واشنگٹن: امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر امریکی ایوانِ نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کی اہم ترین قرارداد منظور کر لی ہے۔ اس قرارداد کے بعد صدر اب کانگریس کی باقاعدہ منظوری کے بغیر ایران کے خلاف کسی بھی قسم کے نئے فوجی آپریشن یا جارحیت کا فیصلہ کرنے کے مجاز نہیں ہوں گے۔
ایوان میں ہونے والی اس سنسنی خیز ووٹنگ کے دوران کڑی لابی اور سیاسی دباؤ کے باوجود یہ قرارداد 208 کے مقابلے میں 215 ووٹوں کی اکثریت سے پاس ہوئی۔ خبر رساں اداروں کے مطابق صدر ٹرمپ کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب ان کی اپنی ہی ریپبلکن پارٹی کے 4 ارکان نے پارٹی پالیسی سے انحراف کیا اور صدارتی اختیارات کو محدود کرنے کے حق میں ووٹ ڈال کر اپوزیشن کا ساتھ دیا۔
قرارداد پیش کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صدر کو کسی بھی ممکنہ مہم جوئی اور مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور بڑی جنگ شروع کرنے سے روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے اس قرارداد پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے ملکی سلامتی کے خلاف قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے دہشت گردی کے خلاف صدر کی فوری کارروائی کرنے کی صلاحیت متاثر ہوگی۔