Wed, September 16, 2026

حجاب ہماری پہچان‘ فخراورحفاظت

حجاب ہماری پہچان‘ فخراورحفاظت

اسٹیج پر مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی باحجاب خواتین بیٹھی ہوئی تھیں۔ جن میں ڈاکٹر نرس‘ انجینئر‘ جج‘ وکیل‘ تاجر‘ پروفیسر‘ پائلٹ‘ فضائی میزبان‘ کمپیوٹر ماہرین‘ ماہر نفسیات‘ پولیس ایس ایس پی اور سول سروس آفیسر وغیرہ شامل تھیں۔ بیشتر کے  چہرے نقاب سے ڈھکے ہوئے تھے‘ پروگرام کی میزبان خود بھی باحجاب تھیں۔ انہوں نے پاکستان میں سول ایوارڈ صدارتی تمغۂ حسن کارکردگی  وصول کرنے والی پہلی باحجاب خاتون صحافی اور میڈیکل کے امتحانات میں دس گولڈ میڈل حاصل کرنے والی باحجاب ڈاکٹر کو بھی اسٹیج پر آنے کی دعوت دی۔ ان کی اسٹیج کی طرف آمد پر ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ اس پروگرام کا اہتمام خواتین کے حقوق اور انہیں معاشرے میں ان کا جائز مقام دلوانے کے لیئے کام کرنے والی ایک تنظیم کی طرف سے کیا گیا تھا۔ 4ستمبر کو دنیا بھر میں عالمی یوم حجاب منایا جاتا ہے یہ تقریب اسی سلسلے میں تھی۔ راقم بھی اس تقریب میں موجود تھی۔تقریب کا آغاز تلاوت و ترجمے سے ہوا۔ایف سی پی ایس کرنے والی ڈاکٹر نے سورۃ ا الاعراف اورا لاحزاب کی  چند آیات کی تلاوت اورترجمہ پڑھا۔
ترجمہ’’اے اولاد آدم ! ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے جسم کے قابلِ شرم حصوں کو ڈھانکے اور تمہاے لیئے جسم کی حفاظت اور زینت کا ذریعہ بھی ہو اور بہترین لباس تقویٰ کا لباس ہے۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے شاید کہ لوگ اس سے سبق لیں۔ اے بنی آدمؑ! ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں پھر اسی طرح فتنے میں مبتلا کر دے جس طرح اس نے تمہارے والدین کو جنت سے نکلوایا تھا اور ان کے لباس ان پر سے اتروا دیے تھے تاکہ ان کی شرمگاہیں ایک دوسرے کے سامنے کھولے‘‘۔ (الاعراف:26۔27)
’’اے نبی!اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلّو لٹکا لیا کریں۔ یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں۔ اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے‘‘۔ (الاحزاب: 59)
انجینئرنگ یونیورسٹی کی پروفیسر نے نعت اور حدیث پڑھی ’’الحیاء من الایمان‘‘ یعنی حیا ایمان کی ایک شاخ ہے۔اور’’الحیاء شطر الایمان‘‘ یعنی حیا نصف ایمان ہے۔ 
اسٹیج پر بیٹھ ہوئی خواتین کو اس موضوع پر خطاب کرنے کی دعوت دی گئی کہ ’’ آپ نے حجاب کیو ں کیا اور موجودہ دور میں آپ حجاب میں کیسے کام کر رہی ہیں ؟ ‘‘مختلف شعبوں میں کام کرنے والی خواتین نے بتایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھ کر حجاب کر رہی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے عورت پر حجاب فرض کیا ہے۔حجاب نے ہمیں عزت دی ‘لوگ ہمارا احترام کرتے ہیں۔حجاب ہماری پہچان ‘فخر اور حفاظت ہے ۔صدارتی ایوارڈ یافتہ صحافی خاتون کا کہنا تھا کہ میںنے جامعہ کراچی شعبۂ ابلاغ عامہ میں داخلہ لینے کے کچھ عرصہ بعد پردہ کرنا شروع کر دیا تھا۔قرآن پاک ترجمے  کے ساتھ پڑھنا شروع کیا تو احساس ہوا کہ دنیا فانی اور آخرت ہمیشہ کی ہے تو کیوں نہ آخرت کی کامیابی کے لیئے تیاری کی جائے۔ سورۃ الاحزاب اور النور میں بہت تفصیل کے ساتھ پردے کے احکامات پڑھے اور الحمدللہ پردہ کرنے کے لیئے عبایا پہننا شروع کیا۔اللہ کے فضل سے میں نے ایم اے میں پہلی پوزیشن لی اورپاکستان کے ایک بڑے اخبار سے وابستہ ہو گئی۔اس کے بعد ایک ٹی وی چینل میں کام کیا۔حجاب میں کام کر کے مجھے کبھی مشکل نہیں ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے ہر مشکل میرے لیئے آسان اور کامیابیاں عطا کیں۔ الحمدللہ
 حجاب اوڑھنے کے بعد فضائی میزبان کی پر کشش اور پر تعیش ملازمت چھوڑنے والی خاتون بتانے لگیںکہ جب ہم نے پہلی بار عمرے اور حج کے لیئے احرام پہنا تو خود کو بہت محفوظ محسوس کیا اور اللہ تعالیٰ سے عہد کیا کہ حج کے لیئے اپنا سر‘چہرہ اور جسم ڈھانپا ہے تو اسے ہمیشہ کے لیئے برقرار رکھنا ہے ۔حجاب کرنے کے بعد میرے لیئے فضائی میزبان کی ملازمت کرنا ممکن نہیں تھا۔ اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں اسی فضائی کمپنی کے ایک انتظامی شعبے میں حجاب کے ساتھ ملازمت کر رہی ہوں۔تنخواہ کے الاؤنسزبلا شبہ کم ہوئے ہیں لیکن مجھے اس کی فکر نہیں ۔اسٹیج پر بیٹھی نئی نویلی دلہن کوبھی خطاب کی دعوت دی گئی۔دلہن نے اپنی شادی کے بارے میں بتایا۔میری شادی چچا زاد سے ہوئی چچا اعلیٰ عہدے پرفائز ہیں۔اللہ نے نکاح کو آسان بنایا ہے ۔بارات میںصرف چچا کے گھر والے آئے۔ہمارے شادی ہال میں پردے کا مکمل انتظام اور کوئی میوزک نہیں تھا۔نکاح کے بعد صرف دولہا اسٹیج پر آیا۔کوئی تصویر نہیں بنی‘ ولیمہ بھی اسی طرح ہوا الحمدللہ۔ گولڈ میڈل حاصل کرنے والی ڈاکٹرنے کہا کہ ڈاکٹر بننے کے بعد بہت اچھے تجربات ہوئے۔نقاب میں ہمیشہ تحفظ کا احساس ہوا۔پردہ فرائض میں کبھی رکاوٹ نہیں بنا۔خواتین اور مردوں کے وارڈ میںمریضوں‘ڈاکٹروں اور طلبہ نے بہت احترام کیا۔کسی مرد نے کبھی بے تکلف ہونے کی کوشش نہیں کی۔میرے پردے کی وجہ سے ڈاکٹروں نے ہوٹلنگ میں مخلوط کی بجائے گھروں میں الگ دعوتیں کیں۔اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے میں دنیا کی بھی بھلائی ہے اور آخرت کی بھی۔اسٹیج پر بیٹھی ہوئی تمام مہمان خواتین نے پردہ کرنے کے بارے میں اسی طرح کی ایمان افرو ز عملی باتیں کر کے ثابت کیا کہ پردہ ترقی میں رکاوٹ نہیں ۔یہ مسلمان عورت کی پہچان ‘ فخر اور حفاظت ہے۔تقریب کی میزبان نے یوم حجاب کا پس منظر بتایا اوردنیا کے مختلف ممالک میں مسلمان طالبات پر حجاب کرنے کی پابندی کی مذمت کی ۔دعا کے ساتھ پروگرام کا اختتام ہوا۔
راقم کے ساتھ بیٹھی ہوئی خاتون کہنے لگیں۔ چند ماہ قبل میں اپنے شوہر کے ساتھ یورپ گئی۔ہمارا پہلا قیام آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں تھا۔ ویانا انٹرنیشنل ائیر پورٹ آسٹریا کا سب سے بڑا اورمصروف ترین ائیرپورٹ ہے۔یہاں امیگریشن کے مرحلے سے گزرنے کے لیئے جب بکراہت چہرے سے نقاب اتارا تو کاؤنٹر پر کھڑے ہوئے امیگریشن آفیسرنے سختی سے کہا ’’آسٹریا کے قوانین کے مطابق چہرے پرنقاب لگانا جرم ہے اس پر جرمانہ ہو سکتا ہے آپ چہرہ کھلا رکھیں‘‘۔یہ بات میرے لیئے بہت تکلیف دہ اور ناقابل عمل تھی۔میں نے یہ سوچ کر کہ اللہ تعالیٰ تو انسان کی شہ رگ سے بھی قریب ہیں اللہ سے ہی مدد مانگنی چاہیئے ۔ اسی وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ پردہ میں نے آپ کے لیئے کیا ہے آپ میری مدد فرمائیں۔ چہرے پر نقاب لینے کی بجائے جلدی سے بیگ میں رکھا ہوا کپڑے کا ماسک نکال کر لگا لیا۔انہیں ماسک پر اعتراض نہیں تھا۔اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ یورپی ممالک کے ایک ماہ کے دورے کے دوران گھر سے باہر ماسک لگا کرمکمل پردہ کیا۔برطانیہ کے شہر برڈفورڈ میں بہت سے پاکستانی آباد ہیں۔ یہاں مسلمان خواتین باپردہ نظر آئیں۔وہ اپنی شناخت کے ساتھ وہاں رہ رہی ہیں۔حجاب میں ملازمت بھی کر رہی ہیںیہی مسلمان خاتون کی پہچان ہے۔ 
 عالمی یوم حجاب کے سلسلے میں منعقدہ یہ تقریب بہت اہم اور مؤثر تھی۔مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے والی باحجاب خواتین کی گفتگو سن کر اندازہ ہوا کہ حجاب ترقی میں رکاوٹ نہیں۔اصل حجاب وہ ہے جس میں صرف سر یا چہرہ نہیں بلکہ سینہ بھی ڈھکا ہو۔حجاب فیشن نہیں فرض ہے۔آج ہم عالمی یومِ حجاب ان حالات میں منارہے ہیںجبکہ ہماری شامی‘ کشمیری‘ فلسطینی‘ مصری اور دیگر مقبوضہ علاقوں کی مسلمان بہنوںکے سر سے نہ صرف حجاب کھینچاجا رہا ہے بلکہ ا نکے ساتھ وہ سلوک کیا جا رہا ہے جس سے انسانیت بھی منہ چھپارہی ہے۔ ان خواتین نے حیا کا دامن سختی سے تھاما ہوا ہے۔یہ خواتین بے گھر ہوئی ہیں بے حجاب نہیں۔ان خواتین پر ہونے والے مظالم انسانی حقوق کے عالمی اورخواتین کے حقوق کے لیئے کام کرنے والے اداروں اور تنظیموں کے لیئے پیغام عمل ہے ۔

ٹیگز: