جہلم : آج 5 دسمبر کو میجر محمد اکرم شہید کا 54 واں یومِ شہادت بڑے عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ میجر اکرم شہید نے 1971 کی جنگ میں اپنی بے مثال جرات و شجاعت کے ذریعے نہ صرف دشمن کو ناکامی کا سامنا کرایا، بلکہ اپنی جان قربان کر کے وطن کی حفاظت کی عظیم مثال قائم کی۔ ان کی قربانی اور بہادری کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
میجر محمد اکرم 4 اپریل 1938 کو ضلع گجرات کے گاؤں ڈنگہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے خاندان کے بیشتر افراد پاک فوج سے تعلق رکھتے تھے، جس سے انہیں سپاہ گری اور بہادری وراثت میں ملی۔ میجر اکرم نے 1961 میں فوج میں شمولیت اختیار کی اور 1971 کی پاک بھارت جنگ کے دوران مشرقی پاکستان کے ہلی کے محاذ پر ایک کمپنی کی قیادت کی۔
جب دشمن نے ہلی کے دفاعی علاقے کو توڑنے کی کوشش کی، میجر اکرم اور ان کے جوانوں نے پانچ دن اور راتوں تک دشمن کے حملوں کا مقابلہ کیا۔ 5 دسمبر 1971 کو دشمن نے ان کی کمپنی کو چاروں طرف سے گھیر لیا، لیکن میجر اکرم نے اپنے جوانوں کو احتیاط سے گولہ بارود استعمال کرنے کی ہدایت کی تاکہ دشمن پر اچانک اور بھرپور حملہ کیا جا سکے۔ ان کے اس شجاعانہ فیصلے نے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔
آخرکار، دشمن کے حملے کو پسپا کرنے کے باوجود، میجر اکرم شہید ہو گئے۔ ان کی بے مثال بہادری کو سراہتے ہوئے پاکستان نے انہیں سب سے بڑے فوجی اعزاز نشانِ حیدر سے نوازا۔ ان کی قربانی کو نہ صرف پاکستان میں بلکہ دشمن کے فوجی حکام نے بھی تسلیم کیا۔
آج کے دن، ملک بھر کی مساجد میں میجر اکرم شہید کی روح کے لیے دعائیں کی گئی ہیں اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا۔ علماء کرام نے کہا کہ "شہداء کا خون قوم پر قرض ہے" اور یہ کہ "شہید ہمیشہ زندہ رہتے ہیں" کیونکہ قومیں اپنے محسنوں کو کبھی نہیں بھولتیں۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی میجر اکرم شہید کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ "ہلی کی سرزمین آج بھی میجر اکرم کی جرات اور شجاعت کی گواہ ہے۔ وہ دشمن کے حملوں کے سامنے دیوار بن کر کھڑے رہے اور ان کے جذبے نے ہلی کے دفاع کو مضبوط بنایا۔"
انہوں نے مزید کہا کہ "یہ معرکہ ثابت کرتا ہے کہ کم وسائل کے باوجود، اگر انسان میں ایمان، عزم اور جذبہ ہو تو وہ دشمن کو شکست دے سکتا ہے۔ میجر اکرم شہید کی قربانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ مشکل حالات میں ثابت قدم رہنا ہی اصل طاقت ہے۔"