Wed, September 16, 2026

بی ایل اے کی ناکامی، بھارت، اسرائیل گٹھ جوڑ

بی ایل اے کی ناکامی، بھارت، اسرائیل گٹھ جوڑ

بلوچستان میں حالیہ بی ایل اے کے حملے اگر کسی بات کو پوری شدت سے عیاں کرتے ہیں تو وہ یہ ہے کہ میدان میں ناکامی کے بعد دشمن قوتیں بیانیے کے محاذ پر کس قدر بے باک، بے رحم اور عریاں ہو چکی ہیں۔ یہ حملے عسکری اعتبار سے نہ صرف ناکام رہے بلکہ سکیورٹی فورسز کے بروقت اور فیصلہ کن ردِعمل نے بی ایل اے کی اصل حیثیت بھی بے نقاب کر دی۔ مگر اصل تماشا اس کے بعد شروع ہوا، جب بھارت، اسرائیل سے منسلک بیانیاتی حلقوں اور بی ایل اے کے میڈیا سیلز نے مل کر ایک مصنوعی طوفان کھڑا کرنے کی کوشش کی، جس کا مقصد زمین پر شکست کو سکرین پر فتح میں بدلنا تھا۔
بھارت کا کردار اب کسی پردے میں نہیں رہا۔ یہ وہی بھارت ہے جو ایک طرف خود کو خطے کا ’’ذمہ دار‘‘ کھلاڑی ظاہر کرتا ہے اور دوسری طرف پاکستان کے اندر دہشت گردی کو ایک سٹرٹیجک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے سے باز نہیں آتا۔ بلوچستان میں بی ایل اے کی پشت پناہی، اس کے بیانیے کو انڈین میڈیا میں غیر معمولی کوریج دینا، اور ہر واقعے کو پاکستان کی ‘‘ریاستی ناکامی’’ کے طور پر پیش کرنا ایک منظم پالیسی کا حصہ ہے، نہ کہ صحافتی اتفاق۔
بی ایل اے اس کھیل میں محض ایک مہرہ ہے، مگر ایک ایسا مہرہ جو اب خود بھی اپنی دہشت گرد شناخت چھپانے میں ناکام ہو چکا ہے۔ عام شہریوں کو نشانہ بنانا، ترقیاتی منصوبوں پر حملے کرنا، اور پھر خود کو ’’مظلوم قوم پرست‘‘ کہلوانا، یہ تضاد اب دنیا کے سامنے بے نقاب ہو رہا ہے۔ بلوچستان کے نام پر جو خون بہایا جا رہا ہے، اس کا بلوچ عوام کی فلاح سے 
کوئی تعلق نہیں۔ یہ ایک کرائے کی جنگ ہے، جس کی قیمت عام بلوچ ادا کر رہا ہے اور فائدہ نئی دہلی اور اس کے اتحادی بیانیاتی مراکز سمیٹ رہے ہیں۔
اسی تناظر میں اسرائیلی مؤرخ ڈاکٹر ہائم بریشیتھ-زابنر کا یہ بیان غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ اسرائیل پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے بلوچ ملیشیاؤں کی حمایت کر رہا ہے۔ یہ بات ایک ایسے اسرائیلی دانشور نے کہی ہے جو خود اسرائیلی ریاستی پالیسیوں پر تنقید کے لیے جانا جاتا ہے۔ اس بیان کو محض ’’سازش‘‘ کہہ کر رد کرنا فکری بددیانتی ہوگی۔ سوال یہ نہیں کہ ہر گولی اسرائیل نے چلائی یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیل سے منسلک فکری و ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے اس بیانیے کو تقویت دی؟ اس کا جواب شواہد کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔
اسرائیلی لنکڈ پلیٹ فارمز اور ان سے جڑے نیٹ ورکس نے بلوچ علیحدگی پسندوں کے بیانیے کو مسلسل amplify کیا، انہیں آزادی کے رومانوی استعاروں میں لپیٹا، اور یوں ایک ایسا انفارمیشن ماحول بنایا جس میں بلوچستان میں سرگرم کالعدم تنظیموں کے تشدد کو بالواسطہ جواز فراہم کیا گیا۔ جب دہشت گردی کو ‘‘جیوپولیٹیکل ریزسٹنس’’ کا نام دیا جائے تو یہ محض الفاظ کا کھیل نہیں رہتا، یہ خون کو قابلِ قبول بنانے کا عمل بن جاتا ہے۔ بلوچستان کو ایک اسٹرٹیجک پریشر پوائنٹ کے طور پر فریم کرنا دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ یہاں ہونے والی ہر ہلاکت ایک بڑے کھیل کی collateral damage ہے اور یہ سوچ بذاتِ خود ایک اخلاقی جرم ہے۔
بھارت اور اسرائیل کے مفادات یہاں ایک دوسرے سے جڑتے دکھائی دیتے ہیں، چاہے ان کی ترجیحات مختلف ہوں۔ بھارت کے لیے پاکستان کو اندر سے غیر مستحکم رکھنا ایک دیرینہ خواہش ہے، جبکہ اسرائیل کے لیے مسلم دنیا میں ایک مضبوط اور خود مختار ریاست کو دباؤ میں رکھنا اس کی سکیورٹی سوچ سے ہم آہنگ ہو سکتا ہے۔ بی ایل اے ان دونوں کے لیے ایک آسان ٹول ہے نہ ریاستی ذمہ داری، نہ براہِ راست جواب دہی، صرف انکار کی سہولت کے ساتھ پراکسی وار۔
لیکن تاریخ گواہ ہے کہ یہ حربے پاکستان کے خلاف کبھی کامیاب نہیں ہوئے۔ ماضی میں بھی جب بلوچستان کو آگ لگانے کی کوشش کی گئی، نتیجہ وہی نکلا ریاست بچ گئی، سازش بے نقاب ہوئی، اور نام نہاد آزادی کے علمبردار اپنے ہی بیانیے کے ملبے تلے دب گئے۔ حالیہ حملے بھی اسی سلسلے کی ایک ناکام کڑی ہیں۔ بی ایل اے میدان میں ہارا، بھارت سفارتی سطح پر پھر بے نقاب ہوا، اور اسرائیل سے جڑے بیانیاتی حلقوں کی اخلاقی دوغلا پن مزید واضح ہو گیا۔
اب اصل سوال یہ نہیں کہ دشمن کیا کر رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم اس بیانیاتی یلغار کا جواب کتنی مضبوطی سے دیتے ہیں۔ عسکری محاذ پر پیغام واضح ہے، مگر فکری اور سفارتی محاذ پر بھی اتنی ہی سختی درکار ہے۔ دنیا کو یہ بتانا ہوگا کہ بلوچستان کسی عالمی شطرنج کا خانہ نہیں، یہاں دہشت گردی کو کسی بھی نام سے قبول نہیں کیا جا سکتا، اور انسانی حقوق کے نام پر خونریزی کی وکالت کرنے والے خود انسانی اقدار کے مجرم ہیں۔

ٹیگز: