قدرتی آفت ہویاکوئی انسانی مصیبت، ہر موقع پر ہمارا پہلا نشانہ تعلیم ہی ہوتا ہے۔ تعلیم کے تو ہم بڑے گیت گاتے اورنعرے لگاتے ہیں لیکن سچ پوچھیں تواس ملک میں ہم نے تعلیم کوکبھی وہ مقام اوراہمیت نہیں دی جواس کاحق تھا۔یہ حقیقت جانتے اورسمجھتے ہوئے کہ دنیاکے ہرمسئلے کاحل اورہرمرض کاعلاج تعلیم کے اندر موجودہے پھربھی ہم تعلیم سے اس طرح نظریں چراتے پھررہے ہیں کہ جیسے تعلیم ہماراکوئی دشمن ہو۔بچپن میں جب ہم سکول نہ جانے کے بہانے تراشتے توہمارے بڑے ایک ہی بات کہتے(سکول وائے مزے بہ کوے) سکول پڑھومزے کروگے۔اس وقت توان باتوں کی سمجھ نہیں آتی تھی لیکن آج جب اپنے آس پاس اوراردگرددیکھتے ہیں توواقعی وہی لوگ مزے کررہے ہیں جنہوں نے تعلیم کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا۔ اسی لئے اب ہمیں بھی جب سکول سے باہرکوئی بچہ ملتاہے توہماری اس کویہی نصیحت ہوتی ہے کہ (سکول وائے مزے بہ کوے)سکول پڑھو مزے کرو گے۔ کل گاﺅں سے شہر آئے یاسر استاد ملے تو برادرم ضابر استاد کی محبت و شفقت سے دو سال پہلے ان کے سکول گورنمنٹ ہائی سکول جوز میں طلبہ سے کی جانے والی کچھ نصیحتیں یاد آگئیں۔ جوبات آج ہم اس کالم کے ذریعے تعلیم کے کرتادھرتاﺅں سے کہہ رہے ہیں یہی بات ہم نے دوسال پہلے طلبہ سے بھی کی تھی کہ گزراوقت کبھی واپس نہیں آتا۔وقت پرکچھ پڑھ اور سیکھ لیاتومستقبل میں مزے کروگے نہیں تو پھردردرکی خاک چھانتے پھروگے۔خوددیکھ لیںان پڑھ اورجاہلوں کو کون پوچھتا ہے۔؟ تعلیم انسان کا پہلا اور آخری سہارا ہے۔ یہی تعلیم ہی توہے جوبندے کورب کی وحدانیت،قدرت اورمحبت سکھاتا و سمجھاتا ہے۔ یہی تعلیم توہے جس کے ذریعے نہ صرف انسان کو اس کے اذلی دشمن شیطان کی پہچان ہوتی ہے بلکہ اسی تعلیم کی برکت سے بھارت اوراسرائیل جیسے دشمنوں کے شرسے بچنے اورملک کودفاعی طور پر مضبوط بنانے کی راہیں بھی ملتی ہیں۔ غورسے دیکھیں تو کروناجیسی وباءکاعلاج اورامن کی راہ ہمیں تعلیم ہی دکھاتاوسکھاتاہے لیکن افسوس جب دنیا میں کرونا آیا تو ہم نے سکول، کالج اور یونیورسٹیوں کو بند کر کے پہلانشانہ ہی تعلیم کوبنایا۔اسی طرح اب جب امریکہ ایران جنگ کی وجہ سے توانائی بحران نے سراٹھایاہے توبھی ہماراپہلانشانہ تعلیم بناہے۔تعلیم کے بغیرتوانسان کچھ نہیں انسانیت کوانسانیت کاشرف ہی تعلیم کی وجہ سے ملا۔انسان کی زندگی سے اگرتعلیم کونکال دیاجائے توپھرپیچھے کچھ نہیں بچتا۔ ترقی یافتہ ممالک کے پیچھے مین ہاتھ اور کردار ہی تعلیم کا ہوتا ہے۔ جن قوموں اورلوگوں نے تعلیم کو ترجیح دی انہوں نے ترقی کے منازل طے کرنے کے ساتھ ہمیشہ دنیا پر حکمرانی کی۔ ہماری تباہی اور بربادی کی بنیادی وجہ ہی یہ ہے کہ ہم نے تعلیم کوہمیشہ دوسرے درجے پر رکھا۔ ماناکہ کچھ مجبوریوں کی وجہ سے بسااوقات حالات سے سمجھوتہ کرناپڑتاہے لیکن یہ توکوئی طریقہ نہیں کہ آپ تعلیمی سلسلے کوبریک لگانامعمول بنالیں۔ٹھیک ہے کروناکی وباءکے دوران تعلیمی سرگرمیوں کومعطل کرناناگزیرتھالیکن اب توانائی بحران کے نام پرتعلیم کوپھرسے نشانے پر لینا یہ ہرگز مناسب نہیں۔ کرونا وباءکے دوران اس ملک میں تعلیم کاجونقصان ہواہم توابھی تک صحیح طورپراس کاازالہ بھی نہیں کرسکے ہیں اوپرسے اب ہفتے میں دوتین دن تعلیمی ادارے بندہونے سے جوتعلیمی نقصان ہوگا اس کا تو اندازہ ہی نہیں۔سکولوں کی بندش جیسی غلط پالیسیاں اورنامناسب فیصلے کرکے ماحول کوہم خوداپنے ہاتھوں سے خراب کرتے ہیں اورپھرالزام طلبہ اورٹیچروں کو دیتے ہیں کہ وہ پڑھتے اورپڑھاتے نہیں۔ہمارے طلبہ اور اساتذہ جن حالات اور مشکلات سے گزر کر پڑھتے اورپڑھاتے ہیں۔ ان حالات اورمشکلات کودیکھ کران پرترس آنے لگتا ہے۔ سال بھرکی پڑھائی اور حاضری کو چھوڑیں آپ صرف بورڈ امتحانات کے دوران طلبہ اوراساتذہ کا حال دیکھیں توآپ کوان کے پڑھنے اور پڑھانے کا اندازہ ہو جائے گا۔ پنجاب، سندھ، بلوچستان اورگلگت بلتستان کانہیں پتہ لیکن ہمارے خیبرپختونخوا میں اس وقت نویں اوردسویں کلاس کے بورڈ امتحانات شروع ہوچکے ہیں۔ان امتحانات کے سلسلے میںطلبہ کے ساتھ ان کے اساتذہ کوجوپاپڑبیلنے پڑتے ہیں وہ ہم ہی جانتے ہیں۔ہم نے توتوانائی بحران کے نام پرہفتے میں دودن سکولوں کوتالے لگادیئے ہیں لیکن اس ملک میں ایسے ہزاروں طلبہ اوردرجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں سکول ایسے ہیں جن کاپٹرول اورڈیزل سے براہ راست کوئی تعلق ہی نہیں۔جوبچے پہاڑی علاقوں اورکچے راستوں پرروزانہ سکول جانے کےلئے ایک اوردوگھنٹے پیدل مارچ کرتے ہیں ان کاپٹرول سے کیالینادینا۔اول تواکثرتعلیمی اداروں کاپٹرول وتوانائی بحران کوجوش دینے سے کوئی لنک نہیں بنتا پھربھی تعلیمی اداروں کااگرتھوڑابہت تعلق ہو تواس کایہ مطلب نہیں کہ تعلیم کو قربانی کا بکرا بنایا جائے۔ اکثر اوقات بڑی اور قیمتی شئے کے لئے چھوٹی موٹی چیزوں کو قربان کرنا پڑتاہے اوراس میں کوئی قباحت بھی نہیں۔تعلیم کوئی عام اورمعمولی شے نہیںبلکہ یہ ہماری زندگی بھی ہے اورہمارامستقبل بھی۔باقی چیزوں کوہم اس پرقربان کرسکتے ہیں لیکن تعلیم کودوسری چیزوں پرقربان کرنایہ ہرگزہرگزمناسب نہیں۔اگربہت زیادہ مجبوری ہے اورلاک اپ کے بغیرواقعی کوئی چارہ نہیں تواس کے لئے تعلیمی اداروں کوبندکرنے کے بجائے بازاروں اورمارکیٹوں کوشیڈول اورطریقہ کارکے مطابق بند رکھنا زیادہ مناسب ہے۔ویسے بھی توانائیاں بازاروں اور مارکیٹوں میں زیادہ صرف ہوتی ہیں۔ تعلیمی اداروں میں توصرف طلبہ آتے ہیں اور اساتذہ۔ ان کے علاوہ تو کوئی بھول کربھی اس طرف رخ نہیں کرتاجبکہ بازاروں اورمارکیٹوں میں تووہ لوگ بھی پہنچ جایاکرتے ہیں جن کاکوئی کام بھی نہیں ہوتا۔ملک کواگرسچ میں کفایت شعاری کی راہ پر ڈالنا اور توانائی بحران سے نمٹنا ہے تو اس کا آغاز تعلیمی درسگاہوں سے نہیں نائٹ کلبوں، شادی ہالز، بازاروں اورمارکیٹوں سے کرناچاہئیے۔ترقی یافتہ ممالک میں شام سے پہلے بازار،مارکیٹیں اوردکانیں بندہوجاتی ہیں جبکہ ہمارے ہاں بازاراورمارکیٹس شام کے بعدصحیح طورپرکھلنے شروع ہوجاتے ہیں۔کیاتوانائی بچت کے لئے تاریک نما سکولز و کالجز کو منتخب کرنے والے ارباب اختیار و اقتدار کو نہیں پتہ کہ ہمارے ہاں رات گئے تک بازاروں اورمارکیٹوں میں گاڑیوں کی ریل پیل کے ساتھ خوب چراغاں بھی ہوتا ہے۔ آپ راتوں کوکھلنے والے نائٹ کلبوں، بازاروں اور مارکیٹوں کواگربندنہیں کرسکتے تو پھر خدارا تعلیم کوبھی بخش دیں کہ اس سے کسی ایک گھروفردکی نہیں بلکہ پوری قوم کامستقبل وابستہ ہے۔