Wed, September 16, 2026

پاپولر یا درست فیصلے ؟

پاپولر یا درست فیصلے ؟

سیاستدان کے لیے پاپولر یعنی مقبول فیصلہ،ایسا فیصلہ جو عوام دیکھنا اور سننا چاہتے ہیں کرنا انتہائی آسان ہوتا ہے ۔اس کی سیاست میں نئی جان ڈال دیتا ہے اس کی” بہہ جا بہہ جا“کروادیتا ہے لیکن پاپولر سیاست جہاں سیاستدان یا حکمران کے لیے آسانی پیدا کرتی ہے وہیں ملک کے لیے مشکلات کے پہاڑ کھڑے کرتی جاتی ہے۔سیاسی حکومتیں کوشش کرتی ہیں کہ کوئی درمیانی فیصلہ ہو۔بہت زیادہ پاپولر بھلے نہ ہو لیکن بالکل غلط نہ ہوجائے لیکن وزیراعظم شہبازشریف کے حصے سارے فیصلے ہی مشکل ترین آئے ہیں۔اس وقت ملک میں تیل کی قیمتوں کے فیصلے بھی ایسے ہی ہیں ۔ پاپولر سیاست انہیں قیمتیں برقرار یا کم کرنے کی طرف کھینچ رہی تھی لیکن ملک کے لیے ضروری فیصلے انہیں درست سمت کھینچ رہے تھے ۔ وزیراعظم شہبازشریف نے ایک بار پھر درست فیصلوں کو ترجیح دی ۔ عوام کی تنقید برداشت کی لیکن اپنے پیش رو کی طرح ملک کو نقصان پہنچا نے کی طرف نہیں گئے۔چوبیس گھنٹے بعد ایک بار پھر واپس پلٹے اور پٹرول کی قیمت میں اسی روپے کمی کرکے حکومتی گنجائش کے مطابق کچھ ریلیف بھی دیا ۔
سن دوہزار بائیس میں بھی ایک پاپولر فیصلہ کیا گیا جس کا خمیازہ اس ملک اور عوام نے ٹھیک ٹھاک بھگتا۔اگر اب شہبازشریف بھی اسی راستے پر چل پڑیں (جو کہ بہت آسان ہے )تو ان کی چارسالہ ”تپسیا“ بھنگ ہوجائے گی اور ملک پھر سری لنکا بننے کی راہ پر ہوگا یہی لوگ جو آج پٹرول مہنگا ہونے پر تنقید کنا ں ہیں وہی ملک کے ڈیفالٹ پر شہبازشریف کو مجرم ٹھہرائیں گے ۔سن دوہزار بائیس میں عمران خان صاحب کی حکومت تھی ۔اپوزیشن ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرچکی تھی ۔عمران خان صاحب اپنی حکومت بچانے کے لیے ہر حد تک جانے کو تیار تھے ۔ان سے کرسی کے بدلے جو کوئی کچھ بھی مانگتا وہ دینے کے لیے تیار ہوجاتے یہاں تک کہ آئین اور قانون کو ایک طرف رکھتے ہوئے انہوں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو تاحیات آرمی چیف رکھنے تک کی پیشکش کردی تھی بس اس کے بدلے وزارت عظمیٰ ان کے پاس رہنے کی شرط تھی۔ جب سیاسی طورپر بندوبست ان کے ہاتھ سے نکل رہا تھا ۔اتحادی ان کے ساتھ مزید چلنے کو تیار نہ تھے تو انہوں نے ایک انتہائی پاپولر فیصلہ کیا۔
پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام میں تھا۔وہ پروگرام جس کو لینے پر عمران خان خود کشی تک کو ترجیح دینے کے نعرے مارتے مارتے آئی ایم ایف سے قرض لے آئے تھے ۔عالمی مارکیٹ میں تیل مہنگا ہورہا تھااور ملک میں ڈالر کمزور۔ اس ساری صورتحال کا تقاضا تھا کہ آئی ایم ایف کے طے شدہ پروگرام پر عمل کرتے ہوئے پٹرول کی قیمت میں پندرہ سے بیس روپے کا اضافہ کیا جاتا ۔ یہ اس وقت کا درست فیصلہ تھا جبکہ پٹرول کی قیمت میں کمی ہر وقت ہی ایک پاپولر فیصلہ رہا ہے اس لیے عمران خان صاحب نے درست کی بجائے پاپولرفیصلے کو ترجیح دی اور پٹرول کی قیمت میں اضافے کی بجائے دس روپے فی لٹر کمی کا اعلان کردیا تاکہ اس کمزور سیاسی وقت میں عوام کی حمایت ان کے ساتھ ہواور عوام ان کی کرسی بچانے سڑکوں پر آجائیں لیکن عدم اعتماد کی صورت میں عوام کے سڑکوں پر آنے سے نہیں بلکہ اسمبلی کے اندر نمبر گیم پر فیصلہ ہوتا ہے اس لیے نمبر گیم میں عمران خان صاحب شکست کھاچکے تھے ۔ جو ان کے ساتھ اتحادیوں کو لائے تھے ان کے اشاروں پر پرویز الٰہی کے سوا تمام اتحادی واپسی کا راستہ ناپ چکے تھے۔ پرویز الٰہی کو بھی وزارت اعلیٰ کا لالچ دیا گیا اس لیے وہ ان کے ساتھ کھڑے رہے اور آخر کار خان نہیں تو کوئی بھی نہیں کے فلسفے پر عمل کرتے ہوئے اسمبلیاں تحلیل کرنے پر مجبور کرکے سب کو گھر بھیج دیا گیا۔
پٹرول سستا کرنے کے باجود عمران خان کی کرسی بچی اور نہ ہی پاکستان کے پلے کچھ بچا۔آئی ایم ایف ناراض ہوکر پروگرام درمیان میں چھوڑ کر الگ ہوگیا۔ملک میں مہنگائی کا طوفان آگیا۔ڈالر تیزی سے مضبوط اور روپیہ کمزور ہونے لگا۔وزیراعظم شہبازشریف نے حکومت سنبھالی تو فوری طورپر مشکل فیصلہ کرنے کی وہ پوزیشن میں نہیں تھے اس لیے دوماہ تک اسی طرح سستا پٹرول بکتا رہا۔حکومت کے ریوینیو میں مسلسل کمی آتی رہی ۔عمران خان کو سیاسی بیانیہ بنانے کا موقع مل گیا کہ جب تک وہ کرسی پر تھے سب ٹھیک تھا ان کی حکومت گری ہے تو سب کمزور ہونا شروع ہوگیا ۔ساتھ ہی پاکستان کے سری لنکا بننے کی موسیقی بھی پی ٹی آئی کی طرف سے شروع کردی گئی ۔ شہبازشریف کے پاس اس وقت بھی دوراستے تھے پہلا راستہ وہی پاپولر سیاست کا تھا کہ وہ پٹرول میں کی گئی کمی کو برقرار رہنے دیتے اور حکومتی خزانے سے سبسڈی دیتے رہتے ۔ کچھ عرصہ وزارت عظمیٰ کے مزے لوٹتے عوام کی ہمدردیاں سمیٹتے اور سری لنکا کی طرح ملک کو ڈیفالٹ ہونے دیتے ۔دوسراراستہ پاکستانیت کا راستہ تھا یہ مشکل ، سیاسی طورپر کٹھن مگر درست راستہ تھا۔ شہبازشریف نے ہمت کی اپنا سیاسی سرمایہ داو¿ پر لگایا اور ملک کی خاطر پٹرول کو عالمی مارکیٹ کے مطابق مہنگا کردیا ۔ عوام نے پی ڈی ایم سرکار کو گالیاں تک دیں۔عمران خان کی مقبولیت بڑھی ۔ن لیگ کے حصے میں بدنامی آئی لیکن پاکستا ن ڈیفالٹ سے بچ گیا۔پاکستان کی معیشت نے قدرے رفتار پکڑی اور دوہزار پچیس میں ہم معاشی طورپرکچھ مستحکم سفر پر روانہ ہوئے ۔
شہبازشریف نے پٹرول مہنگا کیا لیکن اس کے بعد اس سے بھی بڑا چیلنج آئی ایم ایف کو راضی کرکے دوبارہ پروگرام لینا تھا اس کے لیے شہبازسرکار کو پاپڑ بیلنے پڑے۔ عمران خان نے جو گرہیں ہاتھوں سے دی تھیں شہبازشریف کو وہ منہ سے کھولنا پڑیں۔آئی ایم ایف کا مشکل ترین پروگرام شہبازشریف کے حصے میں آیا لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری وہ خود آئی ایم ایف چیف سے ملے اور ان کو راضی کیا۔پاکستان کی ساکھ دوبارہ بحال کی ۔
ایران کی جنگ ہوئی تو شہبازشریف کا ایک اور امتحان شروع ہوگیا۔دنیا میں تیل کی قلت پیدا ہوئی ۔ عالمی مارکیٹ میں قیمتیں دوگنا ہو گئیں۔ شہبازشریف کے سامنے پھر دوراستے تھے ۔ایک وہی عمران خان والا پاپولر سیاست کا راستہ کہ جو معیشت اپنے ہاتھوں سے بہتر کی تھی اس کو خود ہی برباد ی کے راستے پر ڈال دیتے ۔ مہنگا تیل خرید کر سستا بیچتے جاتے قومی خزانہ لٹاتے اور ملک ڈیفالٹ ہوجاتا۔انہوں نے قومی بچت پالیسی اپنائی ۔وزرا نے تنخواہیں چھوڑ دیں ۔ترقیاتی بجٹ کو کٹ لگایا ۔ جو پیسے حاصل ہوئے وہ ایک ماہ تک عوام کو دے دیے اس امید پر کہ شاید جنگ ختم ہوجائے اور زندگی نارمل ہوجائے لیکن یہ جنگ طویل ہورہی تھی۔اس لیے شہبازشریف نے ایک بار پھر مشکل لیکن درست فیصلہ کیا اور پٹرول کی قیمت بڑھادی ۔اس پر تنقید ہوئی اور شدید ہوئی تو انہوں نے پھر عوام کی سنی اور پٹرول پر لیوی میں اسی روپے کی کمی کرکے پٹرول دوبارہ سستا کر دیا۔ لیکن یہ ناکافی تھا اس لیے صوبوں نے ہاتھ ملایا اور پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے پبلک ٹراسپورٹ مفت کردی۔ موٹرسائیکل والوں کو ماہانہ دوہزار روپے دینے کا اعلان ہوا۔سندھ میں بھی سبسڈی کا فیصلہ ہوا۔وفاق میں بھی ٹراسپورٹ فری ہوگئی ۔کسانوں کو فی ایکڑپندرہ سو روپے دیے جانے لگے۔ریل کے کرائے برقرار رکھے گئے ۔پرائیوٹ ٹرانسپورٹر ز کو سبسڈی جیسے اقدامات کیے گئے۔ مشکل وقت گزر جائےگا لیکن پاکستان شہباز شریف کا احسا ن مند رہے گا جس نے اپنی سیاست کے لیے پاپولر فیصلوں کی بجائے مشکل مگر درست فیصلے کیے۔

ٹیگز: