں۔ وہ اپنے والد کی موت کے بعد نہ صرف ایک سوگوار بیٹے ہیں بلکہ ایک ایسی جنگ زدہ قوم کے سپریم لیڈر بھی ہیں جو امریکہ اور اسرائیل کے خلاف صف آرا ہے۔ ان کے لیے ٹرمپ کا یہ بیان کسی زخم پر نمک چھڑکنے سے کم نہیں ہو گا۔ ایک طرف واشنگٹن اور تہران کے درمیان سیز فائر کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگائے جا رہے ہیں، دوسری طرف امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو امریکی سینیٹ میں کھڑے ہو کر مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت اور ان کی سرگرمیوں پر رپورٹیں پیش کر رہے ہیں، اور ان سب کے بیچ صدر ٹرمپ ”پوڈ فورس ون“ جیسے پوڈ کاسٹ پر بیٹھ کر ہلکے پھلکے انداز میں کہتے ہیں کہ ”میں نے ابھی تک ان سے ملاقات کا شرف حاصل نہیں کیا، لیکن ہم کسی نہ کسی موڑ پر ضرور ملیں گے“۔ یہ سفارت کاری نہیں، بلکہ عالمی سطح پر کی جانے والی غنڈہ گردی اور مسخرہ پن ہے۔
اگر ڈونلڈ ٹرمپ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ حالات سازگار ہونے پر ایک بیٹا اپنے باپ کے قاتل سے مصافحہ کر لے گا، تو انہیں تاریخ کا مطالعہ دوبارہ کرنا چاہیے۔ ایران کے ساتھ امن مذاکرات کی سست روی کی اصل وجہ یہی ہے کہ واشنگٹن تہران کے نفسیاتی اور جذباتی زخموں کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ جب تک ٹرمپ اپنے اس کاروباری تکبر اور سفارتی ڈھٹائی سے باہر نہیں نکلتے، مشرقِ وسطیٰ کا یہ تنازع کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔ مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی یہ خواہش صرف مضحکہ خیز ہی نہیں، بلکہ بین الاقوامی اخلاقیات کے جنازے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک اور قہقہہ ہے۔

ٹیگز: