Wed, September 16, 2026

قومی اسمبلی میں کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی ، مذمتی قراردادیں منظور

قومی اسمبلی میں کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی ، مذمتی قراردادیں منظور

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں یومِ استحصال کشمیر کے موقع پر بھارت کے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف دو مذمتی قراردادیں پیش کی گئیں، جنہیں متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔

پہلی قرارداد وفاقی وزیر امیر مقام نے پیش کی، جس میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کیے جانے والے ظالمانہ اقدامات کی شدید مذمت کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت آج بھی کشمیر میں ظلم و جبر جاری رکھے ہوئے ہے، لیکن کشمیریوں کی جدوجہد نے بھارت کے غرور کو پست کر دیا ہے۔ امیر مقام نے پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے اسی دن احتجاج کی کال کو افسوسناک قرار دیا۔

دوسری قرارداد پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے انگریزی زبان میں پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم نہیں کی جا سکتی۔ شازیہ مری نے زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کا حل کشمیری عوام کی مرضی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہی ممکن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 5 اگست کا دن کشمیری عوام کے لیے یومِ سیاہ ہے، کیونکہ اس دن سے کشمیر میں مظالم کا ایک نیا باب شروع ہوا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستانی قوم کشمیری عوام کی ہر سطح پر حمایت جاری رکھے گی۔

ایوان نے دونوں قراردادوں کو متفقہ طور پر منظور کر کے کشمیری عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

ٹیگز: