دو روز قبل جو لوگ رات بارہ بجے تک جاگ رہے تھے ان کی تو خیر نیندہی حرام ہو گئی ہو گی اور باقی عوام صبح اٹھتے ہی بدترین پریشانی کا شکار ہو گئے ہوں گے کیونکہ رات گئے امریکہ ، اسرائیل یا ایران کی جانب سے نہیں بلکہ ہماری اپنی ہی حکومت کی جانب سے ایک انتہائی طاقتواور ملک گیر اثر رکھنے والے بم سے اپنے ہی عوام پر حملہ کر دیا گیا تھا۔
صبح سب سے پہلے اخبارات کی ہیڈلائنز دیکھیں اور پھر نیوز چینلز ملاحظہ کیے ہر طرف پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کے چرچے تھے۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ ٹرانسپورٹرز سے فوری طور پر کرائے بڑھانے کا اعلان کر دیا ، سبزی، پھل اور گوشت کے نرخوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا ۔ یعنی پیڑول کی قیمتیں بڑھنے کے اعلان کے فوراً بعد ہی اس کے اثرات بھی آنا شروع ہو گئے۔
گھر سے باہر نکلا تو پیارے دوست ملک عمران صاحب ، جو کنسٹرکشن کے بزنس سے وابستہ ہیں، سے ملاقات ہو گئی۔ ملک صاحب نے فرمایا کہ ایک محتاط اندازہ کے مطابق رات بارہ بجے سے دن بارہ بجے کے درمیان ان کی پراجیک کاسٹ میں آٹھ لاکھ روپے کا اضافہ ہو چکا ہے۔ میں نے استفسار کیا اتنا کوئیک ایکشن کیسے ممکن ہوا؟ تو جواب میں ملک صاحب مسکرائے اور کہنے لگے کہ ابھی سے ایکشن شروع ہو گا تو ہی ٹارگٹ پورے ہوں گے۔ بات کچھ سمجھ میں نہیں آئی کہ کون کس طرح کے ٹارگٹ پورے کرنے کے مشن پر ہے؟
ہاں تو بات تھی پیٹرول مہنگا ہونے کی۔ ہم نے تو پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ مستقل بنیادوں پر ہوتے دیکھا ہے لیکن عوام پر اس قسم کا حملہ کم ہی دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ تو وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ اس کے ذمہ دار امریکی حکومت ہے، اسرائیلی حکومت ہے، ایرانی حکومت ہے یا ہمارے اپنے شہباز شریف صاحب یا ان کے وزیر خزانہ اورنگزیب صاحب لیکن یہ بات سو فیصد کنفرم ہے کہ اس کے اثرات ہمارے عوام کو ہی بھگتنا پڑیں گے۔پہلے مرحلہ میں پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 24 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے 49 پیسے کے ہوشربا اضافے کی خبرآئی ۔یقینا اس قسم کی کوئی نیوز آئٹم گھر کے ہر فرد کے لیے لمحہ فکریہ بن جاتی ہے کیونکہ یہ اضافہ صرف گاڑی چلانے والوں کے لیے مسئلہ نہیں بنتا بلکہ اس کا اثر اس مزدور، کسان، دکاندار، طالب علم اور گھریلو خاتون تک پہنچتا ہے جو روزانہ اپنی محدود آمدنی میں گھر کا نظام چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ہمارے بھولے وزیر اعظم صاحب سمجھتے ہیں کہ عوام کو علم ہی نہیں کہ اس قسم کے بڑے فیصلوں کو ان کی مکمل آشرباد حاصل ہوتی ہے اسی لیے اس فیصلہ کے اطلاق سے اگلے ہی روز ’عوامی وزیراعظم‘ نے ایکشن لیا اور 137 روپے 24 پیسے کے ہوشربا اضافہ میں سے 80 روپے واپس لے لیے۔ بہت خوب یعنی کمال ہوشیاری سے 57.24روپے کا بڑا اضافہ عوام کے لیے قابل قبول بنا دیا۔
ہمارے ہاں اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ پیٹرول مہنگا ہونے کا اثر صرف ان لوگوں پر پڑتا ہے جو گاڑی رکھتے ہیں، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ جب پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہوتا ہے تو ٹرک اور بسوں کے کرائے بڑھ جاتے ہیں، سبزی اور پھل کھیت سے منڈی اور پھر منڈی سے دکان تک پہنچانے کا خرچ بڑھ جاتا ہے، گندم مل تک اور پھرآٹا دکان تک پہنچانے کی قیمت بڑھ جاتی ہے، سکول کالج ، دفتر جانا اور ہر قسم ٹرانسپورٹیشن مہنگی ہو جاتی ہے ۔ یوں مہنگائی کی ایک لہر پورے معاشرے میں پھیل جاتی ہے لیکن اس کا بدترین شکار غریب آدمی ہی بنتا ہے۔
