Wed, September 16, 2026

ملک دشمنوں پر سکوت ِمرگ کا نوٹیفکیشن

ملک دشمنوں پر سکوت ِمرگ کا نوٹیفکیشن


بہت سے سفید چہرے کالے ہو گئے ۔ پارسائی کے بہت سے بھرم بیچ چوراہے میں پھوٹ گئے ۔ پاکستان کے دوستوں اور دشمنوں کے درمیان واضح لکیر کھنچ گئی ۔افغانی اوربھارتی بیانیوں کی موت واقعہ ہو گئی۔ دفاع پاکستان مزید مضبوط ہو کر مضبوط ترین ہاتھوں میں چلا گیا ۔بیان مرصوص نے وطن عزیز میں پھیلی نفرت کی گندگی اور آلودگی کہیں افغان پہاڑوں کے دامن میں اورکہیں رافیل کے ملبے تلے دفن کردی۔ آپریشن سیندور دوبارہ کرنے کا مشورہ دینے والوں اوروالیوں کی شکست دیوار پر لکھی پڑھی جا سکتی ہے ۔ صفِ دشمناں میںباآواز بلند گریہ، زنجیر زنی اورماتم صاف سنائی اوردکھائی دے رہا ہے ۔ اسرائیلی اور بھارتی انوسٹمنٹ بحیرہ ہند میں ڈوب گئی ۔بچھڑے اور گائے کو ”مرشد“ مانے والے حالت ِ سوگ میں ہیں ۔پاکستان کو سری لنکا بنانے کی خواہش رکھنے والے اپنے منحوس بیانیوں کے قبرستان میں دفن ہو گئے ۔اللہ کے گھر کو ہائید پارک بنانے والوں کا انجام دنیا کے سامنے ہے ۔کہیں کہیں بجھتے چراغ بجھنے سے پہلے ٹمٹما رہے ہیں لیکن بجھ جائیں گے ۔ پاکستان کا بُرا سوچنے والوں کو بدترین انجام کی خبر ہو کہ پاکستان قیامت کی صبح تک قائم دائم رہے گا کہ یہ قائم رہنے کیلئے ہی تخلیق ہو ا تھا ۔ تاریخ نے میر جعفر اور میر صادق خود ہی الگ کردیئے ۔ ڈرٹی ہیری خود پر ہیرا پھیری کے الزامات غلط ثابت نہ کر سکا ۔ فتنہ کے جیل میں جانے کا پی ٹی آئی کو ایک فائدہ ضرور ہوا ہے کہ اُس کے بعد کسی نے ننگا کرنے کا الزام کسی ادارے پر نہیں لگایاجس سے یہ بات تو ثابت ہوتی ہے کہ یہ بھی ایک ذہن کی پیداوار تھی ۔بھارتی غنڈے اورتحریکی منڈے حیرت و حسرت سے اپنی تباہ حال بیانیوں کے مزارات پر کھڑے راہ فرار ڈھونڈ رہے ہیں ۔ آئس کے ڈیلر ،دہشتگردی کی انڈسٹری چلانے والے ،دفاعی اداروں پر حملہ کرنے والے ، بھارت سے ساز باز اور اسرائیل سے فنڈز اور مشورے لینے والے پاکستان کے اندر اور باہر ذلیل و خوار ہو رہے ہیں ۔ ایک نالائق فرد کو ریاست پر ترجیح دینے والوں کے حصے میں ایک طویل مخالفت کے بعد بھی سوائے ذلت کے کچھ نہیں آیا ۔ دنیا میں کبھی بھی کثرت رائے درست نہیں ہوتی اصل طاقت قوت ِ رائے میں ہوتی ہے کہ سو پاگل ایک دانشور پر تعداد کی بنیاد پر تو حاوی نہیں ہوسکتے۔افغانیوں کی رخصتی کا وقت قریب ترین آچکا اور افغانیوں کے بل بوتے پر بدمعاشی کرنے والوں ،افواج پاکستان کے جوانوں اور افسروں کو شہید کروانے والوں کے دن گنے جا چکے ۔ بُرے دن ختم ہونے کو ہیں کہ پہلی سیڑھی پر درست قدم رکھ دیا گیا ہے ۔ ساﺅتھ ایشیا میں پاکستان کا راج شروع ہو چکا ۔ ہم نے ثابت کیا کہ ہم طاقت یا کثرت سے مرغوب یا مغلوب ہونے والے نہیں ۔ ہمیں تر نوالہ سمجھنے والے تاریخ کے کوڑے دان میں جانے کیلئے تیار بیٹھے ہیں ،بس اعلانات کی باری ہے ۔ پاکستان آرمی کے ڈھانچے میں ہونے والی تبدیلیاں وقت کی ضرورت تھیں۔ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے ۔ماں نے بچوں کو بچانے کا بندوبست کرلیا ۔ تمام تر مخالفتوں اور بیانیوں کے باوجود فیلڈ مارشل عاصم منیر آنے والے پانچ سال کیلئے سید عاصم منیر کو آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کے منصب پر تقرری تاریخی مبارکباد کی مستحق ہے ۔ سید عاصم منیر کی افواج ِ پاکستان کیلئے خدمات اورروشن ماضی دیکھتے ہوئے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ آنے والے دن پاکستان کے دشمنوں پر بھاری ہیں ۔ فیلڈ مارشل آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسیز سید عاصم منیر نے وہ تما م طلسماتی جنگل شانِ بے نیازی سے روند ڈالے جو تحریکی سامریوں نے اُس کی راہ میں بسا رکھے تھے۔