کیلیفورنیا: اقوامِ متحدہ نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے تیزی سے پھیلتے ہوئے استعمال کے ماحول پر پڑنے والے ممکنہ شدید اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دنیا بھر کی حکومتوں کو اس معاملے پر فوری اور سنجیدہ توجہ دینے کی تاکید کی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق اے آئی ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ توانائی کی کھپت، پانی کی طلب اور کاربن اخراج میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جو ماحولیاتی توازن کے لیے ایک سنگین چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اے آئی ڈیٹا سینٹرز بے حد زیادہ وسائل استعمال کرتے ہیں، جنہیں چلانے کے لیے بڑی مقدار میں بجلی درکار ہوتی ہے جبکہ انہیں ٹھنڈا رکھنے کے لیے پانی کا بھاری استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح ان مراکز کے قیام کے لیے وسیع زمین بھی درکار ہوتی ہے۔
کینیڈا میں قائم یو این انسٹیٹیوٹ فار واٹر، انوائرنمنٹ اینڈ ہیلتھ کی تحقیق میں مزید کہا گیا ہے کہ اے آئی کا ماحولیاتی اثر صرف ڈیٹا سینٹرز تک محدود نہیں بلکہ چپس کی تیاری، نایاب معدنیات کے استعمال اور تیزی سے بڑھتے ہوئے الیکٹرانک کچرے کے باعث بھی ماحول پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق صرف انفراسٹرکچر ہی نہیں بلکہ عام صارفین کی روزمرہ سرگرمیاں بھی اس صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہیں، جہاں ہر سوال، ہر ہدایت، ہر تصویر اور ہر سرچ کے لیے اضافی کمپیوٹنگ توانائی استعمال ہوتی ہے۔
اقوامِ متحدہ نے حکومتوں، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں پر زور دیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت سے متعلق پالیسی سازی میں ماحولیاتی اثرات کو بنیادی اہمیت دیں تاکہ اس ٹیکنالوجی کی ترقی ایک محفوظ اور پائیدار راستے پر جاری رہ سکے۔