فکر تو اس بات کی ہے کہ مہنگائی کی اس نئی لہر میں غربت، بےروزگاری اور لاقانونیت مزید بڑھ جائے گی ۔ متوسط طبقہ گھریلو ملازمین کو چھٹی دے دے گا، نچلا طبقہ اپنے بچوں کو سکول سے اٹھا کر کسی کام پر لگوا دے گا ،لوگ رکشہ ٹیکسی میں سفر کرنے سے احتراز کرنا شروع کر دیں گے جس سے پبلک ٹرانسپورٹ چلانے والوں کا کاروبار ٹھپ ہو کر رہ جائے گا اس کے علاوہ سٹریٹ کرائم اور جسم فروشی جیسے گھناونے جرائم میں اضافہ ہوجائے گا۔
زمینی حقیقت تو پہلے بھی یہی تھی کہ بے شمار گھروں میں لوگ دن میں صرف ایک وقت کا کھانا کھانے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ بعض گھروں میں گوشت تو مہینوں بعد پکایا جاتا ہے، اور بعض جگہوں پر دال تک ایک عیاشی بن چکی ہے۔لیکن مہنگائی کا یہ سونامی کہاں جا کر تھمے گا، تھمے گا بھی یا نہیں یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
اس تکلیف دہ صورتحال میں افسوسناک امر یہ ہے کہ حکمران اور مراعات یافتہ طبقہ کے اللے تللے اسی طرح سے جاری ہیں۔ وزیروں ، مشیروں اور بڑے بڑے سرکاری افسروں کے غیر ضروری پروٹوکول اپنی جگہ موجود ہیں، جبکہ عوام سے امید کی جاتی ہے کہ وہ صبر کریں اور قربانی دیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قربانی ہمیشہ عام آدمی ہی کیوں دے؟
انہیں کو ئی تو بتائے کہ قربانی کا مطلب غریب کی روٹی چھیننا نہیں بلکہ مراعات یافتہ طبقہ کی آسائشوں کو کم کرنا ہوتا ہے۔ اگر واقعی ملک مشکل حالات سے گزر رہا ہے تو سب سے پہلے حکمرانوں اور بڑے افسران کو اپنی مراعات کم کرنی پڑیں گی۔ سرکاری گاڑیوں کی تعداد کو کم کرنا ہو گا، غیر ضروری بیرونی دوروں کو محدود کرنا ہو گا اور دیگر عیاشیاں کم کرنا ہوں گی۔ صرف اسی طرح عوام کو بھی یہ احساس دلایا جا سکتا ہے کہ ان کے حکمران ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
آج سفید پوش طبقہ بھی شدید پریشانی کا شکار ہو چکا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نہ تو اتنے غریب ہیں کہ سرکاری امداد کے مستحق قرار پائیں اور نہ اتنے امیر ہیں کہ مہنگائی کو آسانی سے برداشت کر سکیں۔ یہ لوگ اپنی عزت نفس کی خاطر کسی سے مدد نہیں مانگتے لیکن اندر ہی اندر شدید ذہنی دبا¶ کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آمدنی وہی ہے لیکن اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔
عوام پہلے ہی بہت قربانیاں دے چکے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ مراعات یافتہ طبقہ بھی قربانی دے اور اپنی سہولتوں میں کمی کرے۔ اگر حکمران واقعی عوام کا اعتماد حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں عملی مثال قائم کرنی ہوگی۔ کیونکہ عوام اب الفاظ نہیں بلکہ عمل دیکھنا چاہتے ہیں۔ مہنگائی کا طوفان بدترین شدت اختیار کر چکا ہے اگر اب بھی اس سے نمنٹنے کے لیے ٹھوس اور عملی اقدامات نہ اٹھائے گئے تو ممکن ہے کہ اس صورتحال کا عوامی سطح پر ایسا ردعمل آئے جو پھر کسی کے بھی کنٹرول میں نہ آ سکے۔