Wed, September 16, 2026

آبی ہتھیار اور ہماری حکمت عملی

آبی ہتھیار اور ہماری حکمت عملی

کچھ حقائق غور طلب ہیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ اُٹھائے گئے تو دیر ہوسکتی ہے۔دُشمن کی عزائم اور جنگ کے بدلتے طریقہ کار کو سمجھ کر ایک مربوط اور موثر طریقہ عمل کوبروئے کار نہ لایا گیا تو جان لیجیے کہ دُشمن کے مہلک وار تھمنے کی بجائے مزید بڑھیں گے ۔ایسے میں ارباب اختیار کی دہائیوں پر پھیلی عاقبت نااندیشی، حرص و لالچ اور قوم کُش پالیسیوں کو ترک نہ کیا گیا تو تباہ کن نتائج دیوار پر لکھے ہیں ۔یہ بات طے ہے کہ ہندو توا کی نفرت انگیز پالیسی میں ڈوبی نریندر مودی کی بھارتی سرکار اس وقت پاکستان کے خلاف جس ہتھیار کو پہلے سے بھی زیادہ استعمال کرنے جاری ہے وہ آبی دہشت گردی ہے اگر یہ جاری رہی تو شاید اسے پاکستان کے خلاف کسی اور حکمت عملی کی زیادہ ضرورت نہ رہے گی ۔ سرحد پر جنگ کی بجائے وہ پاکستان کو آبی جارحیت سے ہی خاطر خواہ نقصان پہنچا سکتا ہے۔پاکستان میں آنے والی حالیہ تباہی قدرت سے زیادہ انسان کی پیدا کردہ ہے۔ وسیع پیمانے پر آنے والے سیلاب کے نتیجے میں چار کھونٹ پھیلی تباہی حالات کے پنوں میں واشگاف انداز میں آگاہ کر رہی ہے کہ اس وقت پاکستان کے خلاف بھارت کے ہاتھ میں آبی دہشت گردی سب سے بڑا ہتھیار ہے جسے وہ آنے والے دور میں بار بار استعمال کرے گا۔اس ہتھیار کے استعمال کو یقینی بنانے میںبھارتی حدود کے اندر پاکستان کے دریائوں پر بنائے گئے متعدد ڈیموں کا کردار اہم ہے۔ طریقہ کار نہایت سادہ ہے ۔ موسم گرما اور سرما میں میں راوی ، ستلج اور جہلم کے پانی کا زیادہ حصہ روکا جائے گا تاکہ پاکستان کو بنجر بنایا جا سکے اور موسم برسات میں ان ڈیموںکے دروازے کھول کر سرزمین پاکستان پر سیلاب لاکر انفراسٹرکچر ،انسانی جانوں، مال مویشی اور کھڑی فصلوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جائے گا۔حالیہ سیلابوں کو آنے سے روکا جاسکتا تھا اگر بھارت اپنے ڈیموں سے تھو ڑا تھوڑا کر کے پانی چھوڑتا اور سندھ طاس معاہدہ کے مطابق پاکستان کو اسکی پیشگی اطلاع دیتا تاہم وہ ایسا نہیں کر رہا بلکہ ان ڈیموں کو لبالب بھرنے کے بعد یکدم پانی چھوڑ رہا ہے جو پاکستان اور بھارت کے اس حصے کا جہاں سکھوں کی بڑی آبادی موجود ہے تباہی لارہا ہے۔ظاہر ہے اس طرح بھارت بغیر لڑے پاکستان میں نہ صرف بڑی تباہی لاسکتا ہے بلکہ دفاعی اور سیکورٹی نقطہ نظر سے اہم سیٹ اپ کو بھی  نقصان پہنچا سکتا ہے۔
چناب میں ایک بار پھر آٹھ لاکھ کیوسک پانی چھوڑے جانے کی اطلاعات ہیں یقینا اس سے دریا کے سیلابی راستے میں آنے والا وسیع متاثرہ رقبے پر بربادی کی ایک نئی داستان لکھی جائیگی۔ یہ سلسلہ ابھی تھما نہیں ہے یہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ بدقسمتی سے ہمارے ارباب اختیار نے نہ ہی ماضی میں اور نہ ہی اب اس سے کچھ سیکھا ہے۔ نئے ڈیمز تو بہت دور کی بات وہ تو اس صورت حال کا پوری طرح ادراک کرنے میںبھی بُری طرح ناکام رہے جس کا سامنا اس وقت پاکستان کو ہے ۔ اُلٹا دریائوں کے سیلابی راستوں میں غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیوں کی بھرمار اور قبضوں نے صورت حال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ خاص طو ر پر گزشتہ ایک دھائی شہروں اور دریائوں کے اردگرد موجود سبزے اور زرعی رقبوں کے خاتمے نے نہ صرف فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ کیا بلکہ اجناس اور پھلوں کی پیداوار کو بھی نقصان پہنچایا۔سابق وزیر اعظم عمران خان کے دور میں دریائے راوی پر بڑی دھوم دھام سے شروع کیے گئے روڈا کے منصوبے کی ہی مثال لے لیجیے جسے ایک گیم چینجر کے طور پر پیش کیا گیا ۔ایک لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے پر محیط اس منصوبہ کو پاکستانی معیشت کو بہتری کی جانب گامزن کرنے کا ایک بڑا منصوبہ قرار دیا گیا ۔اس منصوبے کے تحت پانی کے دو بڑے ذخائر ، پختہ بند اور ایک بڑے جنگل سمیت متعدد پراجیکٹ بننے تھے ۔ نوید سنائی گئی کہ اس سے بڑی سطح پر ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری آئے گی ۔ درحقیقت اس سارے منصوبے کے پیچھے غیر قانونی ہائوسنگ سوسائیٹیوں کے مالکان کی وہ مافیا تھی جو دریائے راوی اور اسکے سیلابی راستوں پر قبضہ کرنا چاہتے تھے ۔ حکومتی مشینری کی مدد سے یہاں کے زمینداروں اور کسانوں سے انکی زمین زبردستی ہتھیا لی گئیں۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔پرائیوٹ سوسائٹی مافیا کو یہ خیال تھا کہ بھارت کی جانب سے ڈیم بنائے جانے کے بعد راوی میں پانی آنا بہت کم ہوجائے گا جس کے بعد وہ لاکھوں ایکڑ پر محیط سوکھ جانے والی زمین کو اونے پونے میں ہتھیا لیں گے۔ 
2018-19 میں شروع کیے جانے والے اس پراجیکٹ کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک اتھارٹی بنائی گی جہاں نہ صرف بھاری تنخواہوں پر افسرا ن کی ایک فوج بھرتی کی گئی۔ اس منصوبے کے تحت اور تو کچھ نہ ہوا ماسوائے اسکے کہ روڈا نے نہ صرف دریائے راوی کی ہزاروں ایکڑ اراضی ایک ایسی نجی سوسائٹی کو اونے پونے داموں بیچ دی جہاں سیلابی پانی آنے کی وجہ سے اس وقت سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ آہ وپکار مچی ہوئی ہے۔ اگر روڈا کے نقشے کو دیکھا جائے تو اسکے تینوں فیز راوی سائفن کے قریب سے شروع ہو کرشاہدرہ اور پھر ٹھوکر اور اس سے آگے تک رادی دریا کے بیڈ اور اسکے سیلابی راستوں پر بنے ہوئے ہیں ۔دریا راوی میں اگر ڈھائی لاکھ کیوسک تک بھی پانی آتا ہے تو اس منصوبے کو اپنے پانیوں کے ساتھ بہا کر لے جائے گا ۔سوچیے کہ اگر بھارت نے دریا راوی میں اس سے زیادہ پانی چھوڑ دیا تومزید کتنی تباہی آئے گی ۔یہ سیلابی پانی کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ ہوگی۔وقت آچکا ہے کہ ایسے منصوبوں کو ترک کر کے راوی کے سیلابی راستوں کو بحال کیا جائے اور جہاں ضرورت ہے وہاں بندوں کو مضبوط اورنئے بند تعمیر کیے جائیں۔ نئے ڈیمز اور پانی کے ذخیرے تعمیر کیے جائیں ۔ ویسے انڈیا کے باڈر کے ساتھ کچھ فاصلے سے کشمیر سے لیکر سندھ تک  طویل راستے پر باڈر کے ساتھ بڑے بڑے تالاب بنائے جاسکتے ہیں جہاں سیلابی اور بارشوں کے پانی کو سٹور کرکے ضرورت پڑے پر فصلوں کے لیے استعمال ہوسکتا ہے۔

ٹیگز: