حکومت پاکستان، عسکری قیادت اور تمام سٹیک ہولڈرز ملک کے معاشی حالات کو سدھارنے اور بین الاقوامی منظر نامے میں اس کے تشخص کو مزید اجاگر کرنے کیلئے دن رات کوشاں ہیں اور اب ان کی کوششوں کے ثمرات بھی نظر آنے لگے ہیں، ایک جانب معیشت توانا ہو رہی ہے اور دوسری جانب بین الاقوامی اور سفارتی سطح پر پاکستان ایک اہم ملک کے طور پر ابھر رہا ہے جس کی مثال حال ہی میں امریکی اراکین کانگریس کا دورہ پاکستان تھا جس کو ان تمام امریکی اراکین کانگریس نے مثبت اور کامیاب قرار دیا۔ اس کے ساتھ پاکستان میں منعقد ہونے والا اوورسیز پاکستانیوں کا کنونشن ایک تاریخی لمحہ تھا جس میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے خطاب کرکے اوورسیز پاکستانیوں کا حوصلہ بڑھایا اور ملک دشمنوں کو واضح اور دو ٹوک پیغام دیا۔
اوورسیز پاکستانیز فاو¿نڈیشن کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا اور غیر معمولی کنونشن تھا، جس میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے بھرپور شرکت کی۔ شرکاءنے کنونشن کے انتظامات کو سراہتے ہوئے اسے ایک شاندار تجربہ قرار دیا، اور کہا کہ جس گرمجوشی اور عزت کے ساتھ ان کا استقبال کیا گیا، وہ پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ بیرون ملک پاکستانیوں کو پہلی بار اس سطح پر عزت و وقار دیا گیا، جو ان کے لیے باعثِ فخر لمحہ تھا۔
چیف آف آرمی سٹاف کا ولولہ انگیز خطاب اور وزیر اعظم کی پ±ر اثر تقریر کنونشن کے نمایاں پہلو رہے۔ حکومت نے نہ صرف اس تقریب کو کامیابی سے منعقد کیا بلکہ مہنگائی اور ڈالر پر قابو پاتے ہوئے بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے متعدد اقدامات بھی متعارف کرائے، جن میں 150,000 پاکستانیوں کو بیلاروس بھجوانے کا منصوبہ، سمندر پار پاکستانیوں کے لیے علیحدہ عدالتوں کی تجویز اور دیگر مراعات شامل ہیں۔اس کنونشن کے بعد قوی امید ہے کہ اب بیرون ملک مقیم پاکستانی نہ صرف سرمایہ کاری کریں گے بلکہ پاکستان میں سماجی خدمات کا بھی آغاز کریں گے۔
آرمی چیف کی اوورسیز پاکستانیوں کے کنونشن میں موجودگی سے ایک مختلف اور پرجوش ماحول دیکھنے کو ملا، جہاں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا جوش و خروش قابل دید تھا۔ انہوں نے آرمی چیف کی تقریر کو مکمل کمانڈ اینڈ کنٹرول کی عکاسی قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا آرمی چیف کی آواز، اعتماد، یقین اور عمل کی منصوبہ بندی سب کچھ ایک واضح اور مضبوط قیادت کی علامت رہے۔ پرجوش خطاب کے دوران اوورسیز پاکستانیوں کے ”پاکستان زندہ باد “کے نعروں نے ملک دشمنوں اور دہشتگردوں کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان کے نام پر سب ایک ہیں۔
اس تاریخی اور بے مثال اوورسیز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے واضح پیغام دیا کہ ایسی سرگرمیوں جن سے ملک کو نقصان پہنچے سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ ان کے بقول، حکومت اور ریاست دونوں اس بات پر مکمل طور پر متفق اور پرعزم ہیں کہ قومی سلامتی کے معاملے میں کسی بھی قسم کی نرمی کی کوئی گنجائش نہیں۔ آرمی چیف نے ہارڈ سٹیٹ کے حوالے سے بھی پائی جانے والی غلط فہمی کو انتہائی مدبرانہ انداز میں دور کیا، آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان اب ایک "ہارڈ اسٹیٹ" بنے گا، جس کا مطلب ہے کہ آئین اور قانون کی حکمرانی کو پوری سختی سے نافذ کیا جائے گا۔
ملک دشمن عناصر جو برین ڈرین کے حوالے سے منفی پروپیگنڈا کرتے ہیں اس کنونشن میں آرمی چیف نے ان کے اس پروپیگنڈے کا ایسا موثر جواب دیا ہے کہ اب تمام زبانیں خاموش ہیں، آرمی چیف نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ برین ڈرین نہیں بلکہ "برین گین" ہے۔یعنی قوم کی ذہانت اور صلاحیتیں ضائع نہیں ہو رہیں بلکہ یہ سرمایہ واپس آ رہا ہے۔ انہوں نے یہ پیغام بھی دیا کہ چند دہشت گرد ریاست پاکستان کو شکست نہیں دے سکتے۔ آرمی چیف نے فتنہ الخوارج، بلوچستان میں بی ایل اے کی دہشتگردی، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی بربریت اور غزہ پر غیر مبہم اور واضح موقف پیش کیا۔آرمی چیف نے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ مٹھی بھر دہشتگرد بلوچستان اور پاکستان کے روشن مستقبل کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔دہشتگردوں کی دس نسلیں بھی پاکستان اور بلوچستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔اگر یہ کہا جائے کہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی یہ تقریر ملک کو ایک مثبت، مضبوط اور آئینی سمت کی طرف لے جانے کی بھرپور کوشش ہے تو یہ بالکل درست ہوگا۔اس سے قبل بھی آرمی چیف نے تاجروں، صنعتکاروں کا اعتماد بحال کرنے کا قومی فریضہ ادا کیا۔ کراچی میں ملاقاتوں کے دوران صنعتکاروں نے سپہ سالار کی ملکی خدمت کی کاوشوں کو سراہا اور ان پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔ آرمی چیف نے تب بھی واضح کیا تھا کہ پاک فوج اپنے آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے حکومت کی بھرپور معاونت کرے گی اور جہاں ضرورت پڑی اپنا آئینی کردار ادا کرے گی۔ اسی اعتماد سازی کا تسلسل آرمی چیف کا حالیہ خطاب تھا جس سے پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند ہوگیا ہے۔۔ سب نے دیکھا کہ آرمی چیف کے خطاب کے دوران اوور سیز پاکستانی تالیاں بجاتے رہے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے رہے۔ جذبہ حب الوطنی سے سرشار یہ پاکستانی گویا اپنے سپہ سالار پر فخر محسوس کر رہے تھے۔۔
بلاشبہ ترقی کا سفر جاری ہے ملکی برآمدات بڑھ رہی ہیں ترسیلات زر آسمان کو چھو رہی ہیں۔۔ برطانیہ نے بھی حال ہی میں پاکستانی معیشت کو دو کھرب ڈالر تک لے جانے میں مدد دینے کا وعدہ کیا ہے یہ سب کچھ واضح کر رہا ہے کہ پاکستان بدل رہا ہے۔