Wed, September 16, 2026

جنگی تاریخ رقم کرنے والا ”معرکہ حق“

جنگی تاریخ رقم کرنے والا ”معرکہ حق“

دنیا میں جنگی تاریخ دیکھی جائے تو تمام اہم ترین جنگوں کا دورانیہ طویل مدتی رہا تاہم معرکہ حق نے ایسی تاریخ رقم کی کہ جدید دنیا میں جنگ کے اسلوب ہی بدل کر رکھ دئیے۔ معرکہ حق نے طاقت کی حقیقتیں ایسے آشکار کی ہیں کہ دنیا کے طاقتور ترین ممالک نے اپنی فوجی صلاحیتوں کا ازسرنو جائزہ لیا اور اپنے فوجی انسٹی ٹیوشنز میں پاکستان کی جنگی مہارت کو نصاب کا حصہ بنا لیا ہے۔ امریکہ سے چین تک، روس، برطانیہ سمیت یورپی ممالک نے پاکستان کی عالمگیر اور ناقابلِ یقین فتح کو اس صدی کا سب سے بڑا اپ سیٹ قرار دیا اور یوں پاکستان دنیا میں ایک ممتاز حیثیت اور بہادر قوم کے طور پر ایسا ابھرا کہ آج ایک سال گزر جانے کے بعد بھی پاکستان کی بھارت کے خلاف فتح کی داستان زبان زد عام ہے۔ بالخصوص امریکہ کے صدر ٹرمپ ہر روز اپنی پریس بریفننگ، بین الاقوامی دوروں اور عالمی پلیٹ فارم پر پاکستان کی فتح اور بھارت کی شکست کو موضوع گفتگو بناتے ہیں۔ چین جو دنیا میں ابھرتی ہوئی فوجی اور معاشی سپر پاور ہے وہاں پاکستان کی فتح کو اپنی فتح کے طور پر منایا گیا، پاکستان کے ترانے گائے گئے بھارت کو ہمیشہ سے اپنی طاقت کا گھمنڈ تھا اور اس میں یقینا گزشتہ سے پیوستہ واقعات کا کلیدی کردار تھا جس نے بھارت کو شہ دی۔ بالخصوص عمران احمد خان نیازی اور جنرل باجوہ رجیم نے پاکستان کی فوجی قوت کو اس قدر کمزور کیا اور اعلانیہ طور پر ایسی گفتگو کی گئی جس سے بھارت نے پہلے کشمیر پر قبضہ کیا جس پر عمران نیازی نے اپنے دورہ امریکہ کے بعد کہا آج محسوس ہو رہا ہے کہ کپ جیت کر آیا ہوں دراصل وہ کشمیر کا سودا کر کے آیا تھا، اوپر سے سونے پر سہاگا کہ جمعہ کی نماز کے بعد 1 منٹ کی خاموشی سے کشمیر کے عوام کے ساتھ بھیانک مذاق کیا گیا۔ جب پاکستان کی ایئر فورس نے بھارتی جارحیت کا جواب دیتے ہوئے اس کا جہاز گرایا اور پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کیا تو ورلڈ کپ کپتان نے اسے بھی ون ڈے میچ سمجھ کر ایک ہی دن میں مکمل پروٹوکول کے ساتھ واپس کر دیا۔ پھر جنرل باجوہ کا یہ بیان کہ ہمارے ٹینکوں میں تو تیل تک نہیں ہے ہم جنگ نہیں لڑ سکتے عمران نیازی کا فلور آف دی ہاو¿س پر بحیثیت وزیراعظم کھڑے ہوکر یہ کہنا کہ ”اب کیا بھارت پر بم مار دوں“۔ یہ وہ تاریخی پسِ منظر اور تلخ حقائق ہیں جس نے بھارت کو اتنی جرا¿ت دی کہ وہ پاکستان پر حملہ آور ہو۔ چنانچہ بھارت نے اسی خوش فہمی میں مبتلا ہو کر ایل او سی پر شر انگیزی اور پاکستان کے مختلف حصوں میں خود ساختہ ٹارگٹڈ حملے کر دئیے۔ بھارت کو معلوم نہیں تھا کہ اب باجوہ کی بجائے جرا¿ت و بہادری کی تصویر مرد میدان حافظ سید عاصم منیر پاک فوج کے سپہ سالار اور بزدل عمران خان کی جگہ اپنے نام کی طرح زیرک لیڈر میاں شہباز شریف وزیر اعظم پاکستان ہیں۔ پھر دنیا نے وہ نظارہ دیکھا کہ جس نے تاریخ رقم 
کی۔ پاکستان کی بہادر مسلح افواج اور اس کے سپہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قائدانہ اور حربی صلاحیتوں اور وزیراعظم شہباز شریف کی دلیرانہ اور بروقت فیصلہ سازی نے بھارت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ بھارت جو ہم سے 11 گنا بڑا ملک، فوجی سازو سامان، عسکری صلاحیتوں اور معاشی طور پر بھی ہم سے مضبوط تھا۔ جس کو پس پردہ دنیا کے بڑے ممالک کی مدد اور تائید حاصل تھی اور اسرائیل تو بھارت کے ساتھ پاکستان کے خلاف براہ راست میدان میں تھا۔ پاکستان کے سپہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تہجد ادا کی اور نماز فجر کی امامت کے بعد عین طریقہ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق قرآن کی آیات کی روشنی میں آپریشن ”بنیان مرصوص“ کا آغاز کیا اور صرف اور صرف چند منٹ میں اپنے سے 11 گنا بڑے ملک جس کے پاس جدید ترین ٹیکنالوجی اور اسلحہ سمیت فرانس کے مشہور زمانہ رافیل طیاروں کی بڑی کھیپ تھی اسے دیکھتے ہی دیکھتے نِیست و نابود کر دیا۔ بھارت کے گھمنڈ رافیل طیاروں کو فیل کر دیا گیا ہمارے بہادر شاہینوں نے پلک جھپکتے ہی بھارت کے 8 جنگی جہازوں کو پتنگوں کی طرح کاٹ گرایا، بھارتی فضائی دفاع کی ریڑھ کی ہڈی ایس 400 سسٹم کو بھارت میں گھس کر خاک میں ملا دیا۔ یوں دنیا میں اپنی طاقت کے نشے میں دھت بھارت بے بسی کی تصویر بن گیا۔ پاکستان کے عوام نے تحریک انصاف کی تمام تر کوششوں اور پاکستان اور پاک فوج کے خلاف سوشل میڈیا کمپئین کو رد کر دیا۔ علیمہ خان، عمر ایوب کی وطن دشمنی سے بھرپور پریس کانفرنس سمیت باہر بیٹھے غداران وطن بھگوڑوں کی بھارت کی فتح کیلیے لائیو ٹرانسمیشن کرنے والے واضح ملک دشمنوں کو جوتے کی نوک پر رکھا اور اپنی مسلح افواج اور سیاسی قیادت کے ساتھ مل کر دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ تاریخ شاید ہے کہ بڑے بوڑھوں، نوجوانوں مرد و خواتین اور بچوں نے کمال بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگ کے دوران ایسے مناظر ہمیشہ کے لیے فلم بند کرا دیئے کہ رہتی دنیا تک پاکستان کے عوام کی بہادری کی داستانیں سنائی جائیں گی۔ کہیں فوج میزائل چلا رہی ہے تو عوام کا جم غفیر آس پاس کھڑا نعرے لگا رہا ہے کہیں ڈرون گرایا جا رہا ہے تو میانوالی کا ایک سادھا سا بہادر جوان اپنی گن لے کر فوجی کے شانہ بشانہ فائر کر رہا ہے، سیالکوٹ بارڈر پر نوجوان ٹینکوں کے گولے اپنے بہادر فوجیوں کو تھما رہے ہیں تو لاہور کے غیور عوام اپنی بہادر افواج کے اوپر ٹنوں کے حساب سے گل پوشی کر رہے ہیں۔ ایسے ایسے نایاب اور ناقابلِ یقین مناظر ہیں کہ جن کو تصور کرتے ہی خون حب الوطنی کے جذبے سے سرشار جوش مارنے لگتا ہے۔
یہاں اگر وزارتِ اطلاعات و نشریات اور اس کے وزیر جناب عطا تارڑ کا تذکرہ نہ کیا جائے تو زیادتی ہو گی۔ وزارت اطلاعات کی ٹیم نے اپنے کنٹرول روم میں دشمن پر ایسا سائبر حملہ کیا کہ اس کا پانی و بجلی، ریلوے سمیت تمام نظام مفلوج ہو کر رہ گیا۔ بھارت کی ٹیلیوژن سکرینوں پر پاکستان زندہ باد اور پاک سر زمین شاد باد چلا دیا گیا۔ عطا تارڑ اور بدر شہباز وڑائچ جیسے محب وطن جانثاروں نے دشمن کو میڈیا کے میدان میں ناکوں چنے چبوا دئیے۔ وزارت اطلاعات کی ٹیم نے اپنی مسلح افواج کے ساتھ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں پر فتوحات کی تاریخ رقم کی۔ مسلح افواج کی سگنل کور نے روایتی جنگی حربوں سے نکل کر جدید جنگی ٹیکنالوجی کا ایسا شاندار استعمال کیا کہ سگنل کور کی کارکردگی بھی دنیا کے فوجی کمیونیکیشن سسٹم میں نصاب کا حصہ بن چکی ہے۔ بحریہ، بری اور فضائیہ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں بھارت کو ایسی عبرت ناک شکست دی ہے کہ اب وہ پاکستان پر تمام تر خواہشات کے باوجود جنگ مسلط کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اہم بات یہ ہے کہ پاکستان نے تاریخی سرحدوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سیالکوٹ سیکٹر میں ایک اہم علاقہ اور کالی ماتا کے مندر سے آگے تک پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرا رہا ہے۔ دشمن کی ہمت نہیں ہے کہ وہ اس حوالے سے بات کرے۔ مودی کی شکست کے ساتھ بھارت سے اسرائیل کی طرف بھیجے گئے لا تعداد تابوت آج بھی معمہ بنے ہوئے ہیں یہ ہم جانتے ہیں کہ ان کے اندر اسرائیلیوں کے شکست خوردہ ناپاک جسم تھے۔ بھارت کی شکست فرانسیسی مارکہ رافیل طیاروں، ایس 400 کی شکل میں رشیا کے دفاعی کاروبار کی شکست اور جے ایف 17 تھنڈر کی گرجدار فتح دراصل چین کی فتح ثابت ہوئی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جہاں پاکستان نے بھارت کو شکست دے کر خطے میں اپنی عسکری برتری حاصل اور طاقت کا توازن قائم کیا وہیں چائنہ مارکہ حربی ساز و سامان کی کامیابی نے دنیا کا رخ چین کی طرف کر دیا ہے۔ چین اور اس کے عوام نے اس تاریخی کارہائے نمایاں پر پاکستان کا شکریہ بھی ادا کیا۔ عالم اسلام میں پاکستان کی اس عظیم الشان فتح کے بعد شاندار جشن منایا گیا اور پاکستان نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کیا کہ ہم عالم اسلام کے سرخیل اور محافظ ہیں۔ بالخصوص سعودی عرب میں پاکستان کے حوالے سے نئی سوچ نے جنم لیا اور اب خلیج میں پاکستان کا کردار بڑھ چکا ہے۔ ہم اس عظیم الشان تاریخ ساز فتح پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اپنی مسلح افواج سپہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف اور فخر پاکستان ایئر چیف ظہیر احمد بابر سدھو اور دلیر وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ یقینا تاریخ ان مردان حر کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ اس بہادر قیادت نے پاکستان کو طاقتور ثابت کر دیا ہے۔ یقینا طاقت بہت بڑی دلیل ہے، اب دنیا سفارتی تعلقات، عالمی تنازعات کے حوالے سے پاکستان کو عالمی منظرنامے پر اہم ترین ملک اور امن کے ضامن کے طور پر مقام دیتی ہے۔

ٹیگز: