Wed, September 16, 2026

لانس نائیک محمد محفوظ شہید کا 54 واں یومِ شہادت انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے

لانس نائیک محمد محفوظ شہید کا 54 واں یومِ شہادت انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے

راولپنڈی : آج پورے پاکستان میں لانس نائیک محمد محفوظ شہید کا 54 واں یومِ شہادت انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر  فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور سروسز چیفس نے شہید کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی قربانیوں کو یاد کیا۔

یومِ شہادت کا آغاز قرآن خوانی اور دعاؤں سے ہوا، جہاں علماء کرام نے شہید کی روح کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔ ملک بھر میں مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا تاکہ لانس نائیک محمد محفوظ کی بہادری اور قربانیوں کو اجاگر کیا جا سکے۔

لانس نائیک محمد محفوظ 25 اکتوبر 1944 کو ضلع راولپنڈی کے گاؤں پنڈ ملکاں میں پیدا ہوئے اور 1962 میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی۔ انہوں نے 1971 کی جنگ کے دوران واہگہ بارڈر پر بھارتی فوج کا بہادری سے مقابلہ کیا۔ جنگ کے دوران جب بھارتی فوج کی شیلنگ سے ان کی مشین گن تباہ ہوگئی اور دونوں ٹانگیں زخمی ہو گئیں، تو انہوں نے زخمی حالت میں بھی دشمن کے بنکر پر حملہ کیا اور بھارتی فوج کو پسپائی پر مجبور کیا۔ ان کی اس جرات کو بھارت کے فوجی بھی تسلیم کرتے ہیں۔

محمد محفوظ شہید نے ایک بھارتی سپاہی کو گلے سے دبوچ لیا تھا، لیکن ایک دوسرے بھارتی فوجی نے خنجر سے حملہ کر کے انہیں شہید کر دیا۔ ان کی بہادری کی بنا پر انہیں 23 مارچ 1972 کو سب سے بڑے فوجی اعزاز نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔ ان کے گاؤں کا نام بھی محفوظ آباد رکھا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق، لانس نائیک محمد محفوظ شہید کا یومِ شہادت پاکستان کی افواج کی قربانیوں کا آئینہ ہے۔ شہیدوں کی قربانیاں ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گی، اور پوری قوم اپنے بہادر سپوتوں پر فخر کرتی ہے۔

اس دن کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے، قوم لانس نائیک محمد محفوظ شہید کی عظمت کو یاد کرتی ہے اور ان کی قربانیوں کا شکر گزار ہے، جنہوں نے اپنی جان دی تاکہ ہم امن و سکون میں رہ سکیں۔

ٹیگز: