Wed, September 16, 2026

یوم یکجہتیء کشمیر: عہد وفا کا دن 

 یوم یکجہتیء کشمیر: عہد وفا کا دن 

5 فروری ایک اور دن، ایک اور یاد، اور ایک اور عہد مگر یہ دن صرف کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں، یہ دن انسانیت کے ضمیر پر دستک دینے والا لمحہ ہے۔ یہ وہ دن ہے جب دنیا کے شور و غوغا میں کشمیریوں کی سسکیاں، ان کی قربانیاں، اور ان کے خون سے لکھی گئی کہانیاں ہمیں جھنجھوڑتی ہیں۔کشمیر، وہ وادی جسے قدرت نے حسن کی انتہا پر تراشا، مگر انسانوں نے ظلم کی انتہا پر آزمایا۔ وہاں کے باسیوں نے دہائیوں سے جو زنجیریں پہنی ہیں، وہ صرف سیاسی قید نہیں، بلکہ احساس کی قید بھی ہیں۔ وہ آزادی کے خواب دیکھتے ہیں مگر ہر صبح آنکھ کھولنے سے پہلے خوف کے سائے ان کے دروازے پر دستک دیتے ہیں۔کشمیر محض ایک خطہ زمین کا نام نہیں، یہ ایک احساس ہے، ایک درد ہے، ایک ایسا زخم ہے جو ہر محبِ وطن پاکستانی کے دل پر نقش ہے۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا، اور تاریخ نے بارہا ثابت کیا کہ یہ بات محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے۔ جس طرح شہ رگ کے بغیر جسم کا وجود ممکن نہیں، اسی طرح کشمیر کے بغیر پاکستان کی تکمیل ادھوری ہے۔
78 برس گزر جانے کے باوجود، بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر (IIOJK) میں ظلم و جبر کا سلسلہ ختم نہیں ہوا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور کشمیر میڈیا سروس (KMS) کے مطابق 1989 سے اب تک 95,000 سے زائد کشمیری شہید کیے جا چکے ہیں، جن میں 7,000 سے زیادہ افراد حراست میں قتل ہوئے۔اگست 2019 میں جب بھارت نے آئین کی دفعات 370 اور 35A منسوخ کر کے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی، تو ظلم کی ایک نئی لہر شروع ہوئی۔ پچھلے چھ برسوں میں ایک ہزار سے زائد نہتے شہریوں کو شہید کیا گیا، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ صرف 2023 میں 120 کشمیری اور 2022 میں 214 شہید ہوئے، جن میں سے 57 کو جعلی مقابلوں میں قتل کیا گیا۔دنیا کی بڑی طاقتیں انسانی حقوق کے گیت گاتی ہیں، مگر جب کشمیر کی وادیوں سے ظلم کی چیخیں اٹھتی ہیں تو سب کے کانوں پر سیاسی مفادات کی روئی ٹھونس دی جاتی ہے۔ عالمی ضمیر کی یہ خاموشی شاید تاریخ کا سب سے بڑا جرم ہے۔کشمیر کا مسئلہ محض ایک سرحدی تنازع نہیں، یہ ایک قوم کے وجود، اس کی شناخت، اس کے حقِ خود ارادیت کی جنگ ہے۔ ایک ایسی جنگ جو بندوقوں سے زیادہ صبر، قربانی اور استقامت سے لڑی جا رہی ہے۔ کشمیری عوام نے ثابت کر دیا کہ ظلم چاہے جتنا بھی طاقتور ہو، سچ کی روشنی کبھی مدھم نہیں پڑتی۔
ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، میڈیا پر پابندیاں، اور روزمرہ کی تذلیل، یہ سب اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ کشمیر آج بھی محاصرے میں ہے۔ کشمیریوں کے نزدیک 1947 کا قتلِ عام اور آج کا فوجی جبر ایک ہی کہانی کے دو ابواب ہیں، قبضے، انار اور شناخت کے مٹانے کی کہانی۔دنیا کی بے حسی اس زخم کو مزید گہرا کرتی جا رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادیں آج بھی محض کاغذوں تک محدود ہیں۔ بھارت کی 2019 کی یکطرفہ کارروائیوں کو عالمی سطح پر تنقید کا سامنا تو ہوا، مگر کوئی عملی قدم نہ اٹھایا گیا۔ غیر مقامیوں کو زمینوں کی خریداری کی اجازت دینا دراصل کشمیر کی مسلم اکثریت کو مستقل اقلیت میں بدلنے کی ایک اور کوشش ہے۔
حقِ خود ارادیت وہ بنیادی حق ہے جس کی ضمانت اقوامِ متحدہ کی قراردادیں دیتی ہیں، مگر افسوس کہ یہ حق آج بھی لاوارث ہے۔ کشمیریوں نے اس حق کے لیے خون کی ندیاں بہا دیں، ہزاروں جانوں کی قربانیاں دیں، ماؤں نے اپنے لختِ جگر دفنائے، بہنوں نے سہاگ اجڑتے دیکھے، مگر عالمی ضمیر پھر بھی نہ جاگا۔ بھارت کی غاصبانہ پالیسیوں اور طاقت کے نشے نے پورے خطے کو عدم استحکام کی آگ میں جھونک رکھا ہے۔پاکستانی قوم کے دل آج بھی کشمیر کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ یومِ یکجہتی کشمیر اس عہد کی یاد دہانی ہے جب پوری قوم نے یک زبان ہو کر نعرہ بلند کیا تھا’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ محض کشمیریوں کا نہیں، بلکہ ہر پاکستانی کا مسئلہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر کی عورت کو ہر پاکستانی آج بھی تقدس کی نگاہ سے دیکھتا ہے، جبکہ بھارتی درندگی شرم و حیا سے ناآشنا نظر آتی ہے۔5 فروری کا دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہم اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔ یہ دن محض تقاریر، بینرز اور ریلیوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہمیں عملی طور پر دنیا کے سامنے کشمیر کا مقدمہ پوری قوت سے پیش کرنا ہوگا۔ سفارتی محاذ، میڈیا، سوشل پلیٹ فارمز اور بین الاقوامی فورمزہر جگہ ہمیں کشمیریوں کی آواز بننا ہوگا۔

ٹیگز: