گزشتہ روز میں اپنے محترم بھائی ارشاد بھٹی کا ایک وی لاگ سن رہا تھا، وہ اپنی روایتی دلیری سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محمد آصف کے بیٹے کی گاڑی تلے آ کے کچلی جانے والی دو بچیوں کی تفصیلات بتا رہے تھے، میں نے بھی اس موضوع پر لکھنے کا ارادہ اس لیے باندھا تھا یہ بچیاں ایک جسٹس کے بیٹے کی گاڑی تلے آ کے کچلی گئی ہیں، اگر وہ کسی جنرل کے بیٹے کی گاڑی تلے آ کے کچلی گئی ہوتیں، پہلی بات یہ ہے یہ خبر ہی سامنے نہ آتی، اگر آ بھی جاتی اس کے مندرجات اتنے حقائق پر مبنی نہ ہوتے جتنے حقائق پر مبنی اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس کے بیٹے کے حوالے سے سامنے لانے کی ہم جرا¿ت یا جسارت کر رہے ہیں۔ ارشاد بھٹی اس بات پر حیران تھے”اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محمد آصف فوری طور پر خود جائے وقوعہ پر پہنچے اور بجائے اس کے زخمی بچیوں کے لئے کچھ کرتے پہلے اپنے بیٹے اور ا±س کے دوستوں کو موقع سے فرار کرایا پھر اگلے روز شاید سارے معاملات طے کر کے بیٹے کو پولیس کے حوالے کر دیا“۔۔۔ اسلام آباد پولیس کے کچھ افسران جتنے ”ا±ٹھائی گیرے“ ہیں ممکن ہے ا±نہوں نے جسٹس صاحب سے کہا ہو”سر آپ اپنے بیٹے کو ہمارے حوالے کر کے کیوں ہمیں شرمندہ کر رہے ہیں؟ آپ اسے گھر پر ہی رکھیں، ہم نے اگر مناسب سمجھا خود آپ کے گھر آ کر تفتیش وغیرہ کر لیں گے، تفتیش وغیرہ کیا کرنی ہے خود آ کے آپ کو بتا دیں گے اس کیس کو کس انداز میں ہم نے حل کرنا ہے؟ جس سے آپ کی توقیر وغیرہ پر کوئی حرف نہ آئے، ایسے ”احسن اقدامات“ ہم آپ سے زیادہ طاقتور ادارے کے کچھ لوگوں کے لیے بھی کرتے رہتے ہیں، ”کارکردگی “ کے اعتبار سے آپ بھی ہمارے بھائی ہیں، لہٰذا یہ کیسے ممکن ہے آپ کے بیٹے پر کوئی آنچ بھی ہم آنے دیں“۔ ایک جج یا اس طرح کے دوسرے طاقتور لوگ کیا پورا معاشرہ ہی بے شرم، بے حیا ہے۔ جسٹس صاحب کی جگہ میں ہوتا میں بھی شاید یہی کرتا جو ا±نہوں نے کیا۔ اپنی طرف سے ا±نہوں نے اپنے بیٹے کو قانون کے حوالے کر دیا کیونکہ ا±نہیں پتہ ہے قانون ا±ن کا”دربان“ہے۔ یہاں آئین اور قانون چند طاقتوروں کے لیے ایک کھلونا بن کر رہ گیا ہے۔ یہ کھلونا وہ جب چاہیں توڑ دیتے ہیں کوئی ا±نہیں نہیں پوچھتا۔ اسی لیے میں مسلسل یہ عرض کرتا ہوں 1973ءمیں پاکستان کا اتنا لمبا چوڑا آئین لکھنے کی کیا ضرورت تھی؟ سیدھا سیدھا لکھ دیتے ”جس کی لاٹھی ا±س کی بھینس“، ہمارا عدالتی سسٹم یا ہماری عدلیہ تباہی یا بے عزتی کے جس مقام پہنچی ہوئی ہے وہاں اپنے اختیارات کے ناجائز یا اپنی مرضی کے استعمال میں ایک سول جج مان نہیں ہوتا ہائی کورٹ کا جج تو پھر بڑی توپ ہوتا ہے، ان حالات میں یہی کافی ہے جسٹس صاحب نے اپنے بیٹے کو پولیس کے حوالے کر دیا، اب پولیس کو بھی چاہیے وہ خود کو جسٹس صاحب کے بیٹے کے حوالے کر دے۔ ممکن ہے”غلام پولیس“ نے اب تک کر بھی دیا ہو۔ پاکستان میں طاقت وروں اور دولت مندوں کا شدید گٹھ جوڑ ہے، یہ سب ایک دوسرے کے رشتہ دار ہیں، جنرل صاحب نے بیٹی بڑے صنعت کار کے گھر بیاہی ہوئی ہے، صنعت کار نے اپنا بیٹا جج صاحب کو دیا ہوا ہے۔ جج صاحب نے اپنی بہن کسی بڑے بیوروکریٹ کے بھائی سے بیاہی ہوئی ہے۔ بیوروکریٹ نے اپنا بھائی کسی سیاست دان کے سپرد کیا ہوا ہے۔ یہ سب ایک دوسرے کے مامے چاچے، بھتیجے بھانجے، سالے بہنوئی اور داماد وغیرہ ہیں۔ کسی ایک پر کوئی مصیبت پڑے یہ سب اکٹھے ہو جاتے ہیں، جیسے کوئی کوا زخمی ہو جائے سیکڑوں کوے کاں کاں کرتے ا±س کے ارد گرد اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ اب اس گٹھ جوڑ میں ہماری صحافی برادری بھی شامل ہو گئی ہے۔ پچھلے دنوں مجھے پتہ چلا ہمارے ایک بڑے صحافی کی بیٹی نے ایک بڑے بیوروکریٹ کے بیٹے کو اپنے لیے خود ہی پھنسا لیا ہے، یہ ملک ان ہی جیسے طاقتوروں کے لیے بنا ہے۔ عوام اس میں خواہ مخواہ ہیں، کوئی مہذب م±لک اگر ہوتا جج صاحب جائے وقوعہ پر پہنچنے سے پہلے استعفیٰ دیتے، وہ فرماتے”میرا عہدہ انصاف کی راہ میں حائل ہو سکتا ہے“۔ ممکن ہے جج صاحب اپنے بیٹے کے معاملے میں کسی سے سفارش نہ کریں پر ہمارے معاشرے کا جو چلن یا جو روایات ہیں ا±ن کے مطابق جج صاحب کا بیٹا ہونا ہی کافی ہے۔ سسٹم خود بخود ا±س کے آگے سرنگوں ہو جاتا ہے۔ جس ماتحت جج کے پاس یہ کیس لگے گا جسٹس صاحب ا±س سے سفارش نہ بھی کریں کیا اپنے طور پر وہ یہ دباو¿ محسوس نہیں کرے گا ملزم اعلیٰ عدالت کے ایک جج کا بیٹا ہے؟ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی عزت پہلے جیسی کیوں نہیں رہی؟ خود کو بڑا ا±صول پسند ظاہر کر کے یا کرا کے عدلیہ بحالی تحریک میں جو نام اور مقام ا±نہوں نے بنایا تھا جب بحریہ ٹاو¿ن کے ملک ریاض نے ا±ن کے بیٹے پر کچھ الزامات عائد کیے ہمارا خیال تھا وہ اپنی اس”نمائشی یا خود ساختہ ا±صول پسندی“ کو قائم رکھتے ہوئے اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔ ایسے نہیں ہوا، ا±ن کے کچھ فیصلوں پر میں نے عرض کیا تھا”ہمارے ہاں قانون پہلے اندھا ہوتا تھا اب کانا ہوتا ہے“۔ اب سارے ملک کی نظریں اس کیس پر ہیں کہ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد آصف اپنے بیٹے کے معاملے میں کیا کردار ادا کرتے ہیں؟ پاکستان میں دو بچیوں کی جان جانے کی کوئی اہمیت نہیں، جسٹس صاحب سوچتے ہوں گے لوگ یا میڈیا ”معمولی سے اس واقعے“ پر ایسے ہی اتنی کھپ ڈال رہا ہے۔ انسان، پرندے، جانور، درخت اب کوئی یہاں محفوظ نہیں ہے ، ناروے اوسلو میں ایک میئر اپنی سائیکل پر دفتر جا رہی تھی راستے میں بلی کا ایک بچہ ا±س کی سائیکل تلے آ کر کچلا گیا، بلی کے بچے کو بچانے کی ا±س نے بہت کوشش کی مگر وہ نہیں بچا۔ میئر صاحبہ اپنے دفتر پہنچی، ایک کاغذ پر لکھا”آج میری وجہ سے ایک جان چلی گئی ہے، میں ذہنی طور پر اس قابل نہیں رہی اپنے فرائض صحیح طرح ادا کر سکوں، میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دیتی ہوں“۔ مہذب ملکوں میں جان کی قدر ہے، وہ انسان کی ہو یا جانور کی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایسی اعلیٰ اخلاقی مثال پاکستان کی تاریخ میں شاید ایک بھی نہیں ہو گی کوئی اپنی حرکت یا غلطی پر اتنا نادم ہوا ہو اس کا اعتراف کر کے اپنے عہدے سے وہ مستعفی ہو گیا ہو۔ اس ملک سے برکت ایسے ہی نہیں ا±ٹھی، دنیا میں ایسے ہی ہم ذلیل و رسوا نہیں ہوئے، ذلیل و ر±سوا ہونا ہمارا ”حق “ بنتا ہے، ہم اپنا یہ حق کسی کو چھیننے کی اجازت نہیں دیں گے۔