افواج ِ پاکستان کی اتنی کھلی دشمنی اس سے پہلے پاکستان میں کسی نے نہیں کی لیکن پاکستان میں ایسا ٹھنڈے مزاج کا ذہین ،افواج کا سربراہ بھی پہلے دیکھنے کو نہیں ملا۔ پاکستان کی تاریخ نے نئی کروٹ لے لی اب بال اتحادیوں کے کورٹ میں ہے ۔ انہیں من مرضی کا مینڈیٹ ،افواجِ پاکستان کی حمایت ،کمزور ترین اپوزیشن ¾ جھکی ہوئی بیوروکریسی ،عالمی حمایت سب کچھ میسر آ گیا ہے ۔ اب اس کے بعد شاید کوئی عذر ڈلیور نہ کرنے کا رہ نہیں جاتا ۔دفا ع مضبوط ہو تو ملک میں امن یقینی ہے اور تجارت کیلئے امن سب سے پہلی شرط ہے ۔ سو امید ِواثق ہے کہ پاکستان میں عام آدمی کے حالات بہتر ہوں گے ۔
عمران نیازی کو بطور وزیر اعظم پاکستان جب پنکی پیرنی ،گوگی اور بزدارکی کرپشن بارے میںاُس وقت کے آئی ایس آئی چیف عاصیم منیر نے اطلاع دی توعمران نیازی بجائے اس کے کہ اپنا گھر دیکھتا اُس نے صرف آٹھ ماہ بعد جنرل عاصیم مینر کو آئی ایس آئی چیف کے عہدہ سے ہٹا کر فیض حمید کو آئی ایس آئی کا سربراہ تعینات کردیا اور پھر سازشوں کی یہ تثلیث عمران نیازی ¾ فیض حمید اور بشری بی بی المشہور پنکی پیرنی کے درمیان قائم ہوئی جو پاکستان پر ایک طویل عرصہ تک راج کرنے کی سازش کررہے تھے ۔سازش ناکام ہونے پر پہلے میڈیا کمپین چلائی گئی اور پھر 9مئی کا سیاہ دن دیکھنے کو ملا ۔ فیض حمید کا نیٹ ورکر اعلیٰ عدلیہ سے لے کر انتظامیہ تک اور فوج سے لے کر افغانستان کے چائے کے کپ تک بنا تھا ۔فیض حمید اورعمران نیازی کی غیر اعلانیہ سپاہ یعنی خوارج نے پیش قدمی شروع کی اور افواج ِ پاکستان پر حملے کردئیے ۔ اس دوران بھارت اور افغانستان کا گٹھ جوڑ بھی کھل کر افغانستان ،کے پی کے اور بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے روپ میں سامنے آ گیا ۔بھارت کا پاکستان پرحملے اورذلت آمیز شکست کے بعد دنیا بھر میں بھارت کی جگ ہنسائی ہوئی لیکن پی ٹی آئی اُسے آخری دم تک نورا کشتی قرار دیتی رہی ۔ جنگ کے دوران افواج پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا پی ٹی آئی نے عروج پر رکھا حالانکہ بھارتی شکست اوراُس کے رافیل طیاروں کے گرنے کی اطلاع دنیا کو اُسی ٹرمپ نے دی تھی جس نے عمران نیازی کو رہا کروانا تھا لیکن یوتھیئے کسی کے نہ تو مستقل دوست ہیں اور نہ ہی کسی پر مستقل اعتماد کرتے ہیں ۔ پاکستان سرخرو ہوا ۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی موجود ہ تعیناتی ملک دشمنوں کیلئے الارمنگ صورت ِ حال ہے اور یہ یقینا پاکستان کا کوئی دشمن بھی کسی رعایت کا مستحق نہیں ہے ۔ محب وطن پاکستانی نئے آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز کو خوش آمدید کہتے ہیں ۔ یہ جشن منانے کا دن ہے ۔ خوشی کا دن ہے کہ ہمارے مذہب کو اسلامی ٹچ میں تبدیل کرنے والوں کو ،پاکستان کی عوام کے ساتھ مسلسل جھوٹ بولنے والوں کو ،بھارتی بیانیوں کو پاکستانی عوام کے ذہنوں میں ڈالنے والے غیر محب وطن اذہان کو ،جھوٹ کی سیاست کے زریعے پاکستان کو برباد کرنے کی ناکام کوشش کرنے والوں کو بدترین شکست ہوئی ہے ۔مسٹر فیلڈمارشل پاکستانی قوم آپ کے ساتھ پورے قد سے کھڑی ہے ۔ اللہ نے آپ کو موقع دیا ہے کہ آپ پاکستان کو باوقار بنانے میں اپنا اہم ترین کردار ادا کریں ۔ ضرورتوں اورسہولتوں کی منصفانہ تقسیم عام آدمی تک پہنچنی چاہیے ۔ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں قابل عزت اور لائق احترام ہیں اگر وہ پاکستان سے مخلص اور پاکستان کے آئین کی پابند ہیں تو ۔۔۔۔ورنہ اس ریاست سے افضل اگرکوئی ہے تو وہ صرف یہ ریاست ہی ہے جو ہم سب کا مستقبل ہے ۔ پاکستانیوں کی ایک کثیرتعداد نے اپنے سیاسی نظریات کو آپ کیلئے قربان کیا ہے سو آپ کی ذمہ داری بھی اِس حوالے سے پہلے سربراہان افواج پاکستان سے زیادہ بنتی ہے ۔ اس ملک کوسوڈان بنانے کا خواب دیکھنے والوں کو آئندہ کبھی خواب نہیں آنا چاہیے چہ جائیکہ وہ تعبیر کاآس رکھیں ۔ کم آن فیلڈ مارشل 

ٹیگز: