سیلاب سے ابھی تو گرنے والے مکانوں اور زیر آب آنے والی زمینوں کا شمار ہو رہا ہے، چند ہفتے بعد جب اس کے کاروبار اور معیشت پر مرتب ہونے والے اعداد و شمار سامنے آئیں گے تو ہماری آنکھیں پھٹ جائیں گی۔ اس وقت نظر میں صرف ڈوبی ہوئی فصلیں، ٹوٹی ہوئی سڑکیں اور بے گھر خاندان ہیں لیکن پس منظر میں لاکھوں چھوٹے کاروبار صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں۔ جو ریڑھی والے، جو چھوٹے دکاندار، جو روزانہ کی مزدوری پر جینے والے تھے، ان کا روزگار پانی کے ریلے اپنے ساتھ بہا لے گیا۔ بڑے کاروبار کو بھی زبردست ضرب لگی ہے۔ کنسٹرکشن انڈسٹری کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے ٹھیکیدار، بلڈنگ میٹریل سپلائی کرنے والے، مزدور اور نقل و حمل سے وابستہ ہزاروں خاندان اربوں روپے کے نقصان کی زد میں ہیں۔
ہاؤسنگ، رئیل سٹیٹ اور بلڈنگ میٹریل کے شعبے اگرچہ وقتی نقصان اٹھائیں گے مگر یہ جلد سنبھل جائیں گے، اس لیے کہ ان کے مالکان زیادہ تر سیاسی طاقت رکھنے والے لوگ ہیں۔ یہ وہ طبقہ ہے جو نقصان ہونے پر نئی پالیسی بنوا لیتا ہے، سبسڈی لے لیتا ہے، یا قرض معاف کرا لیتا ہے۔ لہٰذا ان کے زخم زیادہ دن ہرے نہیں رہیں گے۔ اصل صدمہ ان طبقات کا ہے جن کے پاس کوئی سیاسی پشت پناہی نہیں، جن کے پاس نہ قرض معافی کا سہارا ہے اور نہ پالیسی سازوں تک رسائی۔ زرعی معیشت ایک عرصے سے لگاتار وار سہہ رہی ہے۔ پاکستان کی اڑتیس فیصد افرادی قوت براہ راست زراعت پر انحصار کرتی ہے اور یہ شعبہ قومی پیداوار کا تقریباً چوبیس فیصد ہے۔ کپاس اور چاول ہماری برآمدات کی بنیاد ہیں۔ اب جب ہزاروں ایکڑ پر پھیلی ہوئی فصلیں پانی تلے دب گئیں اور لاکھوں مویشی بہہ گئے تو سوال یہ ہے کہ وہ کارخانے کیسے چلیں گے جو پہلے ہی بجلی اور گیس کی قلت کے باعث نیم مردہ حالت میں تھے؟ برآمدات میں اضافے کی امید دم توڑتی جا رہی ہے۔ ٹیکسٹائل ملیں خام مال کے بغیر کیسے پیداوار دیں گی؟ چاول کی فصل تباہ ہونے سے غذائی بحران اور مہنگائی کی نئی لہر سراٹھا رہی ہے۔
بڑے بڑے عالمی ادارے اب تک جو اندازے دے رہے ہیں وہ دل دہلا دینے والے ہیں۔ صرف 2022 کے سیلاب نے پاکستان کو پندرہ ارب ڈالر سے زیادہ نقصان پہنچایا تھا۔ اس سال بھی ابتدائی اندازے اربوں ڈالر کے ہیں۔ دو کروڑ سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں، ہزاروں دیہات مٹ گئے ہیں اور پنجاب کے کئی اضلاع میں لاکھوں ایکڑ زمین پانی کے سمندر میں تبدیل ہو گئی ہے۔ آٹھ سو سے زیادہ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور صحت کا بحران الگ سر پر کھڑا ہے۔ جہاں کہیں نظر دوڑائیں، پانی ہی پانی اور بدبو دار گندگی ہے جس نے بیماریوں کو پھیلنے کا موقع دیا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ یہ سب صرف سیلاب نے کیا؟ جواب ہے نہیں۔ یہ اس بدعنوان اور نااہل نظام کی دین ہے جس نے ہمیں اس حال تک پہنچایا۔ دریا کے کناروں پر جو حفاظتی بند بنائے گئے وہ ناقص تھے، ان پر اربوں روپے خرچ دکھائے گئے مگر کام پائیدار نہ ہوا۔ جو آبی ذخیرے بننا چاہیے تھے وہ سیاسی مصلحتوں اور کرپشن کی بھینٹ چڑھ گئے۔ سیلابی نہروں اور قدرتی نالوں پر قبضہ مافیا نے عمارتیں کھڑی کر دیں اور طاقتور طبقے نے انہیں تحفظ دیا۔ جنہوں نے صدیوں پرانے دریائی راستوں کو بیچ کر ہاؤسنگ سکیمیں بنائیں، وہ آج اس تباہی کے اصل مجرم ہیں۔ ہم سب مل کر سیلاب کو کوس رہے ہیں لیکن ان ناسوروں کو کوئی نہیں پوچھتا جنہوں نے دریا کا گھر فروخت کر دیا۔ ملک میں بڑے لانگ مارچ دیکھے ہیں، کیا کوئی ایک لانگ مارچ ان بدعنوانوں کے خلاف نہیں نکلے گا؟ بڑے سرمایہ داروں اور طاقتور سیاسی گروہوں نے ہمیشہ خود کو بچانے کے لیے راستہ نکال لیا، کبھی پالیسی کی صورت میں، کبھی ریلیف پیکیج کے نام پر۔ مگر جو چھوٹا کاروباری ہے، جو کسان ہے، جو مزدور ہے، اس کے لیے کوئی سہارا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نقصان کا اصل بوجھ ان کندھوں پر جا گرتا ہے جو پہلے ہی بھوک اور غربت کے بوجھ تلے دبے ہوتے ہیں۔
آنے والے ہفتوں میں جب اصل معاشی اعداد و شمار سامنے آئیں گے تو یہ سب حقیقت اور زیادہ ننگی ہو جائے گی۔ چھوٹے کاروباروں کے ختم ہونے سے جو زنجیر ٹوٹے گی وہ بڑی صنعتوں کو کھینچ کر گرا دے گی۔ سپلائی چین رکنے سے مشینیں بند ہوں گی۔ مزدور بے روزگار ہوں گے۔ غذائی اجناس کی کمی سے قیمتیں آسمان کو چھوئیں گی۔ افراطِ زر بڑھے گا اور معیشت ایک نئے بحران میں دھکیل دی جائے گی۔ یہ سب ہم اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔
یہ اچھا لگا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز دفتر کے پُرسکون ماحول میں نہیں بیٹھیں۔ وہ دریاؤں کا جائزہ لینے پہنچ رہی ہیں، دکھی ماؤں کو گلے لگا رہی ہیں۔ ان کے سامنے بدعنوانی کی داستانیں آ رہی ہیں۔ کچھ دریائی علاقے انہوں نے واگزار کرانے کا حکم دیدیا ہے لیکن انہیں ابھی بہت سے طاقتور لوگوں پر ہاتھ ڈالنا ہو گا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی صرف بارش اور پانی کو الزام دیتے رہیں گے یا ان بدعنوان ہاتھوں کو پکڑیں گے جنہوں نے اس تباہی کی بنیاد رکھی؟ ہمارے ادارے موجود ہیں، ایس او پیز ہیں، ان لوگوں کو سولی پر کیوں نہیں لٹکایا جاتا جو لوگوں کی زندگی خطرے میں ڈالتے ہیں۔ بادشاہ بننا سب کو اچھا لگتا ہے لیکن بادشاہت کا منصب کچھ تقاضا کرتا ہے، گھر کا سربراہ سب کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔ یہ کیسی جمہوریت ہے جہاں جوابدہی کا تصور ہی نہیں، بدعنوان، قصور وار کو سزا نہیں ملتی، بیوروکریٹس آتے ہیں اور سیاست دان انہیں بھی خراب کر دیتے ہیں۔ دریا کو بیچنے والے، پشتے ناقص بنانے والے، آبی ذخائر نہ بننے دینے والے اور سیلابی راستوں پر قبضہ کرنے والے اصل مجرم ہیں۔ سیلاب محض ایک پردہ ہے، اس کے پیچھے کرپشن اور نااہلی کا وہ ڈھانچہ کھڑا ہے جس نے پوری قوم کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ اگلے چند ہفتوں میں جب معیشت کے زخم اعداد و شمار کی شکل میں کھلیں گے تو ہم سب کو اندازہ ہو گا کہ یہ پانی نہیں بلکہ وہ نظام ہے جس نے ہمیں ڈبو دیا۔ بقول شہزاد قیس:
دریا بہا کے لے گیا گڑیا کا کُل جہیز
افسوس، بے بسی کے سمندر میں ڈھل گیا
چاول، اناج، دالیں، مربے، اچار، گڑ
اِک سال کا تھا رِزق جو پانی میں گَل گیا
اے کاش جانور سبھی بن جاتے مچھلیاں
بے بس مویشی دیکھ کے پتھر پگھل گیا